Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۱۰۳﴾٪

۱۰۳۔ اور اگر وہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے پاس اس کا ثواب کہیں بہتر ہوتا، کاش وہ سمجھ لیتے۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۱۰۴﴾

۱۰۴۔ اے ایمان والو!راعنا نہ کہا کرو بلکہ (اس کی جگہ) [انظرنا] کہا کرو اور (رسول کی باتیں) توجہ سے سنا کرو اور کافروں کے لیے تو دردناک عذاب ہے۔

104۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : قرآن مجید میں تقریباً اسی (80) مقامات پر ان الفاظ میں مومنین سے خطاب کیا گیا ہے۔ یہ سب آیات مدنی ہیں۔ علامہ طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خطاب کا یہ انداز اس امت کے لیے ایک اعزاز ہے، ورنہ دوسری امتوں کو قرآن نے لفظ قوم سے یاد کیا ہے۔ جیسے قوم نوح، قوم ہود اور قوم عاد وغیرہ۔

ابو نعیم نے الحلیہ میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ اٰیَۃً و فِیْھَا یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِلّٰا وَ عَلِیٌّ رَاْسُہَا و اَمِیْرُھَا ۔ یعنی خدا نے يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کے ساتھ جو بھی آیت نازل کی ہے حضرت علی علیہ السلام اس کے سردار اور امیر ہیں۔

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب اسلامی احکام بیان فرماتے تو اکثر ایسا ہوتا کہ بعض افراد سن یا سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اس وقت وہ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توجہ مبذول کرانے کے لیے کہتے: رَاعِنَا یعنی ہماری رعایت فرمائیں کہ ہم سمجھ نہیں سکے۔ ہمارا لحاظ فرمائیے اور دوبارہ ارشاد فرمائیے۔

بعض یہودی بھی ان علمی مجالس میں شریک ہوتے تھے۔ وہ اس لفظ کو شرارتاً حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں توہین کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک وہ رَاعِنَا کو اَلرَّعُوْنَۃُ کے حوالے سے احمق اور بے وقوف کے معنوں میں لیتے تھے اور بعض دیگر مفسرین کے مطابق وہ رَاعِنَا کی بجائے رَاعِیْنَا ”ہمارا چرواہا“ کہتے۔


مَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ لَا الۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ﴿۱۰۵﴾

۱۰۵۔ کفر اختیار کرنے والے خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین، اس بات کو پسند ہی نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو، حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کر دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔


مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۱۰۶﴾

۱۰۶۔ ہم کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کراتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت نازل کرتے ہیں، کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ؟

106۔ آسمانی شریعتوں میں احکام کی منسوخی ایک مسلمہ امر ہے۔ اسلامی شریعت کے احکام میں بھی نسخ واقع ہوا ہے۔ کیونکہ یہ شریعت انسانی تربیت و ارتقاء کے لیے ہے اور تربیت کا مطلب ہی تدریجی ارتقاء ہے۔ اس لیے احکام میں رد و بدل ایک طبعی امر ہے۔

نسخ احکام پر یہودیوں کے اعتراض کے جواب میں فرمایا: میں جس حکم کو منسوخ کرتا ہوں اس کی جگہ اس سے بہتر یا کم از کم اس جیسا حکم لاتا ہوں۔ حالانکہ خود یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ان کی شریعت سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہے۔ خود توریت میں بہت سے احکام منسوخ ہوئے ہیں۔ مثلاً سفر تکوین باب 22 میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے اپنے فرزند کے ذبح کا حکم منسوخ ہو گیا۔ واضح رہے کہ جو اعتراض یہود نسخ احکام پر کرتے ہیں وہی اعتراض بداء پر کیا جاتا ہے۔ جب کہ نسخ اور بداء ایک چیز ہے۔ فرق یہ ہے کہ نسخ احکام میں اور بداء تکوین میں ہوتا ہے۔


اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ﴿۱۰۷﴾

۱۰۷۔کیا تو نہیں جانتا کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت صرف اللہ ہی کے لیے ہے؟ اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہے۔


اَمۡ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡـَٔلُوۡا رَسُوۡلَکُمۡ کَمَا سُئِلَ مُوۡسٰی مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَبَدَّلِ الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ﴿۱۰۸﴾

۱۰۸۔ کیا تم لوگ اپنے رسول سے ایسا ہی سوال کرنا چاہتے ہو جیسا کہ اس سے قبل موسیٰ سے کیا گیا تھا؟ اور جو ایمان کو کفر سے بدل دے وہ حتماً سیدھے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔

108۔ سوال اگر بغرض تعلیم ہو تو نہایت مستحسن ہے، لیکن اگر بغرض استہزاء ہو تو یہ کفر کے نزدیک ہے۔ قوم موسیٰ کے مطالبے کافرانہ اس لیے تھے کہ وہ ایمان بالغیب کی جگہ ایمان بالمحسوسات کے خواہاں تھے۔ بالفاظ دیگر یہ محسوس پرستی، بت پرستی اور ایمان کی جگہ کفر اختیار کرنا ہے۔


وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِکُمۡ کُفَّارًا ۚۖ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡحَقُّ ۚ فَاعۡفُوۡا وَ اصۡفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۱۰۹﴾

۱۰۹۔ (مسلمانو!) اکثر اہل کتاب حق واضح ہو جانے کے باوجود (محض) اپنے بغض اور حسد کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح ایمان کے بعد تمہیں دوبارہ کافر بنا دیں، پس آپ درگزر کریں اور نظر انداز کر دیں یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ بھیج دے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

109۔ چونکہ دل میں زوال نعمت کی آرزو رکھنا حسد کہلاتا ہے، بنا بریں اس آیت سے پتہ چلا کہ اہل کتاب، اسلام کو مسلمانوں کے لیے ایک نعمت سمجھتے ہیں۔ وہ دل سے اس کی حقانیت کے معترف ہیں کیونکہ اسلام اگر حق نہ ہوتا تو نعمت نہ سمجھا جاتا اور اس سے حسد کوئی معنی نہ رکھتا۔

یہ فیصلہ بعد میں آنے والے کسی حکم کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ آیہ قتال میں حکم آ گیا۔


وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ﴿۱۱۰﴾

۱۱۰۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جو کچھ نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس موجود پاؤ گے، تم جو بھی عمل انجام دیتے ہو اللہ یقینا اس کا خوب دیکھنے والا ہے۔

110۔ ممکن ہے کہ تَجِدُوۡہُ موجود پاؤ گے، کا مطلب یہ ہو کہ خود عمل کو موجود پاؤ گے، یعنی قیامت کے روز انسان اپنے اعمال کا خود مشاہدہ کرے گا۔ چنانچہ دوسری جگہ فرمایا: وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا (18 : 49) اور انہوں نے جو کچھ کیا تھا اسے حاضر پائیں گے۔


وَ قَالُوۡا لَنۡ یَّدۡخُلَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۱۱۱﴾

۱۱۱۔ اور وہ کہتے ہیں: جنت میں یہودی یا نصرانی کے علاوہ کوئی ہرگز داخل نہیں ہو سکتا، یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں، آپ کہدیجئے: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔

111۔ یہودیوں کے باطل عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ نجات اخروی اور جنت، عمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان کا اپنا نسلی حق ہے۔ فرمایا : یہ بے بنیاد آرزوئیں ہیں جن کے پیچھے کوئی منطق اور دلیل نہیں ہے۔

یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کو اہل جنت نہیں سمجھتے، لیکن مسلمانوں کو اہل جنت نہ سمجھنے میں دونوں متفق ہیں۔ یہ دونوں دِیَانَتَیْن آپس کے فکری و مذہبی اختلاف کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ متحد اور متفق رہی ہیں۔ اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ ۔ ہماری معاصر تاریخ میں بھی اس کے ایسے شواہد بکثرت موجود ہیں کہ جہاں سارے کفار نے اسلام کے مقابلے میں متحدہ روش اختیار کی ہو۔


بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ﴿۱۱۲﴾٪

۱۱۲۔ ہاں! جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی حزن۔

112۔ دخول جنت اور سعادت ابدی کی امید وہ شخص رکھ سکتا ہے، جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا ہو نیز جو خلوص کے ساتھ نیکی کرنے والا، پاک باطن، صالح، مخلص، محسن اور مومن ہو، اس کا دل تسلیم و رضا سے سرشار اور لبریز ہو۔