Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِنَّہَا لَبِسَبِیۡلٍ مُّقِیۡمٍ﴿۷۶﴾

۷۶۔ اور یہ بستی زیر استعمال گزرگاہ میں (آج بھی) موجود ہے۔

76۔ سبیل مقیم غیر متروک راستے کو کہتے ہیں۔ قوم لوط کی تباہ شدہ بستی آباد گزر گاہ میں آج بھی موجود ہے۔ مکہ سے شام جاتے ہوئے راستے میں یہ تباہ شدہ علاقہ آج بھی قابل دید ہے۔ بعض جغرافیہ دانوں کے مطابق یہاں اس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔


اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ۷۷﴾

۷۷۔ اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا نشانی ہے ۔


وَ اِنۡ کَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾

۷۸۔اور ایکہ والے یقینا بڑے ظالم تھے۔

78۔ بعض روایات کے مطابق حضرت شعیب علیہ السلام دو قوموں مدین اور ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے اور بعض کتابوں کے مطابق ایکہ تبوک کا قدیم نام تھا اور بعض فرنگی مورخین کے مطابق ایکہ اور مدین ایک ہی بستی کے دو نام ہیں۔


فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ ۘ وَ اِنَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ٪۷۹﴾

۷۹۔ تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور یہ دونوں بستیاں ایک کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔


وَ لَقَدۡ کَذَّبَ اَصۡحٰبُ الۡحِجۡرِ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾

۸۰۔ اور بتحقیق حجر کے باشندوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی۔

80۔ حضرت صالح علیہ السلام ثمود کی طرف مبعوث ہوئے۔ ثمود کے دار الحکومت کا نام الحجر تھا۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو: اعراف آیت 74۔ پہاڑوں کے شکم کے اندر محفوظ ترین گھروں میں ہی ان کو ایک دھماکے کی آواز نے تباہ کر دیا اور ان کے محفوظ ترین مکان ان کی حفاظت نہ کر سکے۔


وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ اٰیٰتِنَا فَکَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾

۸۱۔ اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں لیکن وہ ان سے منہ پھیرتے تھے۔


وَ کَانُوۡا یَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا اٰمِنِیۡنَ﴿۸۲﴾

۸۲۔ اور وہ پہاڑوں کو تراش کر پر امن مکانات بناتے تھے ۔


فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُصۡبِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۳﴾

۸۳۔ اور انہیں صبح کے وقت ایک خوفناک آواز نے گرفت میں لے لیا۔


فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ؕ۸۴﴾

۸۴۔ پس جو وہ کیا کرتے تھے ان کے کام نہ آیا۔


وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ وَ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِیۡلَ﴿۸۵﴾

۸۵۔ اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان موجودات کو برحق پیدا کیا ہے اور قیامت یقینا آنے والی ہے لہٰذا (اے رسول)ان سے باوقار انداز میں درگزر کریں ۔

85۔ تخلیق کائنات ایک واہمہ اور خیال نہیں ہے، نہ ہی عبث اور بے مقصد وجود ہے، بلکہ اس کی تخلیق کے سامنے ایک حکمت، ایک مقصد اور ایک دستور ہے۔ اگر یہ کائنات ایک عبث اور فضول کے طور پر وجود میں آگئی ہوتی تو اسے بے مقصد ختم ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ روز قیامت آنے والا ہے۔ وہاں اس کائنات کی تخلیق کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ لہٰذا اے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم! آپ ان کی طرف سے ہونے والے استہزاء اور آزار سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر فرمائیں۔ الصَّفۡحَ الۡجَمِیۡلَ ایسا خوبصورت درگزر جس میں سرزنش اور غم و غصے کا اظہار نہ ہو۔ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پروردگار خلاق ہے۔ پورا تسلط رکھتا ہے۔ علیم ہے، ان کے اعمال پر نظر رکھتا ہے کہ وہ ایسی ذات کی گرفت سے چھٹ کر کہاں جائیں گے جو طاقت بھی رکھتی ہے اور علم بھی۔ کیونکہ کسی کمزور اور کسی ناداں سے تو ممکن ہے راہ فرار مل جائے مگر اللہ سے نہیں۔

85۔ اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان موجودات کو برحق پیدا کیا ہے اور قیامت یقینا آنے والی ہے لہٰذا (اے رسول) ان سے باوقار انداز میں درگزر کریں۔٭