Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴿۸۵﴾

۸۵۔ چنانچہ پھر وہ راہ پر ہو لیا۔


حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَغۡرُبُ فِیۡ عَیۡنٍ حَمِئَۃٍ وَّ وَجَدَ عِنۡدَہَا قَوۡمًا ۬ؕ قُلۡنَا یٰذَا الۡقَرۡنَیۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِیۡہِمۡ حُسۡنًا﴿۸۶﴾

۸۶۔ یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اس نے سورج کو سیاہ رنگ کے پانی میں غروب ہوتے دیکھا اور اس کے پاس اس نے ایک قوم کو پایا، ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو (تمہیں اختیار ہے)۔

86۔ جب آفتاب غروب ہو رہا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سیاہ گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔ بعض اہل قلم کے مطابق ذوالقرنین کے کورش ہونے کی صورت میں اس پانی سے مراد ایشیائے کوچک کا مغربی ساحل ہو سکتا ہے اور سکندر اعظم ہونے کی صورت میں جنوبی یوگوسلاویہ کی بڑی جھیل ہو سکتی ہے، جس کا پانی گدلا اور سیاہی مائل ہے یا سواحل افریقہ ہو سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ان میں سے کسی پر قطعی دلیل موجود نہیں ہے۔


قَالَ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّـکۡرًا﴿۸۷﴾

۸۷۔ ذوالقرنین نے کہا: جو ظلم کا ارتکاب کرے گا عنقریب ہم اسے سزا دیں گے پھر جب وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا تو وہ اسے برا عذاب دے گا۔


وَ اَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَ اۨلۡحُسۡنٰی ۚ وَ سَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنۡ اَمۡرِنَا یُسۡرًا ﴿ؕ۸۸﴾

۸۸۔ لیکن جو ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا تو اسے بہت اچھا اجر ملے گا اور ہم بھی اپنے معاملات میں اس سے نرمی کے ساتھ بات کریں گے ۔


ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا﴿۸۹﴾

۸۹۔ پھر وہ راہ پر ہو لیا ۔


حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَطۡلُعُ عَلٰی قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہَا سِتۡرًا ﴿ۙ۹۰﴾

۹۰۔ یہاں تک کہ جب وہ طلوع آفتاب کی جگہ پہنچا تو دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جن کے لیے ہم نے آفتاب سے بچنے کی کوئی آڑ نہیں رکھی۔

90۔ یعنی مشرق کی انتہائی سمت، جہاں تمدن کا سرے سے فقدان تھا، وہ مکان و لباس وغیرہ سے نا آشنا تھے۔ ایک گمان یہ ہے کہ یہ علاقہ بلخ کا ہو سکتا ہے جو کہ کورش کے دائرہ حکومت کی مشرق کی طرف آخری حد ہے۔


کَذٰلِکَ ؕ وَ قَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَیۡہِ خُبۡرًا﴿۹۱﴾

۹۱۔ اسی طرح (کا حال تھا) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہمیں اس کی مکمل خبر تھی۔


ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا﴿۹۲﴾

۹۲۔ پھر وہ راہ پر ہو لیا۔


حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ بَیۡنَ السَّدَّیۡنِ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا قَوۡمًا ۙ لَّا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ قَوۡلًا﴿۹۳﴾

۹۳۔ یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان دونوں پہاڑوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو کوئی بات سمجھنے کے قابل نہ تھی۔

93۔ مشرق اور مغرب کی طرف فوج کشی کے بعد یہ تیسری فوج کشی ہے۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فوج کشی شمال کی طرف تھی جہاں ایک وحشی قوم بستی تھی جو کسی زبان کے ذریعے بھی افہام و تفہیم کے قابل نہ تھی۔

بَیۡنَ السَّدَّیۡنِ : دو پہاڑوں کے درمیان۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ دو پہاڑ بحر خزر اور بحر اسود کے درمیان واقع ہیں جو کیشیا کے پہاڑی سلسلوں پر قابل تطبیق ہے۔ در منثور میں ابن عباس سے روایت ہے کہ سدین یعنی دو پہاڑوں سے مراد ارمینیا اور آذر بائجان ہے۔ ممکن ہے روایت کا اشارہ ان دو پہاڑوں کے محل وقوع کی طرف ہو کہ یہ سدین ان علاقوں میں ہے۔


قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَ مَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَہُمۡ سَدًّا﴿۹۴﴾

۹۴۔ لوگوں نے کہا: اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج یقینا اس سرزمین کے فسادی ہیں کیا ہم آپ کے لیے کچھ سامان کا انتظام کریں تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند باندھ دیں؟

94۔ یہ بند بعض کے بقول قفقاز کے علاقہ داغستان میں دربند اور داریال کے درمیان موجود ہے جو 50 میل لمبا اور 29 فٹ اونچا ہے اور بعض کے نزدیک یہ بند اس دربند میں ہے جو علاقہ وسط ایشیاء کے مشرقی حصے میں بخارا سے کوئی 150 میل جنوب مشرق میں واقع ہے۔

یاجوج و ماجوج کون ہیں: ایک رائے یہ ہے کہ یہ وہی قوم ہے جسے تاتاری منگولی وغیرہ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، جو قدیم زمانے سے یورپ اور ایشیا کی متمدن قوموں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ بائبل میں ان کو حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند یافث کی نسل میں قرار دیا گیا ہے۔ (پیدائش باب 10) چنانچہ بحار الانوار 6: 298 اور علل الشرائع میں بھی ایک روایت میں یاجوج و ماجوج کو یافث کی نسل قرار دیا گیا ہے اور حزقی ایل صحیفے باب 38 میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے۔