Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ کَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیۡرٍ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ قَتۡلَ اَوۡلَادِہِمۡ شُرَکَآؤُہُمۡ لِیُرۡدُوۡہُمۡ وَ لِیَلۡبِسُوۡا عَلَیۡہِمۡ دِیۡنَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ﴿۱۳۷﴾

۱۳۷۔اور اسی طرح ان کے شریکوں نے اکثر مشرکوں کی نظر میں ان ہی کے بچوں کے قتل کو ایک اچھے عمل کے طور پر جلوہ گر کیا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر مشتبہ بنا دیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کر سکتے پس آپ انہیں بہتان تراشی میں چھوڑ دیں۔

137۔ عرب جاہلیت میں قتل اولاد کی تین صورتیں رائج تھیں: 1۔ بتوں کی خوشنودی کے لیے قتل۔ 2۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا۔ 3۔ قحط و افلاس کے خوف سے قتل کرنا۔


وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنۡعَامٌ وَّ حَرۡثٌ حِجۡرٌ ٭ۖ لَّا یَطۡعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِہِمۡ وَ اَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُہُوۡرُہَا وَ اَنۡعَامٌ لَّا یَذۡکُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا افۡتِرَآءً عَلَیۡہِ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ﴿۱۳۸﴾

۱۳۸۔اور یہ کہتے ہیں: یہ جانور اور کھیتی ممنوع ہیں انہیں صرف وہی کھا سکتے ہیں جنہیں ان کے زعم میں ہم کھلانا چاہیں اور کچھ جانور ایسے ہیں جن کی پیٹھ (پر سواری یا باربرداری) حرام ہے اور کچھ جانور ایسے ہیں جن پر محض اللہ پر بہتان باندھتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتے، اللہ عنقریب انہیں ان کی بہتان تراشیوں کا بدلہ دے گا۔

138۔وہ جانوروں اور کھیتوں کی فصلوں کو اپنے خود ساختہ خداؤں کے نام نذر کرتے تھے اور ان نذروں کو کھانے کی اجازت ان خداؤں کے خدمت گزار مردوں کو تھی، عورتوں کو اجازت نہیں تھی۔ کچھ جانور ایسے تھے جن پر سوار ہونا حرام تھا اور بعض جانوروں پر اللہ کا نام لینا ممنوع تھا۔


وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزۡوَاجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمۡ فِیۡہِ شُرَکَآءُ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ وَصۡفَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ﴿۱۳۹﴾

۱۳۹۔اور کہتے ہیں:جو (بچہ) ان جانوروں کے شکم میں ہے وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری بیویوں پر حرام ہے اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا ہو تو وہ سب اس میں شریک ہیں، اللہ ان کے اس بیان پر انہیں عنقریب سزا دے گا، یقینا وہ بڑا حکمت والا، دانا ہے۔

139۔ جاہلیت کی خود ساختہ شریعت کا ایک حکم یہ تھا کہ بعض مخصوص جانوروں کے بچے اگر زندہ پیدا ہو جاتے تو ان کا گوشت صرف مردوں پر حلال تھا اگر مردہ پیدا ہوتے تو مرد و زن سب کھا سکتے تھے۔


قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَہُمۡ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ حَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افۡتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ ؕ قَدۡ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ﴿۱۴۰﴾٪

۱۴۰۔وہ لوگ یقینا خسارے میں ہیں جنہوں نے بیوقوفی سے جہالت کی بنا پر اپنی اولاد کو قتل کیا اور اللہ نے جو رزق انہیں عطا کیا ہے اللہ پر بہتان باندھتے ہوئے اسے حرام کر دیا، بیشک یہ لوگ گمراہ ہو گئے اور ہدایت پانے والے نہ تھے۔

140۔انسان کے لیے دو چیزیں باعث زینت و تقویت ہیں یعنی مال اور اولاد۔ عرب جاہلیت کی نادانی کی انتہا دیکھیے کہ یہ لوگ اولاد کو قتل کرتے تھے اور رزق خد اکا ایک حصہ اپنے اوپر حرام کرتے تھے، اس طرح وہ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃَ کا مصداق بن گئے۔


وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّ غَیۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ وَّ النَّخۡلَ وَ الزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُکُلُہٗ وَ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ ؕ کُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ اٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوۡمَ حَصَادِہٖ ۫ۖ وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ﴿۱۴۱﴾ۙ

۱۴۱۔اور وہ وہی ہے جس نے مختلف باغات پیدا کیے کچھ چھتریوں چڑھے ہوئے اور کچھ بغیر چڑھے نیز کھجور اور کھیتوں کی مختلف مأکولات اور زیتون اور انار جو باہم مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی پیدا کیے، تیار ہونے پر ان پھلوں کو کھاؤ، البتہ ان کی فصل کاٹنے کے دن اس (اللہ) کا حق (غریبوں کو) ادا کرو اور فضول خرچی نہ کرو، بتحقیق اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

141۔ یہاں دو قسم کے باغوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ باغ جن میں بیلیں ہوتی ہیں۔ مثلاً انگور کے باغ، ان کو جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ کہا ہے۔ دوسرے وہ باغ جن کے درخت تنوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے پھلوں اور فصلوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے تاہم وَ اٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوۡمَ حَصَادِہٖ فصل کاٹنے (اور باغ چننے)کے دن اس کا حق ادا کرتے رہنا۔ یعنی اس باغ پر جو فقراء کا حق عائد ہوتا ہے وہ دیا کرو۔

اسی سلسلے میں امام رضا علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ اگر فصل کاٹتے وقت غربا و مساکین موجود نہ ہوں تو کیا حکم ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس پر کوئی ذمے داری عائد نہیں ہوتی۔ بعض دوسری روایات کے مطابق اگر غربا و مساکین موجود ہوں تو انہیں کچھ مقدار دینا مستحب ہے۔

اس آیت سے چند اہم نکات سامنے آتے ہیں:

الف: تخلیق کائنات میں اگر کسی ارادہ اور شعور کو دخل نہ ہوتا تو یہ مختلف میوے بے شعور مادے نے کیوں خلق کیے۔

ب:اگر قدرت کا مقصد انسان کو صرف زندہ رکھنا ہوتا تو گندم یا جو کا دانہ ہی کافی تھا، لہذا مختلف لذتوں کے میوے خالق کائنات کی نعمتوں کا مظہر ہیں۔


وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَۃً وَّ فَرۡشًا ؕ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ﴿۱۴۲﴾ۙ

۱۴۲۔ اور مویشیوں میں کچھ بوجھ اٹھانے والے (پیدا کیے) اور کچھ بچھانے (کے وسائل فراہم کرنے) والے، اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

142۔ مختلف جانوروں کا ذکر ہے جنہیں انسان کے لیے مسخر کیا گیا ہے، ان نعمتوں کو تمہارے لیے حلال کیا گیا۔ شیطان کی پیروی کر کے ان کو حرام قرار نہ دو۔ حَمُوۡلَۃً وہ جانور ہیں جو بوجھ اٹھانے کے قابل ہیں، جیسے اونٹ وغیرہ۔ فَرۡشًا سے مراد چھوٹے جانور ہیں، جیسے بھیڑ بکریاں۔ ان کا وجود تقریباً زمین بوس ہونے کی وجہ سے انہیں فرش کہا گیا ہے یا ان کی اون اور کھال بچھانے کے کام آتی ہیں اس لیے انہیں فرش کہا گیا ہو۔ بعض اہل نظر کے نزدیک حَمُوۡلَۃً بوجھ اٹھانے والے جانور ہیں اور فَرۡشًا سواری کے جانور ہیں۔


ثَمٰنِیَۃَ اَزۡوَاجٍ ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ مِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَیۡہِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ نَبِّـُٔوۡنِیۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۱۴۳﴾ۙ

۱۴۳۔ (اللہ نے) آٹھ جوڑے (پیدا کیے) ہیں، دو بھیڑ کے اور دو بکری کے، آپ ان سے پوچھ لیجیے: کیا اللہ نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادائیں؟ یا وہ (بچے) جو دونوں ماداؤں (بھیڑ یا بکری)کے پیٹ میں ہیں؟ اگر تم لوگ سچے ہو تو مجھے کسی علمی حوالے سے بتاؤ۔


وَ مِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَیۡنِ وَ مِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَیۡہِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ اَمۡ کُنۡتُمۡ شُہَدَآءَ اِذۡ وَصّٰکُمُ اللّٰہُ بِہٰذَا ۚ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۱۴۴﴾٪

۱۴۴۔ اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے، (یہ بھی) پوچھ لیں کہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادائیں؟ یا وہ (بچے) جو دونوں ماداؤں کے پیٹ میں ہیں؟کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ تمہیں یہ حکم دے رہا تھا؟ پس اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے تاکہ لوگوں کو بغیر کسی علم کے گمراہ کرے؟ بتحقیق اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔

143۔144۔ چار جانوروں کا ذکر ہے : بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے۔ چار نر اور چار مادہ کی مجموعی تعداد آٹھ ہو گئی۔ یہاں جاہلی خرافات کی نامعقولیت بیان ہو رہی ہے کہ ایک ہی جانور کا نر حلال ہو اور مادہ حرام یا جانور خود تو حلال ہو مگر اس کے پیٹ میں موجود بچہ حرام ہو۔ کس قدر نامعقول ہے۔


قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّہٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۴۵﴾

۱۴۵۔کہدیجئے:جو وحی میرے پاس آئی ہے، اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام ہو مگر یہ کہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت کیونکہ یہ ناپاک ہیں یا ناجائز ذبیحہ جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، پس اگر کوئی مجبور ہوتا ہے (اور ان میں سے کوئی چیز کھا لیتا ہے) نہ (قانون کا) باغی ہو کر اور نہ (ہی ضرورت سے) تجاوز کا مرتکب ہو کر تو آپ کا رب یقینا بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

145۔ فَمَنِ اضۡطُرَّ ۔ کوئی مجبور ہوتا ہے: اسلامی قوانین دو قسم کے ہیں: ایک ثابت، دوسرے متحرک۔ متحرک قانون میں لچک ہوتی ہے اور حالات کے بدلنے سے قانون میں نرمی آ جاتی ہے۔ اس آیت میں یہ حکم آیا: مردار، خون اور سور کا گوشت حرام ہیں، لیکن یہ حکم مجبوری کی صورت میں اٹھ جاتا ہے۔ اسے ”قانون نفی حرج“ کہتے ہیں۔ اس قانون کے تحت ہر وہ حکم اٹھ جاتا ہے جس میں مکلف کو غیر معمولی مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔ اس قانون کا مدرک چند قرآنی آیات ہیں۔ مثلاً مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ (حج : 78) اللہ نے دین کے معاملے میں تمہیں کسی مشکل سے دو چار نہیں کیا۔


وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا کُلَّ ذِیۡ ظُفُرٍ ۚ وَ مِنَ الۡبَقَرِ وَ الۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ شُحُوۡمَہُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُہُوۡرُہُمَاۤ اَوِ الۡحَوَایَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ ؕ ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِبَغۡیِہِمۡ ۫ۖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴿۱۴۶﴾

۱۴۶۔اور ہم نے یہود پر ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا تھا اور بکری اور گائے کی چربی حرام کر دی تھی سوائے اس چربی کے جو ان کی پشت پر یا آنتوں میں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی ہو، ایسا ہم نے ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر کیا اور ہم صادق القول ہیں۔

146۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام کبھی مصالح و مفاسد کے پیش نظر نافذ ہوتے ہیں اور کبھی بطور سزا نافذ ہوتے ہیں۔ مثلاً سور کا گوشت، مضر اثرات کی وجہ سے حرام ہے اور یہاں یہودیوں پر چند مفید چیزیں ان کی سرکشی کی وجہ سے حرام کر دی گئیں تھیں۔