Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ قُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ۹۷﴾

۹۷۔ اور کہدیجئے: اے میرے رب! میں شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

97۔ ہَمَزٰتِ : ہُمَزَۃٍ کے اصل معنی کسی چیز کو دبا کر نچوڑنے کے ہیں اور اسی سے عیب گوئی کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔


وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡنِ﴿۹۸﴾

۹۸۔ اور اے رب! میں ان کے میرے سامنے آنے سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔


حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ ﴿ۙ۹۹﴾

۹۹۔ (یہ غفلت میں پڑے ہیں) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ لے گی تو وہ کہے گا: میرے رب! مجھے واپس دنیا میں بھیج دے،


لَعَلِّیۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِیۡمَا تَرَکۡتُ کَلَّا ؕ اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَ قَآئِلُہَا ؕ وَ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ﴿۱۰۰﴾

۱۰۰۔ جس دنیا کو چھوڑ کر آیا ہوں شاید اس میں عمل صالح بجا لاؤں، ہرگز نہیں، یہ تو وہ جملہ ہے جسے وہ کہدے گا اور ان کے پیچھے اٹھائے جانے کے دن تک ایک برزخ حائل ہے۔

100۔ ارتقائی سفر میں واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ جس طرح انسان عالم جنین سے عالم نطفہ کی طرف واپس نہیں آ سکتا، اسی طرح عالم برزخ سے بھی واپسی ممکن نہیں ہے۔ برزخ، قبر سے لے کر قیامت تک کے عرصے کا نام ہے۔ برزخ دو چیزوں کے درمیان حد فاصل کو کہتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے: القبر روضۃ من ریاض الجنۃ او حفرۃ من حفر النار (الخرائج 1: 172) قبر جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہو گی یا آتش کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔

وَ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ بَرۡزَخٌ : اس آیت میں فرمایا: موت اور قیامت کے درمیان ایک برزخ یعنی حد فاصل ہے۔ لیکن اس حد فاصل میں زندگی بھی ہے۔ اس کی صراحت نہیں ہے، البتہ شہیدوں کی حیات بزرخی کے بارے میں صراحت موجود ہے۔ حیات برزخی کی نوعیت بھی ہمارے لیے معلوم نہیں ہے، چونکہ یہ حیات، دنیوی حیات کی طرح ہرگز نہیں۔ ہمارے نزدیک حیات برزخی مومن خالص اور کافر خالص کے لیے موجود ہے۔ باقی انسانوں کے لیے قبر کے سوال کے بعد حیات برزخی نہیں ہے۔ بعض اہل تحقیق نے برزخی زندگی کو عالم خواب کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ کچھ کو بہت شیریں خواب آتا ہے اور بعض کو ڈراونا خواب اور بعض کو کوئی خواب نہیں آتا۔


فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَلَاۤ اَنۡسَابَ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوۡنَ﴿۱۰۱﴾

۱۰۱۔ پھر جب صور میں پھونک ماری جائے گی تو ان میں اس دن نہ کوئی رشتہ داری رہے گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔

101۔ یہ دوسرا صور ہے جس کے پھونکنے سے سب زندہ ہو جائیں گے۔ فَلَاۤ اَنۡسَابَ بَیۡنَہُمۡ ۔ ان میں کوئی رشتہ داری نہیں رہے گی۔ رشتہ داری اور خاندان کی تشکیل، دنیوی اجتماعی زندگی کے لیے ضروری تھی۔ آخرت میں اس قسم کے سارے رشتے ٹوٹ جائیں گے اور ہر شخص کو انفرادی طور پر اللہ کو حساب دینا ہو گا۔ حدیث میں آیا ہے: کل نسب و صھر ینقطع یوم القیامۃ الا نسبی و صہری (الدرالمنثور، کنز العمال حدیث 31915) ہر نسب اور رشتہ قیامت کے دن ختم ہو جائے گا، سوائے میرے نسب اور رشتے کے۔

وَّ لَا یَتَسَآءَلُوۡنَ : نہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں گے۔ چونکہ ہر ایک کو اپنی فکر ہو گی۔


فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴿۱۰۲﴾

۱۰۲۔ پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی نجات پانے والے ہیں۔

102۔ ایک دوسرے کا حال پوچھنے کی حالت میں اس لیے نہیں ہوں گے کہ ہر ایک کو اپنے اعمال کا وزن دیکھنا ہو گا۔ اس ترازو پر نظریں جمی ہوئی ہوں گی، جس سے آنے والی ابدی زندگی کی تقدیر بننا ہے۔


وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فِیۡ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ﴿۱۰۳﴾ۚ

۱۰۳۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا ہو اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔


تَلۡفَحُ وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ وَ ہُمۡ فِیۡہَا کٰلِحُوۡنَ﴿۱۰۴﴾

۱۰۴۔ جہنم کی آگ ان کے چہروں کو جھلسا دے گی اور اس میں ان کی شکلیں بگڑی ہوئی ہوں گی۔


اَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ﴿۱۰۵﴾

۱۰۵۔ کیا تم وہی نہیں ہو کہ جب میری آیات تمہیں سنائی جاتیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے؟


قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَیۡنَا شِقۡوَتُنَا وَ کُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّیۡنَ﴿۱۰۶﴾

۱۰۶۔ وہ کہیں گے: ہمارے رب! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔