Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

لَا یَسَّمَّعُوۡنَ اِلَی الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰی وَ یُقۡذَفُوۡنَ مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ ٭ۖ﴿۸﴾

۸۔ کہ وہ عالم بالا کی طرف کان نہ لگا سکیں اور ہر طرف سے ان پر (انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔


دُحُوۡرًا وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ ۙ﴿۹﴾

۹۔ دھتکارے جاتے ہیں اور ان پر دائمی عذاب ہے ۔


اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ﴿۱۰﴾

۱۰۔ مگر ان میں سے جو کسی بات کو اچک لے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

10۔ سورہ حجر آیت 18 میں شہاب ثاقب کے بارے میں پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ عربوں میں کہانت کا بڑا چرچا تھا اور کاہنوں سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا رواج عام تھا۔ کاہنوں کا یہ دعویٰ تھا کہ جن اور شیاطین ان کو یہ خبریں بتاتے ہیں۔ مشرکین نے رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بھی کاہن ہونے کا الزام لگایا جیسا کہ سورہ شعراء میں اس کی رد آئی ہے: وَ مَا تَنَزَّلَتۡ بِہِ الشَّیٰطِیۡنُ﴿﴾ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہُمۡ وَ مَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ﴿﴾ اِنَّہُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ﴿﴾ اور اس قرآن کو شیاطین نے نہیں اتارا اور نہ یہ کام ان سے مناسبت رکھتا ہے اور نہ ہی وہ استطاعت رکھتے ہیں۔ وہ (وحی) سننے سے دور رکھے گئے ہیں۔


فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَہُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ﴿۱۱﴾

۱۱۔ تو ان سے پوچھ لیجیے کہ کیا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے یا وہ جنہیں ہم نے (ان کے علاوہ) خلق کیا ہے؟ ہم نے انہیں لیسدار گارے سے پیدا کیا۔


بَلۡ عَجِبۡتَ وَ یَسۡخَرُوۡنَ ﴿۪۱۲﴾

۱۲۔ بلکہ آپ تعجب کر رہے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں۔


وَ اِذَا ذُکِّرُوۡا لَا یَذۡکُرُوۡنَ ﴿۪۱۳﴾

۱۳۔ اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت نہیں مانتے۔


وَ اِذَا رَاَوۡا اٰیَۃً یَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ ﴿۪۱۴﴾

۱۴۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔


وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚۖ۱۵﴾

۱۵۔ اور کہتے ہیں: یہ تو ایک کھلا جادو ہے۔

15۔ مشرکین کا یہ کہنا کہ یہ جادو ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قرآن کے علاوہ بھی معجزے دکھائے ہیں، مثلاً شق القمر وغیرہ، جو عام بشری طاقت سے باہر ہیں۔


ءَ اِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾

۱۶۔ کیا جب ہم مر چکیں گے اور خاک اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے ؟


اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿ؕ۱۷﴾

۱۷۔ کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے)؟