آیت 110
 

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِہٖ عِلۡمًا﴿۱۱۰﴾

۱۱۰۔ اور وہ لوگوں کے سامنے اور پیچھے کی سب باتیں جانتا ہے اور وہ کسی کے احاطہ علم میں نہیں آسکتا۔

تفسیر آیات

وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِہٖ عِلۡمًا: اور اللہ کسی کے احاطہ علم میں نہیں آسکتا۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کسی کے احاطہ بصارت میں نہیں آسکتا چنانچہ حضرت امام رضا علیہ السلام کا اس آیت کے ذیل میں فرمان ہے:

فإذا رأته الأبصار فقد أحاطت به العلم۔ ( آیۃ اللہ محسنی: معجم الاحادیث المعتبرۃ، 221/1 )

اگر آنکھوں نے اسے دیکھ لیا تو وہ آنکھوں کے احاطہ علم میں آگیا۔

مروی ہے کہ ابو قرہ نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے کہا: ہماری روایتوں میں ہے کہ اللہ نے انبیاء میں کلام اور دید کو تقسیم کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا دیدار عنایت فرمایا: تو امام علیہ السلام نے فرمایا:

فَمَنِ الْمُبَلِّغُ عَنِ اللّٰہِ اِلَی الثَّقَلِیْنِ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ۔ لَا تُدْرِكُہُ الْاَبْصَارُ (۶ انعام: ۱۰۳) وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا ( ۲۰ طہ: ۱۱۰) لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ (۴۲ شوری: ۱۱) اَلَیْسَ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: بَلَی۔ قَالَ: کَیْفَ یُجِییئُ رَجُلٌ اِلَی الْخَلْقِ جَمِیعاً فَیُخْبِرُھُمْ اَنَّہُ جَائَ مِنْ عِنْدَ اللّٰہِ وَ اَنَّہُ یَدْعُوھُمْ اِلَی اللّٰہِ بِاَمْرِ اللّٰہ فَیَقُولُ: لَا تُدْرِكُہُ الْاَبْصَارُ۔ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا۔ وَ لَيْسَ كَمِثْلِہٖ۔ ثُمَّ یَقُولُ: اَنَا رَاَیْتُہُ بِعَیْنِی وَاَحَطْتُ بہ عِلْماً وَ ھُوَ عَلَی صُورَۃِ الْبَشَرِ اَمَا تَسْتَحُونَ مَا قَدَرَتِ الزَّنَادِقَۃُ اَنْ تَرْمِیَہُ بِھَذَا اَنْ یَکُونَ یَاْتِی مِنْ عِنْدَ اللّٰہِ بِشِیئٍ ثُمَّ یَاْتِی بِخِلَافِہِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ۔۔۔ وَ قَدْ قَالَ اللّٰہُ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا فَاِذَا رَاَتْہُ الْاَبْصَارُ فَقَدْ اَحَاطَتْ بِہَ الْعِلْمُ ۔۔۔۔ ( الکافی ۱: ۹۵ باب ابطال الرؤیۃ )

پھر جن و انس کی طرف یہ آیات پہنچانے والا کون ہے؟ نگاہیں اس کو درک نہیں کر سکتیں۔ اس پر علم کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں۔ کیا وہ محمدؐ نہیں ہیں؟ کہا: ہاں۔ فرمایا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص پوری مخلوق کی طرف آئے اور کہے وہ اللہ کی طرف سے آیا ہے اور وہ بحکم خدا اللہ کی طرف دعوت بھی دیتا ہے۔ جس میں وہ کہتا ہے: نگاہیں اسے درک نہیں کر سکتیں اور اس پر علم کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ پھر کہے: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اس پر میں نے احاطۂ علم کیا۔ وہ بشر کی شکل میں ہے۔ کیا تم شرم نہیں کرتے۔ زندیق لوگ یہ الزام نہیں لگا سکے کہ وہ اللہ کی طرف سے ایک چیز لے کر آتا ہے پھر اس کے خلاف بھی پیش کرتا ہے۔۔۔ جب کہ اللہ نے خود کہا ہے کہ وہ احاطہ علم میں نہیں آ سکتا۔ اگر آنکھوں نے اسے دیکھ لیا تو وہ احاطہ علم میں آگیا۔


آیت 110