آیت 5
 

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ کُبِتُوۡا کَمَا کُبِتَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ۚ﴿۵﴾

۵۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ یقینا اس طرح ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلوں کو ذلیل کیا گیا ہے اور بتحقیق ہم نے واضح نشانیاں نازل کی ہیں اور کفار کے لیے ذلت والا عذاب ہے۔

تشریح کلمات

یُحَآدُّوۡنَ:

( ح د د ) اس کے معنی اللہ، رسول کی مخالفت کے ہیں اس مخالفت کو یُحَآدُّوۡنَ کہنا یا تو روکنے کے اعتبار سے ہے یا الحدید کے استعمال یعنی جنگ کی وجہ سے۔

کُبِتُوۡا:

( ک ب ت ) کسی کو سختی اور ذلت کے ساتھ واپس کر دینا۔

تفسیر آیات

۱۔ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ: اللہ نے اس سے پہلے جو حکم بیان فرمایا ہے۔ اس پر عمل کرنا ایمان ہے اور ان احکام کو اگر کوئی بے اعتنائی سے ٹھکرا دے تو یہ اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ کرنے کے مترادف ہو گا۔

۲۔ کُبِتُوۡا: اللہ اور رسول سے جنگ کرنے والوں کا حشر وہی ہو گا جو اس سے پہلے لوگوں کا ہوا ہے یعنی انہیں ذلت و خواری اٹھانا پڑے گی۔

۳۔ وَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ: اس مخالفت اور جنگ کا کوئی جواز بھی نہیں ہے چونکہ ہم نے اپنے رسول کی حقانیت کے لیے واضح نشانیاں نازل کی ہیں۔ حجت ہر اعتبار سے پوری ہو گئی ہے۔ اس کے بعد بھی مخالفت کرنے پر ذلت و رسوائی ہو گی۔


آیت 5