Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ﴿۲۲۵﴾ۙ

۲۲۵۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔


وَ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ﴿۲۲۶﴾ۙ

۲۲۶۔ اور جو کہتے ہیں اسے کرتے نہیں۔


اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ انۡتَصَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ﴿۲۲۷﴾٪

۲۲۷۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے اور کثرت سے اللہ کو یاد کریں اور مظلوم واقع ہونے کے بعد انتقام لیں اور ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کو پلٹ کر جائیں گے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم


طٰسٓ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَ کِتَابٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۱﴾

۱۔ طا، سین، یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔


ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾

۲۔ مومنین کے لیے ہدایت و بشارت ہیں۔

2۔ چونکہ اس قرآن سے فائدہ اٹھانے والے اہل ایمان ہی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ قرآن انہی کو ہدایت اور انہی کو بشارت دیتا ہے۔


الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ﴿۳﴾

۳۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

3۔ عقیدہ آخرت دنیوی زندگی کو معقولیت بخشتا اور خواہشات کو لگام دیتا ہے، جبکہ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے لیے یہی زندگی سب کچھ ہے اور انہیں کسی جوابدہی کا خوف نہیں ہے۔ اس لیے ان کی خواہشات کو لگام نہیں لگتی، جس کے نتیجے میں ان سے اطمینان و سکون سلب ہو جاتا ہے۔


اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ؕ﴿۴﴾

۴۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقینا ان کے لیے ہم نے ان کے افعال خوشنما بنا دیے ہیں پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔


اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ وَ ہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴿۵﴾

۵۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں ہوں گے۔


وَ اِنَّکَ لَتُلَقَّی الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ عَلِیۡمٍ﴿۶﴾

۶۔ اور (اے رسول) یہ قرآن آپ کو یقینا ایک حکیم، دانا کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔

6۔ ابتدائے بعثت میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جن حوصلہ شکن مشکلات کا سامنا تھا ان کے تناظر میں اس آیت کی تلاوت کی جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ قرآن ایک حکیم و علیم ذات کی طرف سے ہے۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مشکلات کا سامنا کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے اس میں علم کی کمی کا خدشہ ہے، نہ حکمت کے فقدان کا خوف ہے۔