Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

اَنۡ لَّا یَدۡخُلَنَّہَا الۡیَوۡمَ عَلَیۡکُمۡ مِّسۡکِیۡنٌ ﴿ۙ۲۴﴾

۲۴۔ کہ یہاں تمہارے پاس آج قطعاً کوئی مسکین نہ آنے پائے۔


وَّ غَدَوۡا عَلٰی حَرۡدٍ قٰدِرِیۡنَ﴿۲۵﴾

۲۵۔ چنانچہ وہ خود کو (مسکینوں کے) روکنے پر قادر سمجھتے ہوئے سویرے پہنچ گئے۔

25۔ حَرۡدٍ : روکنا۔ منع کرنا۔ مالداروں کی دولت میں موجود مساکین کا حق ادا نہ کرنے کی صورت میں تباہی آتی ہے۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ مساکین کو جو حق مل رہا ہے، اس کے ساتھ ان کی پوری توقعات وابستہ ہونے کے باوجود ان کے آس توڑ دی جائے۔


فَلَمَّا رَاَوۡہَا قَالُوۡۤا اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾

۲۶۔ مگر جب انہوں نے باغ کو دیکھا تو کہا: ہم تو راستہ بھول گئے ہیں۔


بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴿۲۷﴾

۲۷۔ (نہیں) بلکہ ہم محروم رہ گئے ہیں۔


قَالَ اَوۡسَطُہُمۡ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ لَوۡ لَا تُسَبِّحُوۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔ ان میں جو سب سے زیادہ اعتدال پسند تھا کہنے لگا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟


قَالُوۡا سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ﴿۲۹﴾

۲۹۔ وہ کہنے لگے: پاکیزہ ہے ہمارا رب! ہم ہی قصور وار تھے۔


فَاَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَلَاوَمُوۡنَ﴿۳۰﴾

۳۰۔ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔


قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا طٰغِیۡنَ﴿۳۱﴾

۳۱۔ کہنے لگے: ہائے ہماری شامت! ہم سرکش ہو گئے تھے۔


عَسٰی رَبُّنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَنَا خَیۡرًا مِّنۡہَاۤ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوۡنَ﴿۳۲﴾

۳۲۔ بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے، اب ہم اپنے رب ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

32۔ روایت میں آیا ہے کہ ان لوگوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بہتر باغات عنایت فرمائے۔ (زبدۃ التفاسیر)


کَذٰلِکَ الۡعَذَابُ ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ﴿٪۳۳﴾

۳۳۔ عذاب ایسا ہی ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے، کاش! یہ لوگ جان لیتے۔

17 تا 33۔ روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص اپنے باغ کا پھل گھر لانے سے پہلے ہر شخص کو اس کا حق ادا کرتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد اولاد میں سے ایک فرزند کے سوا باقی سب نے باپ کی اس روایت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح اس فرزند نے باقیوں کو تنبیہ بھی کی کہ مسکینوں کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ نہ کرو، لیکن وہ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے تو اللہ نے راتوں رات سارے باغ تباہ کر دیے۔ مکہ کے مسلمانوں کے لیے ایک درس ہے کہ آج مشرکین چند دنوں کے لیے وسعت کی زندگی اور مسلمان تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ دن دور نہیں جب مشرکین کا مال و دولت تباہ ہو جائے گا اور مسلمان آسودہ ہو جائیں گے۔