Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ الۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ ۙ﴿۶﴾

۶۔ اور موجزن سمندر کی،

الۡمَسۡجُوۡرِ کے دوسرے معنی آگ کے ہیں۔ یعنی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہونے والے سمندر کی قسم۔ شاید یہی معنی قرین سیاق ہیں۔ چنانچہ روایت میں آیا ہے، حضرت علی علیہ السلام نے ایک یہودی سے پوچھا: تمہاری کتاب میں آگ کی جگہ کون سی ہے۔ اس نے کہا: سمندر۔ آپ نے فرمایا: یہ شخص صحیح کہ رہا ہے۔ ہماری کتاب میں بھی ہے: وَ الۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ زبدۃ التفاسیر6: 487) اس صورت میں ترجمہ یہ ہو گا: قسم ہے آتشیں سمندر کی۔


اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾

۷۔ آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے،


مَّا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ ۙ﴿۸﴾

۸۔ اسے ٹالنے والا کوئی نہیں ہے۔


یَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا ۙ﴿۹﴾

۹۔ اس روز آسمان بری طرح تھرتھرائے گا،


وَّ تَسِیۡرُ الۡجِبَالُ سَیۡرًا ﴿ؕ۱۰﴾

۱۰۔ اور پہاڑ پوری طرح چلنے لگیں گے۔

10۔ موجودہ آسمان و زمین اور موجودہ نظام کائنات ایک مرتبہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اس کی جگہ اللہ تعالیٰ ایک اور کائنات اور نظام کو ترتیب دے گا۔


فَوَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾

۱۱۔ پس اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے تباہی ہے،


الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ خَوۡضٍ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿ۘ۱۲﴾

۱۲۔ جو بیہودگیوں میں کھیل رہے ہیں۔

12۔ خَوۡضٍ قابل مذمت کام میں لگ جانے کے معنوں میں ہے۔ یعنی انبیاء کی دعوت کے مضمرات میں غور کرنے کی بجائے بیہودہ باتوں میں لگے رہتے ہو۔


یَوۡمَ یُدَعُّوۡنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا ﴿ؕ۱۳﴾

۱۳۔ اس دن وہ شدت سے جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے جائیں گے۔


ہٰذِہِ النَّارُ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ﴿۱۴﴾

۱۴۔ یہ وہی آگ ہے جس کی تم لوگ تکذیب کرتے تھے۔


اَفَسِحۡرٌ ہٰذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۵﴾

۱۵۔ (بتاؤ) کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھتے نہیں ہو؟