Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفۡلٌ مِّنۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا﴿۸۵﴾

۸۵۔ جو شخص اچھی بات کی حمایت اور سفارش کرتا ہے وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو بری بات کی حمایت اور سفارش کرتا ہے وہ بھی اس میں سے کچھ حصہ پائے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

85۔ جب رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بنفس نفیس قتال کا حکم دے دیا تو اس کے بعد فرمایا کہ جو کارہائے خیر میں مدد دیتا ہے یا مدد کی سفارش کرتا ہے وہ بھی اس کار خیر میں حصے دار ہے۔ اسی طرح برائی میں مدد دینے والا بھی اس میں شریک اور حصے دار ہے۔ آیت کے عموم میں اچھی باتوں میں ہر قسم کی سفارش اور مدد کرنا اور بری باتوں میں ہر قسم کا حصہ لینا شامل ہے۔


وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا﴿۸۶﴾

۸۶۔ اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر سلام کرو یا انہی الفاظ سے جواب دو، اللہ یقینا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

86۔تحیت و سلام کی رسم تو ہر قوم و ملت میں موجود ہے مگر ان میں تحیت و سلام کا مطلب یہ ہے کہ ادنیٰ انسان کسی بڑے کے سامنے اس کی بڑائی کا اظہار کرے۔ اسلام نے تحیت و سلام کے آداب میں اس قسم کی تفریق مٹا کر اسے امن و سلامتی، صلح و آشتی، مساوات و مؤاسات کا شعار قرار دیا ہے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسالت مآب صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام کرنے میں کوئی سبقت نہیں لے سکتا تھا۔ اسلام میں سلام کے آداب کچھ اس طرح ہیں کہ چھوٹے بڑوں کو، راہ گیر بیٹھے ہوئے لوگوں کو، سوار پیادوں کو، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔

اس آیت میں سلام کے آداب بیان فرمائے گئے ہیں کہ سلام کا جواب بہتر طریقے سے دیں۔ مسلمانوں کو ایک مبلّغ اور داعی کی حیثیت سے اخلاق و شائستگی کا درس دیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی سلام کرے تو اس کا جواب اس سے بہتر طریقے سے دیا کرو۔ واضح رہے سلام کرنا مستحب اور جوابِ سلام واجب ہے۔ حدیث میں آیا ہے: السلام تطوع و الرد فریضۃ ۔


اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیۡثًا﴿٪۸۷﴾

۸۷۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تم سب کو بروز قیامت جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ضرور جمع کرے گا اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟


فَمَا لَکُمۡ فِی الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ وَ اللّٰہُ اَرۡکَسَہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا﴿۸۸﴾

۸۸۔ پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے ہو؟ اور اللہ نے ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں اوندھا کر دیا ہے، کیا تم لوگ اللہ کے گمراہ کردہ کو ہدایت دینا چاہتے ہو؟ حالانکہ جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاؤ گے۔

88۔یہاں سے آگے منافقین کا ذکر شروع ہو جاتا ہے اور ربط آیت اس طرح ہے کہ جب اچھی بات کی مدد اور سفارش کرنے والے کو نیکی میں حصہ اور بری بات کی سفارش کرنے والے کو گناہ میں حصہ مل جاتا ہے تو پھر تم منافقین کے بارے میں دو گروہ کیوں ہو گئے ہو۔ ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ کفر و ضلالت کی اتھاہ گہرائی میں اوندھا کر دیا۔ جب اللہ نہیں چاہتا تو تم کیسے ان کی ہدایت کر سکتے ہو۔

شان نزول : حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے: کچھ لوگ مکہ سے مدینہ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ پھر مکہ واپس چلے گئے، کیونکہ انہیں مدینہ راس نہ آیا۔ پھر مسلمانوں کا سامان لے کر یمامہ چلے گئے تو مسلمانوں نے ان پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ آپس میں اختلاف ہوا۔ کچھ لوگوں نے کہا یہ لوگ مسلمان ہیں، جب کہ کچھ لوگوں نے کہا یہ لوگ مشرکین ہیں۔ اس اختلاف پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (مجمع البیان )


وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ ۪ وَ لَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۙ۸۹﴾

۸۹۔ وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہو جاؤ جیسے کافر وہ خود ہیں تاکہ تم سب یکساں ہو جاؤ، لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا حامی نہ بناؤ جب تک وہ راہ خدا میں ہجرت نہ کریں، اگر وہ (ہجرت سے) منہ موڑ لیں تو انہیں پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو اپنا حامی اور مددگار نہ بناؤ۔

89۔ جن لوگوں کے بارے میں تمہارے درمیان دو مؤقف وجود میں آگئے، وہ نہ صرف اہل ایمان نہیں ہیں، بلکہ وہ تمہارے ایمان کے بھی خلاف ہیں۔ سیاق آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ہجرت کی دعوت دینی چاہیے، اگر وہ ہجرت سے منہ موڑ یں تو اس صورت میں ان کے ساتھ قطع تعلق اور قتل کا حکم ہے۔


اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ اَوۡ جَآءُوۡکُمۡ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ اَوۡ یُقَاتِلُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَسَلَّطَہُمۡ عَلَیۡکُمۡ فَلَقٰتَلُوۡکُمۡ ۚ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡکُمۡ فَلَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ وَ اَلۡقَوۡا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سَبِیۡلًا﴿۹۰﴾

۹۰۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایسے لوگوں سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو یا وہ اس بات سے دل تنگ ہو کر تمہارے پاس آ جائیں کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا اور وہ تم سے ضرور لڑتے لہٰذا اگر وہ تم سے الگ رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر بالادستی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔

90۔ دو قسم کے منافقین کو اللہ نے اس حکم قتل سے مستثنیٰ قرار دیا ہے: 1۔ وہ منافق جو ایسی قوم سے جا ملتے ہیں جس کے اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ ہے۔ 2۔ وہ غیر جانبدار منافق جو نہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں، بلکہ وہ امن و آشتی کا پیغام دیتے ہیں۔ ان دو صورتوں میں منافقین کا قتل جائز نہ ہو گا۔


سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّاۡمَنُوۡکُمۡ وَ یَاۡمَنُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ کُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَی الۡفِتۡنَۃِ اُرۡکِسُوۡا فِیۡہَا ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ وَ یُلۡقُوۡۤا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکُمۡ جَعَلۡنَا لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا﴿٪۹۱﴾

۹۱۔ عنقریب تم دوسری قسم کے ایسے (منافق) لوگوں کو پاؤ گے جو تم سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں، لیکن اگر فتنہ انگیزی کا موقع ملے تو اس میں اوندھے منہ کود پڑتے ہیں، ایسے لوگ اگر تم لوگوں سے جنگ کرنے سے باز نہ آئیں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام نہ دیں اور دست درازی سے بھی باز نہ آئیں تو جہاں کہیں وہ ملیں انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان پر ہم نے تمہیں واضح بالادستی دی ہے۔


وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا ۚ وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـًٔا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّکُمۡ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوۡبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا﴿۹۲﴾

۹۲۔ اور کسی مومن کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے مومن کو قتل کر دے مگر غلطی سے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے وہ ایک مومن غلام آزاد کرے اور مقتول کے ورثاء کو خونبہا ادا کرے مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، پس اگر وہ مومن مقتول تمہاری دشمن قوم سے تھا تو (قاتل) ایک مومن غلام آزاد کرے اور اگر وہ مقتول ایسی قوم سے تعلق رکھتا تھا جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے ورثاء کو خونبہا دیا جائے اور ایک غلام آزاد کیا جائے اور جسے غلام میسر نہیں وہ دو ماہ متواتر روزے رکھے، یہ ہے اللہ کی طرف سے توبہ اور اللہ بڑا علم والا، حکمت والا ہے۔

92۔ اس بیان کے بعد کہ منافقین کا قتل کن صورتوں میں جائز ہے، مومن کے قتل کا ذکر آیا ہے کہ دار الکفر میں موجود منافق اور کافروں کو قتل کرنے کے ضمن میں اگر غلطی سے کوئی مؤمن قتل ہو جائے تو: ٭ اگر وہ مؤمن غیر ارادی طور پر قتل ہو جائے تو قاتل ایک مؤمن غلام آزاد کرے اوردیت بھی ادا کرے۔٭ اگر مقتول کافر قوم کا ایک مؤمن فرد تھا تو قاتل غلام آزاد کرے، دیت دینا واجب نہیں ہے کیونکہ دیت ورثاء کو ادا کرنا ہوتی ہے۔ یہاں وارث کافر ہیں اور کافر مؤمن کا وارث نہیں بن سکتا۔٭ اگر مقتول ایسی قوم کا فرد ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہے تو غلام آزاد کرنا ہو گا اور ساتھ دیت بھی دینا ہو گی۔ یہاں دیت کی مقدار وہی ہو گی جو معاہدے میں طے ہے۔ یہاں قتل کی تین قسمیں ہیں:٭ قتل عمد، اس کی سزا قصاص اور دیت ہے۔ ٭ شبہ عمد، یعنی ضرب تو مثلا ً جان بوجھ کر لگائی مگر قتل کا ارادہ نہ تھا اتفاقاً قتل ہو گیا۔ اس کی سزا دیت ہے قصاص نہیں اور دیت خود قاتل کے ذمے ہے۔ ٭ قتل خطا، قتل کا ارادہ تو نہ تھا مگر وہ زد میں آ گیا اور قتل ہو گیا اس کی سزا دیت ہے جو قرابتداروں کے ذمے ہے۔


وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا﴿۹۳﴾

۹۳۔اور جو شخص کسی مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو گی اور ایسے شخص کے لیے اس نے ایک بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

93۔ کسی مومن کو جان بوجھ کر جان سے مار دینے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں : 1۔ اگر مومن ہونے کی وجہ سے اس کا خون حلال سمجھ کر قتل کرتا ہے تو اس صورت میں قاتل ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس پر خدا کا غضب اور اس کی رحمت سے بھی دور ہو گا اور اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔ 2۔ قتل کا محرک مقتول کا مومن ہونا نہ ہو اور نہ ہی اسے جائز القتل اور اس کا خون حلال سمجھ کر قتل کیا ہو تو اس صورت میں کیا اس قاتل کی توبہ قبول ہو گی یا نہیں؟ چند اقوال ہیں۔ اہل تحقیق کے نزدیک اس کی توبہ قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنَّ اللہَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِہٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۔ (4 نساء :48) اللہ اس بات کو یقینا معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ دیگر گناہوں کو جس کے بارے میں وہ چاہے گا معاف کر دے گا۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا : اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۔ (39 زمر: 53) یقینا اللہ تمام گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ آیات مذکورہ آیت کے لیے مقید ثابت ہوں اور یہ گناہ قابل توبہ و مغفرت ہو۔


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ فَعِنۡدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیۡرَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَتَبَیَّنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا﴿۹۴﴾

۹۴۔ اے ایمان والو! جب تم راہ خدا میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو، تم دنیاوی مفاد کے طالب ہو، جب کہ اللہ کے پاس غنیمتیں بہت ہیں، پہلے خود تم بھی تو ایسی حالت میں مبتلا تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تحقیق سے کام لو، یقینا اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

94۔ السلام علیکم کہنا شروع میں مسلمانوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعض جنگوں میں جب کوئی مسلمان لپیٹ میں آ جاتا تو وہ یہ بتانے کے لیے کہ میں تمہارا مسلمان بھائی ہوں سلام کرتا اور کلمہ پڑھ دیتا، مگر مسلمان اسے قتل کر دیتے اس گمان سے کہ اس نے صرف جان بچانے کے لیے ایسا کیا ہے۔اس آیت سے صریحاً ثابت ہوتا ہے کہ کلمہ گو اور اہلِ قبلہ تو بجائے خود، اسلامی آداب و شعائر کا اظہار کرنے والے پر بھی اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں اور اس کا جان و مال محفوظ ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ کا بھی یہی نظریہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: لانکفراھل القبلۃ بذنب ۔ صاحب تفسیر المنار نیم خواندہ، تنگ نظر لوگوں کے بارے میں درست لکھتے ہیں: کہاں یہ بات اور کہاں ان لوگوں کا کردار جو نہ اپنے اسلام میں نہ اپنے اعمال میں کتاب اللہ سے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور اپنی خواہشات سے ذرا اختلاف رکھنے والے اہلِ قبلہ کو کافر قرار دینے کے بڑے شوقین ہوتے ہیں۔