Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمۡ عَدًّا ﴿ۚ۸۴﴾

۸۴۔ پس آپ ان پر (عذاب کے لیے) عجلت نہ کریں، ہم ان کی گنتی یقینا پوری کریں گے۔


یَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًا ﴿ۙ۸۵﴾

۸۵۔ اس روز ہم متقین کو خدائے رحمن کے پاس مہمانوں کی طرح جمع کریں گے۔

85۔ اہل تقویٰ کے لیے اس آیت میں دو بشارتیں ہیں: ایک یہ کہ انہیں رحمن کے پاس لے جایا جائے گا۔ اس ذات کی بارگاہ میں جمع ہوں گے جو رحمن ہے۔ رحمن کے جوار میں مقام پانا ناقابل وصف و بیان نعمت ہے۔ دوسری بشارت وَفۡدًا ہے، جو مہمان کی حیثیت سے رحمن کی بارگاہ میں جائیں گے۔


وَّ نَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرۡدًا ﴿ۘ۸۶﴾

۸۶۔ اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کر لے جائیں گے۔


لَا یَمۡلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾

۸۷۔ کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہو گا سوائے اس کے جس نے رحمن سے عہد لیا ہو۔

87۔ شفاعت کرنے کے مجاز صرف وہ لوگ ہیں جن کا اللہ کے ساتھ ایک خاص عہد ہے۔ یعنی جو ہستیاں اس عہد الٰہی کے تحمل کے لیے اہل ہیں وہی شفاعت کرنے کی مجاز ہیں۔


وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ﴿ؕ۸۸﴾

۸۸۔ اور وہ کہتے ہیں: رحمن نے کسی کو فرزند بنا لیا ہے۔


لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَیۡئًا اِدًّا ﴿ۙ۸۹﴾

۸۹۔ بتحقیق تم بہت سخت بیہودہ بات (زبان پر) لائے ہو۔


تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَ تَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَ تَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾

۹۰۔ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں۔


اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ﴿ۚ۹۱﴾

۹۱۔ اس بات پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے فرزند (کی موجودگی) کا الزام لگایا ہے۔


وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ﴿ؕ۹۲﴾

۹۲۔ اور رحمن کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔

91۔ 92 اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور نہ صرف یہ کہ شان باری میں گستاخی ہے بلکہ تصور الوہیت کے سراسر منافی ہے کیونکہ کائنات میں موجود تمام چیزوں کا اللہ کے ساتھ عبد و معبود،مالک و مملوک اور خالق و مخلوق کا تعلق ہے تو ان مملوکوں میں سے کسی ایک کو اللہ کا ٹکڑا اور حصہ قرار دینا مقام معبود کے منافی اور گستاخی ہے اور اس قدر سنگین گستاخی ہے کہ کائنات کا ضمیر اسے برداشت نہیں کر سکتا۔


اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا ﴿ؕ۹۳﴾

۹۳۔ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اس رحمن کے حضور صرف بندے کی حیثیت سے پیش ہو گا۔

93۔ کائنات کی تمام موجودات بلا استثناء اللہ کی بندگی میں ہیں۔ موجودات میں کوئی ایسا وجود نہیں ہے جس کی اللہ کے ساتھ بندگی کے علاوہ کوئی نسبت ہو۔ رسول اللہ اور ولی اللہ کے لیے رسالت اور ولایت کی نسبت ہے، تو پہلے بندگی کی نسبت ہے۔ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَ رَسُولُہٗ ۔