وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡا خِیَانَتَکَ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡکَنَ مِنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ﴿۷۱﴾

۷۱۔ اور اگر یہ لوگ آپ سے خیانت کرنا چاہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کر چکے ہیں پس اس نے انہیں (آپ کے) قابو میں کر دیا اور اللہ خوب جاننے والا،حکمت والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ﴿۷۲﴾

۷۲۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور انہوں نے اپنے اموال سے اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں اور جو لوگ ایمان تو لائے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی تو ان کی ولایت سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک وہ ہجرت نہ کریں، البتہ اگر انہوں نے دینی معاملے میں تم لوگوں سے مدد مانگی تو ان کی مدد کرنا تم پر اس وقت فرض ہے جب یہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف نہ ہو جن کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے اور اللہ تمہارے اعمال پر خوب نظر رکھتا ہے۔

72۔ مہاجرین و انصار کے درمیان حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مؤاخات کے ذریعہ رشتۂ ولایت قائم کیا، جس کے تحت مہاجرین و انصار کی صلح و جنگ ایک ہو گئی۔ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بن گئے، مگر بعد میں وراثت کا حکم منسوخ ہو گیا۔ البتہ مہاجرین و انصار اور دار الکفر میں موجود مسلمانوں کے درمیان عام ولایت قائم بھی نہیں تھی۔ یعنی اگرچہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لے آیا، مگر اس کا ایمان اس کے کردار پر مؤثر نہیں رہا، اس نے ہجرت نہیں کی، اس کی وجہ سے وہ اس امت کے رشتہ ولایت کا ممبر نہ بن سکا۔ مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۔ ہجرت کے بعد ہی وہ اس امت کا حقیقی ممبر بن سکتا ہے۔ ہارون نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے پوچھا: آپ لوگ وارث رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیسے ہیں۔ چچا کی موجودگی میں چچا کی اولاد وارث نہیں بن سکتی۔ رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت ابو طالب زندہ نہ تھے، عباس زندہ تھے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو وارث نہیں بناتے جنہوں نے ہجرت نہیں کی، نہ ان کے لیے ولایت حاصل ہے۔(عباس نے ہجرت نہیں کی) پھر امام نے دلیل میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ نہایت قابل توجہ ہے کہ جب ایمان کے باوجود ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے امت مسلمہ کے ساتھ رشتہ ولایت میں کوئی منسلک نہیں ہو سکتا تو فتح مکہ تک ایمان بھی نہ لانے والے کیسے منسلک ہو سکتے ہیں۔ صرف ایک حالت کی استثنا ہے کہ ان کافروں کے مقابلے میں ان کی مدد کی جائے گی جو مسلمانوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ اگر کافر مسلمانوں سے حالت جنگ میں نہیں ہیں، ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی مدد نہیں کی جائے گی۔

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾

۷۳۔ اور جنہوں نے کفر کیا ہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اگر تم لوگ اس (دستور) پر عمل نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔

73۔ اسلامی ریاست کے لیے مومنوں کا آپس میں اس ولایت کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کے مقابلے میں کافر لوگ اسلامی ریاست کے خلاف انفرادی طور پر قیام نہیں کرتے بلکہ وہ الکفر ملت واحدہ کے طور پر مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، لہٰذا اسلامی ریاست کو بھی بطور ایک امت واحدہ ان کا مقابلہ کرنا ہو گا، ورنہ مسلمان ایسے فتنہ و فساد سے دو چار ہوں گے جسے اللہ تعالیٰ نے کبیر فرمایا ہے۔

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ﴿۷۴﴾

۷۴۔اور جو لوگ ایمان لائے اور مہاجرت کی اور راہ خدا میں جہاد کیا نیز جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں،ان کے لیے مغفرت اور باعزت رزق ہے۔

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا مَعَکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ﴿٪۷۵﴾ ۞ٙ

۷۵۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ہمراہ جہاد کیا وہ بھی تم میں شامل ہیں اور اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، بے شک اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے ۔

75۔ وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ : اس جملے میں وراثت کا ایک قاعدہ قائم کیا گیا ہے کہ خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اس آیت سے مہاجرین و انصار میں توارث کا حکم منسوخ ہو گیا۔