Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَللّٰہُ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ الۡقَوِیُّ الۡعَزِیۡزُ﴿٪۱۹﴾

۱۹۔ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے، وہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہی بڑا طاقت والا، بڑا غالب آنے والا ہے۔

19۔ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ : یعنی اپنے بندوں کی باریک ترین باتوں کا بھی وہ مہر و محبت سے خیال رکھنے والا ہے۔ اللہ کی مہربانی کا یہی خاصہ ہے کہ اس کی مہربانی بندے کی باریک ترین ضروریات سے آگہی کے مطابق ہے۔


مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ﴿۲۰﴾

۲۰۔ جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواہاں ہو ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی کا خواہاں ہو ہم اسے دنیا میں سے (کچھ) دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہو گا۔

20۔ اس آیت میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طالب دنیا سے کہا:ا سے آخرت میں کچھ نہ ملے گا۔ لیکن طالب آخرت سے نہیں کہا کہ اسے دنیا میں کچھ نہیں ملے گا۔ حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے: اِنَّ الْمَالَ وَ الْبَنِیْنَ حَرْثُ الدُّنْیَا وَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ حَرْثُ الْآخِرَۃِ وَ قَدْ یَجْمَعُھُمَا اللہ لِاَقْوَامٍ ۔ (الکافی 5: 57) یعنی مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہیں اور نیک اعمال آخرت کی اور کبھی بعض لوگوں کے لیے اللہ دونوں عنایت فرماتا ہے۔


اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃُ الۡفَصۡلِ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۲۱﴾

۲۱۔ کیا ان کے پاس ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے دین کا ایسا دستور فراہم کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟ اور اگر فیصلہ کن وعدہ نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا اور ظالموں کے لیے یقینا دردناک عذاب ہے۔


تَرَی الظّٰلِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا وَ ہُوَ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ۚ لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ﴿۲۲﴾

۲۲۔ آپ ظالموں کو اپنے اعمال کے سبب ڈرتے ہوئے دیکھیں گے اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے، ان کے لیے ان کے رب کے پاس جو وہ چاہیں گے موجود ہو گا، یہی بڑا فضل ہے۔


ذٰلِکَ الَّذِیۡ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ؕ وَ مَنۡ یَّقۡتَرِفۡ حَسَنَۃً نَّزِدۡ لَہٗ فِیۡہَا حُسۡنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ﴿۲۳﴾

۲۳۔ یہ وہ بات ہے جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو خوشخبری دیتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور اعمال صالح بجا لاتے ہیں، کہدیجئے: میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے قریب ترین رشتہ داروں کی محبت کے اور جو کوئی نیکی کمائے ہم اس کے لیے اس نیکی میں اچھا اضافہ کرتے ہیں، اللہ یقینا بڑا بخشنے والا، قدردان ہے۔

23۔ فریقین کے مصادر میں یہ روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے وہ قرابتدار کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہو گئی ہے؟ فرمایا : علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام ہیں۔ درج ذیل اصحاب رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے راوی ہیں: ابن عباس، جابر بن عبد اللہ، ابی امامہ باہلی، علی ابی الطفیل ابو دیلم اور ہبیرۃ۔ ان اصحاب سے امام احمد، طبری، طبرانی، واحدی اور نسائی وغیرہ نے روایت کی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الغدیر 4: 218، 2: 252۔ قربیٰ سے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ جناب مولانا مودودی صاحب کو چند اعتراضات ہیں: اول: سورﮤ شوریٰ مکی ہے اور اس وقت تک حضرت علی و فاطمہ علیہما السلام کی شادی تک نہ ہوئی تھی۔ جواب: اول تو بعض روایات کے مطابق یہ آیت مدنی ہے۔ چنانچہ قرطبی و نیشاپوری اور خازن نے اپنی تفسیروں میں، شوکانی نے فتح القدیر:510 میں حضرت ابن عباس اور قتادہ سے صریحاً نقل کیا ہے کہ سورہ شوریٰ مکی ہے، سوائے چار آیتوں کے، جن میں پہلی آیت قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ ہے۔ دوم یہ کہ مصادیق کا عند نزول القرآن موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔ مثلاً وَالَّذِيْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ کے لیے ضروری نہیں کہ اس آیت کے تمام مصادیق عند نزول القرآن موجود ہوں۔

دوسرا اعتراض: رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رشتہ دار بہت تھے صرف عبد المطلب کی اولاد کی محبت کیوں؟

جواب: یہ اعتراض قرآن پر آتا ہے۔ (معاذ اللہ) چونکہ قرآن نے قریبی رشتہ نہیں بلکہ قربیٰ (قریب ترین رشتہ داروں) سے محبت کے لیے کہا۔

تیسرا اعتراض: جو ان کے نزدیک سب سے اہم ہے، یہ ہے کہ اس کار عظیم پر یہ اجر مانگنا کہ تم میرے رشتہ داروں سے محبت کرو، اتنی گری ہوئی بات ہے کہ کوئی ذوق سلیم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

جواب: اول تو ہم اصحاب و تابعین، مورخین اور مفسرین کی لمبی فہرست پیش کر سکتے ہیں جن کے ذوق سلیم نے اس کا تصور ہی نہیں، بلکہ اس کو تسلیم کیا ہے۔ دوم یہ کہ آپ کے ذوق کے خلاف ہوتا رہے، لیکن انبیاء علیہ السلام کے ذوق کے خلاف نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام امتحانات الٰہی میں کامیاب ہونے کی پاداش میں اپنی اولاد کے لیے امامت کی تمنا کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں : فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِيْٓ اِلَيْہِمْ ۔ (ابراہیم: 37) اے اللہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا فرما۔

سوم: یہ کہ آنحضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد واقعات اور تاریخی حقائق یعنی اہل بیت رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ڈھائے جانے والے مظالم، حق تلفیوں وغیرہ سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے محبت ذوالقربیٰ کیوں لازم قرار دی۔

آخر میں لکھتے ہیں اس تقریر کے مخاطب اہل ایمان نہیں، کفار مکہ ہیں۔ کفار حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس کام کی کون سی قدر کر رہے تھے کہ ان سے اجر رسالت مانگیں۔ وہ الٹا اسے جرم سمجھ رہے تھے۔

جواب: اولاً تو اس تقریر کے مخاطب اہل ایمان ہیں، جس پر خود سیاق آیت شاہد ہے کہ اہل ایمان کو بشارت دیتے ہوئے اجر رسالت کا ذکر آیا ہے۔ ثانیاً: آپ کا یہ تبصرہ اس تفسیر پر زیادہ منطبق ہوتا ہے جس کے مطابق اس سے وہ رشتہ داری مراد ہے جو حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کفار قریش سے تھی۔ کیونکہ خود ان کے بقول کفار حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس کام کو خدمت نہیں جرم سمجھ رہے تھے تو اس جرم کے عوض حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قریش سے رشتہ داروں کی محبت کی اجرت مانگ رہے ہیں؟ اِنۡ تَعۡجَبۡ فَعَجَبٌ قَوۡلُہُمۡ ۔


اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۚ فَاِنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخۡتِمۡ عَلٰی قَلۡبِکَ ؕ وَ یَمۡحُ اللّٰہُ الۡبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۲۴﴾

۲۴۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں (رسول نے) اللہ پر جھوٹ بہتان باندھا ہے ؟ پس اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے اور اللہ باطل کو نابود کر دیتا ہے اور اپنے فرامین کے ذریعے حق کو پائیداری بخشتا ہے، وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے یقینا خوب واقف ہے ۔


وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۙ۲۵﴾

۲۵۔ اور وہ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کا علم رکھتا ہے۔


وَ یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ﴿۲۶﴾

۲۶۔ اور ایمان لانے والوں اور اعمال صالح بجا لانے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دیتا ہے اور کفار کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔


وَ لَوۡ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ﴿۲۷﴾

۲۷۔ اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراوانی کر دیتا تو وہ زمین میں سرکش ہو جاتے لیکن اللہ جو چاہتا ہے وہ ایک مقدار سے نازل کرتا ہے، وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، نگاہ رکھنے والا ہے۔

27۔ دولت اور بے نیازی کا احساس انسان سے تواضع و فروتنی کو سلب کرتا ہے: اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ﴿﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ۔ (علق:6۔7) انسان سرکش ہو جاتا ہے جب وہ خود کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے نیز دولت سے انسان میں موجود خواہشتات کا درندہ بیدار ہو جاتا ہے، پھر بہت کم لوگ اس درندے کو کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔


وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا وَ یَنۡشُرُ رَحۡمَتَہٗ ؕ وَ ہُوَ الۡوَلِیُّ الۡحَمِیۡدُ﴿۲۸﴾

۲۸۔ اور وہ وہی ہے جو ان کے ناامید ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی کارساز، قابل ستائش ہے۔