Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ مَنۡ یَّقُلۡ مِنۡہُمۡ اِنِّیۡۤ اِلٰہٌ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَذٰلِکَ نَجۡزِیۡہِ جَہَنَّمَ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ﴿٪۲۹﴾

۲۹۔ اور ان میں سے جو کوئی یہ کہدے کہ اللہ کے علاوہ میں بھی معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیتے ہیں، چنانچہ ظالموں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔


اَوَ لَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ﴿۳۰﴾

۳۰۔ کیا کفار اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ یہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کر دیا ہے اور تمام جاندار چیزوں کو ہم نے پانی سے بنایا ہے؟ تو کیا (پھر بھی) وہ ایمان نہیں لائیں گے ؟

30۔ رَتۡقً کے معنی یکجا ہونا اور فَتَقۡ کے معنی جدا ہونا ہیں۔ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ جن عناصر سے اجرام ارضی و سماوی وجود میں آئے ہیں، ان سب کا مادہ اصلیہ ایک تھا۔ ممکن ہے یہ مادہ ابتدا میں سحابی شکل میں ہو جس کو قرآن نے دخان (دھواں) کہا ہے اور بعد میں یہ اجرام سماوی و ارضی میں منقسم ہو کر جدا ہو گیا ہو۔ یہ رتق و فتق کے ایک مصداق کا ذکر ہے۔

امام باقر علیہ السلام کی ایک حدیث میں اس آیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ شروع میں آسمان اور زمین بند تھے، اللہ نے ان دونوں کو کھول دیا تو آسمان سے بارش ہوئی اور زمین سے پیداوار نیز اس امکان کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ کائنات کی ابتدا ایک نقطہ سے ہوئی جس کے پھیلنے سے تمام اجرام سماوی وجود میں آ گئے اور پھیلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کہتے ہیں فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ اس نظریے پر قرینہ ہے، چونکہ فطر شگافتہ کرنے کو کہتے ہیں۔

یہ بات تو اب سب کے لیے واضح ہو گئی ہے کہ ہر جاندار کے تخلیقی عناصر میں پانی کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ پانی حیات کے وجود و بقا دونوں کے لیے بنیاد ہے۔


وَ جَعَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِہِمۡ ۪ وَ جَعَلۡنَا فِیۡہَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ﴿۳۱﴾

۳۱۔ اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنا دیے تاکہ وہ لوگوں کو متزلزل نہ کرے اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنائے کہ لوگ راہ پائیں۔


وَ جَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا مَّحۡفُوۡظًا ۚۖ وَّ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہَا مُعۡرِضُوۡنَ﴿۳۲﴾

۳۲۔ اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا اور اس کے باوجود وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑتے ہیں۔


وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ﴿۳۳﴾

۳۳۔ اور اسی نے شب و روز اور آفتاب و ماہتاب پیدا کیے،یہ سب کسی نہ کسی فلک میں تیر رہے ہیں۔

33۔ یعنی کل کے کل اجرام فلکی اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ یہاں سکوت و سکون کہیں نظر نہیں آتا۔ ہر چیز گردش میں ہے۔


وَ مَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ الۡخُلۡدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الۡخٰلِدُوۡنَ ﴿۳۴﴾

۳۴۔ ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی انسان کو حیات جاودانی نہیں دی تو کیا اگر آپ انتقال کر جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے؟

34۔ مشرکین اپنے آپ کو یہ تسلی دیتے تھے کہ جب محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو ہم اور ہمارے معبود کو اس شخص سے تحفظ ملے گا۔ جواب میں فرمایا: محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دنیا سے رخصت ہو جائیں تو تمہیں حیات جاودانی نہیں ملے گی، تم نے بھی مرنا اور نابود ہونا ہے۔ لہٰذا تم محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد کسی کامیابی کی امید نہ رکھو۔ ہو سکتا ہے تم پہلے مر جاؤ۔


کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَ نَبۡلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَ الۡخَیۡرِ فِتۡنَۃً ؕ وَ اِلَیۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ﴿۳۵﴾

۳۵۔ ہر نفس کو موت (کا ذائقہ) چکھنا ہے اور ہم امتحان کے طور پر برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں مبتلا کرتے ہیں اور تم پلٹ کر ہماری ہی طرف آؤ گے۔

35۔نفس ذات کو کہتے ہیں۔ جیسے ہم کہتے ہیں: بنفس نفیس آیا، یعنی بذات خود آیا۔ پھر ذات انسان کے لیے استعمال ہونے لگا، جیسے فرمایا: ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ ۔ (اعراف: 189) پھر روح کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔ اسی سے خون کے لیے نفس کا استعمال ہونے لگا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے نفس سائلہ اچھلنے والا خون۔ موت، جسم کی روح سے جدائی کا نام ہے۔ خود روح کے لیے موت نہیں ہے۔

خیر کے ذریعے آزمائش، شر کے ذریعے آزمائش سے زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ غربت شر ہے۔ اس میں ممکن ہے کہ انسان کامیاب رہے، لیکن دولت خیر ہے، اس آزمائش میں کامیاب رہنا زیادہ مشکل ہے۔ اسی طرح محکوم ہونا بہتر ہے، شاید انسان صبر کرے۔ لیکن حاکم ہونا خیر ہے، اس میں کامیابی بہت کم نظر آتی ہے۔


وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّتَّخِذُوۡنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ؕ اَہٰذَا الَّذِیۡ یَذۡکُرُ اٰلِہَتَکُمۡ ۚ وَ ہُمۡ بِذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ﴿۳۶﴾

۳۶۔ اور کافر جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا بس استہزا کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہ وہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا (برے الفاظ میں) ذکر کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔

36۔ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مشرکین کے معبودوں کی برائی نہیں کرتے تھے۔ صرف یہ فرماتے تھے کہ تمہارے معبود تمہیں نہ فائدہ دے سکتے ہیں نہ ضرر پہنچا سکتے ہیں۔ اس کا مشرکین برا مانتے تھے۔


خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ سَاُورِیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ﴿۳۷﴾

۳۷۔ انسان عجلت پسند خلق ہوا ہے، عنقریب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا پس تم جلد بازی نہ کرو۔


وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۳۸﴾

۳۸۔ اور وہ کہتے ہیں: اگر آپ سچے ہیں تو بتائیں یہ (عذاب کا) وعدہ کب پورا ہو گا؟