آیات 10 - 11
 

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ وَ الطَّیۡرَ ۚ وَ اَلَنَّا لَہُ الۡحَدِیۡدَ ﴿ۙ۱۰﴾

۱۰۔ اور بتحقیق ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے فضیلت دی، (اور ہم نے کہا) اے پہاڑو! اس کے ساتھ(تسبیح پڑھتے ہوئے) خوش الحانی کرو اور پرندوں کو بھی(یہی حکم دیا) اور ہم نے لوہے کو ان کے لیے نرم کر دیا

اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرۡ فِی السَّرۡدِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

۱۱۔ کہ تم زرہیں بناؤ اور ان کے حلقوں کو باہم مناسب رکھو اور تم سب نیک عمل کرو بتحقیق جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے دیکھتا ہوں۔

تشریح کلمات

اَوِّبِیۡ:

( ا و ب ) اَوِّبِیۡ مَعَہٗ خوش الحانی کے ساتھ تسبیح پڑھو۔ لسان العرب میں آیا ہے: سبحی معہ و رجّعی۔

اَلَنَّا:

( ل ی ن ) لین نرم کے معنوں میں ہے۔

سٰبِغٰتٍ:

( س ب غ ) سابغ پوری اور وسیع زرہ کو کہتے ہیں۔

السَّرْدِ:

( س ر د ) السرد کے اصل معنی کسی سخت چیز کو سینے کے ہیں پھر بطور استعارہ لوہے کی کڑیوں کو مسلسل جوڑنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

تفسیر آیات

۱۔ وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا: ہم نے داؤد کو اپنے پاس سے یہ فضل و کرم عطا کیا۔ ان میں سے چند کا ذکر اس آیت میں ہے۔

الف: یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ: ایک فضل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ جب وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے، خوش الحانی کریں۔ یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ خوش الحانی میں پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے تھے چونکہ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے:

وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ۔۔۔۔ (۱۷ بنی اسرائیل: ۴۴)

کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی ثنا میں تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔

پہاڑوں کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ خوش الحانی کرنے کا حکم بھی صریحاً یہ بتاتا ہے کہ پہاڑ اور پرندے بھی ایک قسم کا شعور رکھتے ہیں اور شعور ہر چیز میں موجود ہے۔ البتہ یہ حضرت داؤد علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ ان کی خوش الحانی اس قدر مؤثر تھی کہ پہاڑوں میں موجود شعور تک ان کی رسائی تھی چونکہ ہر چیز میں شعور ہے تاہم ہر چیز کا شعور اس چیز کے مطابق ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپؐ کی تسبیح بھی سنگریزوں کے شعور تک پہنچ جاتی تھی۔

ب۔ الطَّیۡرَ: اور پرندے بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ خوش الحانی کرتے تھے۔ جب آپ علیہ السلام کی تسبیح پہاڑ جیسے جمادات کے خفیف شعور تک پہنچ جاتی تھی تو پرندوں کے شعور تک پہنچ جانا تعجب کی بات نہیں ہے چونکہ پرندوں کا شعور جاندار ہونے کی وجہ سے نسبتاً ہوتا قوی ہے۔

ج۔ وَ اَلَنَّا لَہُ الۡحَدِیۡدَ: اور اللہ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ یہ بات آثار قدیمہ کی تحقیقات سے بھی ثابت ہو گئی ہے کہ زرہ سازی کی صنعت حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں رائج ہو گئی تھی۔

د۔ اس آیت میں بہت سے فضل و کرم کا ذکر نہیں ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں نبوت رسالت سے نوازا۔

ھ۔ جالوت کو قتل کر کے حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی قوم میں اونچا مقام پایا۔

و۔ طالوت بادشاہ کی وفات کے بعد آپ علیہ السلام ایک وسیع مملکت کے بادشاہ بن گئے۔

۲۔ اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ: زرہیں بنانے کا حکم جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس کی تعلیم بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوئی۔ چونکہ اس الٰہی تعلیم سے پہلے دشمن کے حملے سے بچنے کے لیے لوہے کے ٹکڑے جسم پر رکھے جاتے تھے جن میں لچک نہ تھی اور سنگینی بھی تھی۔

۳۔ وَّ قَدِّرۡ فِی السَّرۡدِ: اور حلقے باہم مناسب رکھو۔ حلقوں میں فاصلہ اتنا کم نہ ہو کہ زرہ سنگین ہو جائے اور اتنا زیادہ نہ ہو کہ نیزے کی نوک جسم تک پہنچ پائے۔ قدر کا مطلب یہی ہے حلقوں کو باہم مناسب رکھیں۔

اہم نکات

۱۔ اپنے دفاع اور تحفظ کے لیے عسکری صنعت میں مہارت حاصل کرنی چاہیے: اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ۔۔۔۔


آیات 10 - 11