Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ٭ۖ وَّ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ۚ۶۵﴾

۶۵۔ آپ کہدیجئے: میں تو صرف تنبیہ کرنے والا ہوں اور کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو واحد، قہار ہے۔

65۔ آیت کا مرکزی نکتہ یہ ہے: معبود صرف اللہ ہے۔ اس زمانے کے مخاطب مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ معبود صرف اللہ نہیں ہے اور بھی معبود ہیں۔ ان کے نزدیک معبود وہ ہوتا ہے جو کائنات کی تدبیر میں حصہ دار ہے۔ دوسرے لفظوں میں معبود وہ ہوتا ہے جو رَب کے مقام پر فائز ہے۔ رَب وہ ہوتا ہے جو کائنات کی تدبیر کرے۔ ان کی رد میں فرمایا: آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے، سب کا رَب اللہ ہے، جو غالب آنے والا ہو کر بھی غفّار ہے۔ قرآن تکراراً اس بات کی طرف انسانوں کی توجہ مبذول کراتا ہے کہ رَب وہ ہے جو خالق ہے۔ خلق اور تدبیر میں تفریق ممکن نہیں ہے۔


رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ﴿۶۶﴾

۶۶۔ وہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، وہ بڑا غالب آنے والا ، بڑا معاف کرنے والا ہے۔


قُلۡ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۶۷﴾

۶۷۔ کہدیجئے: یہ ایک بڑی خبر ہے،

67۔ نَبَؤٌا عَظِیۡمٌ سے مراد بعض کے نزدیک سابقہ آیات کا مضمون ہے، بعض کے نزدیک اس سے مراد قرآن ہے۔


اَنۡتُمۡ عَنۡہُ مُعۡرِضُوۡنَ﴿۶۸﴾

۶۸۔ جس سے تم منہ پھیرتے ہو۔


مَا کَانَ لِیَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤی اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ﴿۶۹﴾

۶۹۔ مجھے عالم بالا کا علم نہ تھا جب وہ (فرشتے) بحث کر رہے تھے۔

69۔ یعنی میرا واحد ذریعہ علم وحی ہے۔ اگر وحی نہ ہوتی تو مجھے عالم بالا کا علم نہ ہوتا کہ وہاں کس میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے۔ اس جھگڑے سے مراد ابلیس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ جھگڑا ہے جس کا ذکر اگلی آیات میں آ رہا ہے۔


اِنۡ یُّوۡحٰۤی اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ﴿۷۰﴾

۷۰۔ میری طرف وحی محض اس لیے ہوتی ہے کہ میں نمایاں طور پر فقط تنبیہ کرنے والا ہوں۔


اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ﴿۷۱﴾

۷۱۔ جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا:میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔


فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ﴿۷۲﴾

۷۲۔ پس جب میں اسے درست بنا لوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔


فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾

۷۳۔ چنانچہ تمام کے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا،


اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اِسۡتَکۡبَرَ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿۷۴﴾

۷۴۔ سوائے ابلیس کے جو اکڑ بیٹھا اور کافروں میں سے ہو گیا۔