آیت 10
 

فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ﴿۱۰﴾

۱۰۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی اور ان کے لیے دردناک عذاب اس وجہ سے ہے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

تشریح کلمات

مَرَض:

( م ر ض ) اعتدال و توازن کا مفقود ہونا۔ مزاج میں اعتدال و توازن ختم ہونے سے انسان جسمانی طور پر ارتقا و تکامل کے قابل نہیں رہتا۔اسی طرح اخلاقی و معنوی اعتدال کے فقدان سے انسان روحانی ارتقا اور انسانی اقدار سے محروم ہو جاتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے :

اَلَا وَ اِنَّ مِنَ الْبَلَائِ اَلْفَاقَۃُ وَ اَشَدُّ مِنَ الْفَاقَۃِ مَرَضُ الْبَدَنِ وَ اَشَدُّ مِنْ مَرَضِ الْبَدَنِ مَرَضُ الْقَلْب ۔ {نہج البلاغۃ۔ حکم امیرالمؤمنین (ع) : ۳۸۸، ص ۹۳۲}

آگاہ رہو! فقر و احتیاج ایک المیہ ہے، فقرسے بدتر جسمانی بیماری ہے اور جسمانی بیماری سے بھی بدتر دل کی بیماری ہے۔

تفسیر آیات

قلب کی بیماری: یہ منافقین کی دوسری علامت ہے۔ قلب سے مراد روح و عقل ہے۔ یعنی منافقین کی روح اور عقل بیمار ہیں۔ جس طرح جسمانی مرض کی صورت میں پورا جسمانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، بدن سست ہو جاتا ہے اور اعضائے بدن اپنے فرائض کی بجاآوری کے قابل نہیں رہتے اور ایک موزوں غذا بھی ناموزوں اور ایک لذیذ طعام بھی ناگوار گزرتا ہے، بالکل اسی طرح منافق کی عقل بھی معقول باتوں کا ادراک نہیں کر سکتی اور مفید باتوں اور واضح دلائل و براہین کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ یہ مرض منافقین کے اپنے عمل سے پیدا ہوتا ہے اور جب یہ قابل علاج نہ رہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے حال پر ہی چھوڑ دیتا ہے۔ چنانچہ مرض کے مضر اثرات اورمہلک جراثیم مکمل طورپر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور ایسا ہونا قانون فطرت کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا خدا کی طرف اس کی نسبت دینا درست ہے، البتہ اس کے ذمہ دار خود منافقین ہیں۔

اہم نکات

۱۔ منافقت وہ مہلک مرض ہے،جو قانون طبیعت کے تحت پھیلتا ہے۔

۲۔ منافقین کی دروغ گوئی گناہوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔


آیت 10