Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ ہٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِیۡنَ﴿۶۶﴾

۶۶۔ اور ہم نے لوط کو اپنا فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔


وَ جَآءَ اَہۡلُ الۡمَدِیۡنَۃِ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ﴿۶۷﴾

۶۷۔ ادھر شہر کے لوگ خوشیاں مناتے (لوط کے گھر) آئے۔


قَالَ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ ضَیۡفِیۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ ﴿ۙ۶۸﴾

۶۸۔ لوط نے کہا: بلا شبہ یہ میرے مہمان ہیں لہٰذا تم مجھے رسوا نہ کرو۔


وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ لَا تُخۡزُوۡنِ﴿۶۹﴾

۶۹۔ اور اللہ سے ڈرو اور مجھے بدنام نہ کرو۔


قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ نَنۡہَکَ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿۷۰﴾

۷۰۔ کہنے لگے: کیا ہم نے تمہیں ساری دنیا کے لوگوں (کی پذیرائی ) سے منع نہیں کیا تھا؟


قَالَ ہٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیۡۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾

۷۱۔ لوط نے کہا: یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو۔

67تا 71۔ ترتیب آیات واقعہ کی ترتیب کے مطابق اس لیے نہیں ہے کہ قرآن اپنی غرض بیان کے مطابق واقعات بیان کرتا ہے۔

قوم لوط کے بارے میں تلمود میں کچھ ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ لکھتے ہیں: کوئی مسافر ان علاقوں سے بخیریت نہ گزر سکتا تھا اور کوئی غریب ان بستیوں سے روٹی کا ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔ بارہا ایسا ہوا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا اور یہ اس کے کپڑے اتار کر برہنہ دفن کر دیتے۔

اس طرح اس قوم کا یہ معمول تھا کہ مسافروں کو لوٹ لیا جائے یا ان سے اپنی ہوس پوری کریں۔ حضرت لوط کے مہمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا تھا۔ چنانچہ قوم لوط کی اس بات سے ان کے اخلاق کی پستی کا اندازہ ہوتا ہے، جو انہوں نے حضرت لوط سے کہا: ہم نے تمہیں ساری دنیا کے لوگوں کی پذیرائی سے منع نہیں کیا تھا۔ گویا کہ مہمانوں کی پزیرائی ان کے اخلاق میں جرم سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر خوشیاں منانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر اخلاقی پستی میں مبتلا تھے۔ چنانچہ حضرت لوط ان کو جائز طریقے سے خواہشات پوری کرنے کی پیشکش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔


لَعَمۡرُکَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ سَکۡرَتِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ﴿۷۲﴾

۷۲۔ (اے رسول) آپ کی زندگی کی قسم! یقینا وہ بدمستی میں مدہوش تھے۔

72۔ ابن عباس کہتے ہیں: اللہ نے محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے افضل کسی کو پیدا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے صرف آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کی قسم کھائی ہے۔


فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُشۡرِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾

۷۳۔ پھر سورج نکلتے وقت انہیں خوفناک آواز نے گرفت میں لے لیا۔


فَجَعَلۡنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿ؕ۷۴﴾

۷۴۔ پھر ہم نے اس بستی کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا اور ہم نے ان پر کنکریلے پتھر برسائے۔


اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِیۡنَ﴿۷۵﴾

۷۵۔ اس واقعہ میں صاحبان فراست کے لیے نشانیاں ہیں۔

75۔ مُتَوَسِّمِیۡنَ : (و س م) التوسم کے معنی آثار و قرائن سے کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنے کے ہیں اور اسے علم ذکاوت و فراست اور فطانت بھی کہا جاتا ہے۔