آیت 1
 

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

سورۃ الرعد

اپنے مضامین و اسلوب خطاب کی روشنی میں اس سورت کا مکّی ہونا واضح ہے۔ اگرچہ بعض روایات و مصاحف میں اس سورہ کو مدنی کہا ہے۔

سورۂ رعد باقی مکی سورتوں کی طرح بیشتر توحید، رسالت اور معاد پر گفتگو کرتا ہے لیکن اس سورۂ میں جو طرز کلام، آہنگ و سخن اور طریقہ استدلال اختیار کیا گیا ہے وہ باقی سورتوں سے منفرد ہے کہ ایک ہی موضوع پر کئی بار گفتگو ہوتی ہے لیکن ہر مرتبہ انداز سخن جدید اور طرز استدلال نرالا ہے۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓـمّٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ ؕ وَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ﴿۱﴾

۱۔ الف لام میم را، یہ کتاب کی آیات ہیں اور جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر آیات

۱۔ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ: الکتاب سے مراد اگر قرآن ہے تو قرآن میں اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی واضح اور غیر مبہم آیات ہیں۔ اگر الکتاب سے کائنات مراد لی جائے تو آیات سے مراد آسمان، شمس و قمر وغیرہ ہیں۔

اس سورہ مبارکہ میں آیات کا ذکر بہت زیادہ آتا ہے۔ قابل توجہ مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جہاں آیات فرماتا ہے وہاں آیات سے مراد کیا ہیں ؟ اللہ کے وجود کی آیات؟ اللہ کے خالق ہونے کی آیات یا اللہ کی وحدانیت کی آیات؟ یا معبود ہونے کی آیات؟ یہ سورۃ مکی ہے اور اس کے مخاطبین اولین مشرکین ہیں جو متعدد معبودوں، اربابوں کے قائل تھے اور تدبیر کائنات کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ ان کے معبودوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے وہ ان کا پوجا کرتے ہیں۔ وہ آخرت کے منکر کسی ثواب کے قائل نہ تھے۔ اپنے امور کی تدبیر کے لیے اپنے معبودوں کا پوجا کرتے تھے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ ان نشانیوں کا ذکر فرماتا ہے جو اللہ کے مدبر کائنات ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا یہاں، جہاں پر آیات کا ذکر آتا ہے اس سے مراد آیات تدبیری ہیں۔

۲۔ وَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ: رسول اللہؐ کی رسالت کی حقانیت کے اثبات سے سورہ کا افتتاح ہو رہا ہے کہ اس کتاب یعنی قرآن کے مضامین خود گواہ ہیں کہ یہ مبنی برحق ہیں۔ اس قسم کی آیتیں کسی بشر کی ساختہ و بافتہ نہیں ہو سکتیں۔ اس بات کو زندہ ضمیر کا مالک انسان سمجھ سکتا ہے، سمجھ لیتا بھی ہے اور ایمان لاتا ہے لیکن اکثر اس حقیقت کو نہیں مانتے۔

اہم نکات

۱۔ کبھی مضمون کلام خود اپنی حقانیت کی دلیل بنتا ہے: اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ ۔۔۔۔


آیت 1