Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ﴿۲۴﴾

۲۴۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔


اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾

۲۵۔ کیا ہم نے زمین کو قرار گاہ نہیں بنایا،

25۔ کفات کا ایک معنی ظرف کے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ معنی بنتے ہیں: کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردہ لوگوں کے لیے ظرف نہیں بنایا؟ اور اس کے ایک معنی حرکت کے بھی ہیں۔ اس صورت میں اس کے یہ معنی بنتے ہیں: کیا ہم نے زمین کو متحرک نہیں بنایا؟ لیکن یہ معنی مراد لینا قرین قیاس نہیں ہے، کیونکہ زمانۂ خطاب کے لوگ حرکت ارض سے واقف نہ تھے کہ اس کو مسلمہ امر قرار دے کر ان سے خطاب کیا جائے۔


اَحۡیَآءً وَّ اَمۡوَاتًا ﴿ۙ۲۶﴾

۲۶۔ زندوں کے لیے اور مردوں کے لیے،


وَّ جَعَلۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسۡقَیۡنٰکُمۡ مَّآءً فُرَاتًا ﴿ؕ۲۷﴾

۲۷۔ اور ہم نے اس میں بلند پہاڑ گاڑ دیے اور ہم نے تمہیں شیرین پانی پلایا۔


وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔اور اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔


اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾

۲۹۔ اب تم لوگ جاؤ اس چیز کی طرف جسے تم جھٹلاتے تھے۔


اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ ﴿ۙ۳۰﴾

۳۰۔ چلو اس دھویں کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔

30۔ یعنی جہنم کا دھواں،جس کی کئی شاخیں ہوں گی۔


لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ ﴿ؕ۳۱﴾

۳۱۔ نہ وہ سایہ دار ہے اور نہ آگ کے شعلوں سے بچانے والا ہے۔


اِنَّہَا تَرۡمِیۡ بِشَرَرٍ کَالۡقَصۡرِ ﴿ۚ۳۲﴾

۳۲۔یقینا یہ دھواں ایسی چنگاریاں اڑائے گا جو محل کے برابر ہیں۔

32۔ اس آیت میں چنگاریوں کا حجم بتایا گیا ہے، گویا محل کے برابر چنگاریاں اڑیں گی۔ دوسری آیت میں رنگ کی تشبیہ دی کہ یہ چنگاریاں رنگ میں اونٹوں کی طرح ہوں گی۔


کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ﴿ؕ۳۳﴾

۳۳۔ گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں۔