باب 2

لحن

لغوی معنی: لحن کے معنی غلطی ہے۔

اصطلاحی معنی: اصطلاح قراء میں قرآن مجید کو غلط پڑھنا یا تجوید کے خلاف پڑھنا لحن کہلاتا ہے۔

بنیادی طور پر لحن کی دو اقسام ہیں لحن خفی اور لحن جلی

لحن خفی

لحن خفی وہ مکروہ غلطی ہے کہ جس سے بچنا بہتر ہے۔جیسے، رَبُّکَ کے ’’ر‘‘ کو پر کرنے کے بجائے باریک پڑھ دیا جائے۔

لحن جلی

لحن جلی، بڑی اور واضح غلطی کو کہتے ہیں۔ اس کی کل پانچ اقسام ہیں۔

1۔ حرف کو حرف سے بدل دینا، جیسے قُل کو کُل پڑھنا

2۔ کسی حرف کو بڑھا دینا یا کم کر دینا، جیسے کَتَبَ کو کَتَبَا پڑھنا۔

3۔ حرکات و سکنا ت کی غلطی کرنا، جیسے ، ألْحَمْدُ کو اَلَحَمْدُ پڑھنا۔

4۔ مشدّد حرف کو مخفّف کرکے پڑھنا۔ جیسے، یَزَکّیٰ کو یَزَکیٰ پڑھنا۔

5۔ مخفّف حرف کو مشدّد پڑھنا۔ جیسے، ذَکَرَ کو ذَکَّرَ پڑھنا۔

نوٹ: لحن جلی حرام غلطی ہے اور ایسی غلطی سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ایسی غلطی سے بچنا لازم ہے۔

دانت

بعض الفاظ کی صحیح ادائیگی دانتوں کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا مخارج حروف کو بیان کرنے سے پہلے دانتوں کے بارے میں تفصیل سے جاننا ضروری ہے۔

دانتوں کے نام

1۔ ثنایا: ثنایا کے کل چار دانت ہیں ان میں سامنے کے اوپر والے دو دانت ثنایا علیاء اور سامنے کے نیچے والے دو دانت ثنایا سفلیٰ کہلاتے ہیں۔

2۔ رباعی: ثنایا کے دائیں بائیں، اوپر نیچے ایک ایک دانت کل چار دانتوں کو رباعی کہتے ہیں۔

3۔ انیاب: رباعی کے دائیں بائیں، اوپر نیچے ایک ایک دانت کل چار دانتوں کو انیاب کہتے ہیں۔

4۔ ضواحک: انیاب کے دائیں بائیں، اوپر نیچے ایک ایک داڑھ کل چار داڑھوں کو ضواحک کہتے ہیں۔

5۔ طواحن: ضواحک کے دائیں بائیں، اوپر نیچے تین تین داڑھیں کل بارہ داڑھوں کو طواحن کہتے ہیں۔

6۔ نواجذ: طواحن کے دائیں بائیں، اوپر نیچے ایک ایک داڑھ کل چار داڑھوں کو نواجذ کہتے ہیں۔

اضراس

کل بارہ دانت ہیں جبکہ باقی بیس داڑھیں ہیں۔ ان بیس داڑھوں کو عربی میں اضراس کہتے ہیں۔

باب 3