Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَاَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾

۸۸۔ پھر اگر وہ (مرنے والا) مقربین میں سے ہے


فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ﴿۸۹﴾

۸۹۔ تو (اس کے لیے) راحت اور خوشبودار پھول اور نعمت بھری جنت ہے۔

89۔ حالت احتضار کا ذکر ہے۔ مقرب لوگوں کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ روح و ریحان قبر میں اور جنت نعیم آخرت میں ہو گی۔ (بحار الانوار 6:222)


وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۹۰﴾

۹۰۔ اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہے


فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۹۱﴾

۹۱۔ تو (اس سے کہا جائے گا) تجھ پر اصحاب یمین کی طرف سے سلام ہو۔

91۔ اور فرشتے اصحاب یمین کا استقبال سلام سے کریں گے۔


وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾

۹۲۔ اور اگر وہ (مرنے والا) تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہے،


فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۹۳﴾

۹۳۔ تو (اس کے لیے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے۔

93۔ تکذیب کرنے والوں کی آؤ بھگت کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی۔


وَّ تَصۡلِیَۃُ جَحِیۡمٍ﴿۹۴﴾

۹۴۔ اور بھڑکتی آگ میں تپایا جانا ہے۔

94۔ تصلیۃ صَلْیُ سے ہے۔ تپانا جلانا کہتے ہیں۔ اَصلَاہ وَ صَلاّٰہ القاہ للاحراق ۔ اکثر مترجمین و مفسرین نے مادہ ص ل ی کو و ص ل سے معنی کیا ہے۔ مثلاً وَ سَیَصۡلَوۡنَ کو سَیَصۡلَوۡنَ ، وَ صلَ سے معنی کیا ہے۔ نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا، نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا سے معنی کیا ہے۔ وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ کو نُصۡلُہ جَہَنَّمَ سے معنی کیا ہے، جو اشتباہ ہے۔


اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿ۚ۹۵﴾

۹۵۔ یہ سب سراسر حق پر مبنی قطعی ہے۔


فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ﴿٪۹۶﴾

۹۶۔ پس (اے نبی) اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کیجیے۔


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

بنام خدائے رحمن رحیم