آیت 113
 

وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفۡنَا فِیۡہِ مِنَ الۡوَعِیۡدِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ اَوۡ یُحۡدِثُ لَہُمۡ ذِکۡرًا﴿۱۱۳﴾

۱۱۳۔ اور اسی طرح ہم نے یہ قرآن عربی میں نازل کیا اور اس میں مختلف انداز میں تنبیہیں بیان کی ہیں کہ شاید وہ پرہیزگار بن جائیں یا (قرآن) ان کے لیے کوئی نصیحت وجود میں لائے۔

تفسیر آیات

وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ: جس طرح گزشتہ مطالب صاف اور فیصلہ کن لفظوں میں بیان ہوئے ہیں اسی وضاحت کے ساتھ ہم نے قرآن کو نازل کیا اور اس کو عربی جیسی شیرین اور مؤثر زبان میں رکھا۔

صَرَّفۡنَا فِیۡہِ مِنَ الۡوَعِیۡدِ: اس قرآن میں تنبیہات کو مختلف عبارتوں اور متعدد تعبیروں میں بیان کیا۔

لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ: تاکہ وہ آنے والی ہولناکیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں۔ یعنی وہ ایمان کی پناہ میں آ کر اپنے آپ کو جہنم کے ابدی عذاب سے بچائیں۔ اَوۡ یُحۡدِثُ لَہُمۡ ذِکۡرًا یا اس امید کے ساتھ قرآن نازل کیا ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں قبول نصیحت کے لیے آمادگی پیدا ہو جائے، شاید ان کے ضمیر بیدار ہو جائیں۔

اہم نکات

۱۔ جو کسی کو آنے والی ہولناکیوں سے بچنے کے لیے تنبیہ کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے اسے بشارت دیتا ہے: مَنْ حَذَّرَکَ کَمَنْ بَشَّرَکَ ۔ ( الامام علی علیہ السلام ۔ نہج البلاغۃ۔باب المختار من حکم ۔۔۔۔ :۵۹)


آیت 113