Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ۲۳﴾

۲۳۔(یعنی) ایسی دائمی جنتیں ہیں جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آبا اور ان کی بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی اور فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے۔


سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ؕ۲۴﴾

۲۴۔ (اور کہیں گے) تم پر سلامتی ہو یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے، پس عاقبت کا گھر کیا ہی عمدہ گھر ہے۔

23۔24 آخرت کا گھر وہ دائمی جنت ہو گی جس میں وہ اپنے تمام صالح اور نیک رشتہ داروں کے ساتھ رہیں گے۔ اگرچہ آیت میں باپ دادا، بیویوں اور اولاد کا ذکر ہے، لیکن ان تین رشتوں کے ذکر میں تمام رشتہ دار آ گئے، کیونکہ آباء میں باپ دادا آگئے۔ ازواج یعنی باپ دادا کی ازواج میں اولاد کی مائیں آ گئیں۔ ذریات میں بھائی بہن اور ان کی اولاد شامل ہو گئی۔ اس طرح نہایت مختصر الفاظ میں انسان کے خاندان کے اہم ترین افراد کا ذکر آگیا۔

سابق الذکر اوصاف میں سے فرشتے صرف صبر کا ذکر اس لیے کریں گے کہ باقی تمام اعمال کے لیے صبر درکار ہوتا ہے۔ صبر کے بغیر نہ اطاعت ہو سکتی ہے، نہ معصیت سے اجتناب۔


وَ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ﴿۲۵﴾

۲۵۔ اور جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں منقطع کر دیتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ایسے ہی لوگوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے ٹھکانا بھی برا ہو گا۔

25۔ صاحبان عقل کے مقابلے میں دنیا پرستوں کا ذکر آیا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے اور جو نیک اعمال صاحبان عقل انجام دیتے ہیں، یہ لوگ اس کے خلاف حرکتوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ وفائے عہد کی جگہ عہد شکنی کرتے ہیں۔ ان رشتوں کو قطع کرتے ہیں جنہیں جوڑنے کا حکم ہے اور وہ خوف خدا، خوف عاقبت، صبر و استقامت اور اقامہ نماز، راہ خدا میں انفاق اور نیکی کے ذریعے برائی کو دور کرنے کی جگہ فساد پھیلاتے ہیں۔ مذکورہ اعمال کے مقابلے میں فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ کے ذکر سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان اعمال میں اصلاح فی الارض مضمر ہے۔


اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ وَ فَرِحُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ﴿٪۲۶﴾

۲۶۔ اللہ جس کی چاہے روزی بڑھاتا ہے اور گھٹاتا ہے اور لوگ دنیاوی زندگی پر خوش ہیں جب کہ دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک ( عارضی) سامان ہے۔


وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ اَنَابَ ﴿ۖۚ۲۷﴾

۲۷۔ اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ کہتے ہیں: اس (رسول) پر اپنے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں ہوتا؟ کہدیجئے: اللہ جسے چاہے گمراہ کر دیتا ہے اور جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتا ہے اپنی طرف اس کی رہنمائی فرماتا ہے۔

27۔ ان کا ایمان نہ لانا معجزات کے فقدان کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ توجہ الی اللہ نہ ہونے کی وجہ سے ہے، جس کی دجہ سے اللہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے تو وہ گمراہ ہو جاتے ہیں۔


اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾

۲۸۔ (یہ لوگ ہیں) جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دل یادِ خدا سے مطمئن ہو جاتے ہیں یاد رکھو! یاد خدا سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔

28۔ انسان کے وجود کے اندر ایک اور انسان ہے جسے ہم ضمیر، وجدان، قلب اور فطرت کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ ہمارا داخلی انسان یعنی ہمارا ضمیر اور وجدان کبھی کوئی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لیکن ظاہری انسان جب کبھی جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو داخلی انسان سرزنش اور محاسبہ کرتا ہے، جسے ہم ضمیر کی ملامت کہتے ہیں۔ اس صورت میں ان دونوں انسانوں میں داخلی جنگ چھڑ جاتی ہے اور انسان اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر ظاہری انسان داخلی انسان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے تو داخلی ہم آہنگی اور آشتی سے انسان کو سکون ملتا ہے۔ ذکر خدا فطری تقاضوں کے عین مطابق ہونے اور ضمیر، وجدان سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے سکون حاصل ہوتا ہے۔


اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ﴿۲۹﴾

۲۹۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیے ان کی نیک نصیبی ہے اور ان کے لیے بہترین ٹھکانا ہے۔


کَذٰلِکَ اَرۡسَلۡنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتۡلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ ؕ قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾

۳۰۔ (اے رسول ) اسی طرح ہم نے آپ کو ایسی قوم میں بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ان پر اس (کتاب) کی تلاوت کریں جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے جبکہ یہ لوگ خدائے رحمن کو نہیں مانتے،کہدیجئے: وہی میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اسی پر میں نے بھروسا کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔

30۔ اے محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کا مبعوث ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے بھی ایسی قومیں گزری ہیں جن میں ہم نے رسول بھیجے۔ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داری یہ ہے کہ جو آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف وحی ہوئی ہے اس کی تبلیغ کریں، اگرچہ وہ خدائے رحمٰن کو نہیں مانتے۔ لفظ رحمٰن کے ذکر سے اس مطلب کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ وہ رحمت کے منکر ہیں جس میں دین و دنیا دونوں کی سعادت مضمر ہے۔


وَ لَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُیِّرَتۡ بِہِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِہِ الۡاَرۡضُ اَوۡ کُلِّمَ بِہِ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلۡ لِّلّٰہِ الۡاَمۡرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمۡ یَایۡـَٔسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعۡدُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ﴿٪۳۱﴾

۳۱۔ اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردے کلام کرتے (تو بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے) بلکہ یہ سارے امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں، کیا اہل ایمان پر یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ہدایت دے دیتا اور ان کافروں پر ان کے اپنے کردار کی وجہ سے آفت آتی رہے گی یا ان کے گھروں کے قریب (مصیبت) آتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آ پہنچے، یقینا اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

31۔ سلسلہ کلام معجزہ کے مطالبے کے بارے میں ہے کہ یہ لوگ معجزوں سے ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہے، جو یہ خواہش رکھتے تھے کہ کفار کے بار بار مطالبوں پر مذکورہ معجزات کا ظہور ہو جاتا تو یہ لوگ ایمان لے آتے اور ان لوگوں کو شبہات پھیلانے کا موقع نہ ملتا۔ جواباً اہل ایمان سے فرما یا جا رہا ہے: ایسا نہیں ہے کہ ان کی ہدایت معجزات کے ساتھ مربوط ہے اور وہ ایمان لانے کے لیے آمادہ ہوں۔ اگر ایمان و ہدایت کے لیے معجزہ ہی کارفرما ہوتا تو سابقہ انبیاء کے معجزات کو جادو کہ کر مسترد نہ کیا جاتا۔ دوسرے جملے میں فرمایا: اہل ایمان پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو مجبوراً ایمان لانا پڑتا۔ مگر اس ایمان کی کیا قیمت ہے۔ اللہ اس ہدایت کو طاقت کے ذریعے مسلط نہیں فرماتا۔ اللہ لوگوں کو ہدایت اور ضلالت کے درمیان کھڑا کرتا ہے۔ جو چاہے ہدایت اختیار کرے اور جو چاہے ضلالت کی راہ لے۔ تیسرے جملے میں فرمایا:ان پر عذاب نازل ہونے والا ہے۔ واضح رہے کہ مکہ میں نازل ہونے والے اس سورہ میں ایک طرف تو مسلمانوں کو یہ خبر دی جا رہی ہے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں دوسری طرف یہ خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ ان پر عذاب نازل ہونے والا ہے اور اللہ کا وعدہ فتح بھی پورا ہونے والا ہے۔


وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیٴَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ﴿۳۲﴾

۳۲۔ اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے پھر میں نے ان کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے انہیں گرفت میں لے لیا (تو دیکھ لو) عذاب کیسا شدید تھا۔

32۔ تاریخ انبیاء اور سنت الٰہی کا ذکر ہے کہ منکرین نے ہمیشہ انبیاء کی طرف سے آنے والے عذاب کا مذاق اڑایا اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ان منکرین کی تمامتر اہانتوں کے باوجود ان کو مہلت دی جاتی اور عذاب نازل کرنے میں عجلت سے کام نہیں لیا جاتا۔ منکرین کو مزید موقع دیا جاتا کہ راہ راست پر آئیں۔ نہ آنے کی صورت میں ان کے جرم و عذاب میں اضافہ ہو جاتا۔