Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿۴۷﴾

۴۷۔ کہدیجئے: بھلا مجھے بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر اچانک یا علانیہ طور پر آ جائے تو کیا ظالموں کے سوا کوئی ہلاک ہو گا؟

46۔47 نفی شریک پر ایک اور دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ کے علاوہ کوئی اور ذات بھی موجود ہو جو اللہ کے ساتھ دفع ضرر اور جذب منفعت میں مؤثر ہو تو یہ دیکھ لو کہ تمہاری آنکھیں اور کان کی قوت، بصارت و سماعت اگر اللہ چھین لے تو پتھر کے یہ بت تمہیں یہ چیزیں واپس دلا سکیں گے؟ اگر نہیں دلا سکتے تو اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے ان پتھروں کو کیوں شفیع اور مؤثر سمجھتے ہو اور اپنے آپ کو ظالموں میں شامل کر کے ہر آنے والے عذاب کا نشانہ کیوں بنتے ہو۔


وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ فَمَنۡ اٰمَنَ وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ﴿۴۸﴾

۴۸۔اور ہم تو رسولوں کو صرف بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے بنا کر بھیجتے ہیں، پھر جو ایمان لے آئے اور اصلاح کر لے تو ایسے لوگوں کے لیے نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ محزون ہوں گے۔


وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الۡعَذَابُ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ﴿۴۹﴾

۴۹۔اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں عذاب میں مبتلا ہوں گے۔


قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ اِنِّیۡ مَلَکٌ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ﴿٪۵۰﴾

۵۰۔کہدیجئے: میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اس حکم کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی ہوتی ہے، کہدیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟کیا تم غور نہیں کرتے؟

50۔ خزانۂ الہٰی سے ممکن ہے وہ منبع فیض مراد ہو جس سے تمام موجودات ان کے وجود سمیت مستفیض ہو رہی ہیں۔ اسی کو خزائن رحمت سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی مصدر فیض سے پوری کائنات وجود میں آئی وَلِلہِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (منافقون: 7) آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ مشرکین کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف سے کوئی رسول آتا ہے تو اسے انسانوں کی طرح بھوک و پیاس سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ وہ رسول ایسا ہونا چاہیے کہ وہ جب حکم دے تو پہاڑ سونے کا ہو جائے، اس کے ایک اشارے سے دنیا کی ساری نعمتیں سمٹ کر سامنے آ جائیں۔ یہ کیسا رسول ہوا کہ اس کو اپنی ضرورتوں کے لیے لوگوں سے قرض لینے تک کی نوبت آ جائے۔ مشرکین کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہیں کرتے یا آپ کے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی ایسا باغ ہو جس کے درمیان نہریں بہ رہی ہوں یا جیسا کہ آپ خیال کرتے ہیں آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں یا خود آپ کے لیے سونے کا کوئی گھر ہو۔ (اسراء: 93)

علم غیب کی دو قسمیں ہیں: ایک ذاتی علم جو کسی تعلیم اور وحی کے بغیر بذات خود معلوم ہو۔ یہ علم صرف اللہ کے ساتھ مختص ہے۔ دوسرا وہ علم جو وحی اور تعلیم کے ذریعے کسی ذات میں آ جائے۔ یہ علم غیب اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو عنایت فرماتا ہے: ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ۔ (آل عمران: 44) یہ غیب کی خبریں ہم آپ کو وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔


وَ اَنۡذِرۡ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ لَیۡسَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ﴿۵۱﴾

۵۱۔ اور آپ اس (قرآن) کے ذریعے ان لوگوں کو متنبہ کریں جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے ایسی حالت میں جمع کیے جائیں گے کہ اللہ کے سوا ان کا نہ کوئی کارساز ہو گا اور نہ شفاعت کنندہ، شاید وہ تقویٰ اختیار کریں۔

51۔ اگرچہ قرآن عام لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے تاہم اس قرآن سے صحیح استفادہ کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو خوف خدا دل میں رکھتے ہیں۔


وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ ؕ مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۵۲﴾

۵۲۔اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ کریں، نہ آپ پر ان کا کوئی بار حساب ہے اور نہ ہی ان پر آپ کا کوئی بار حساب ہے کہ آپ انہیں (اپنے سے) دور کر دیں پس (اگر ایسا کیا تو) آپ ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔

52۔ شروع میں مفلوک الحال لوگوں نے ہی اسلام قبول کیا تھا، جس پر قریش طنز کرتے تھے کہ اس شخص کے گرد ہماری قوم کے ادنیٰ طبقے کے لوگ جمع ہیں۔ جیسا کہ قوم نوح نے بھی یہی طنز کیا تھا۔ (شعراء: 111) اسی طرح تمام انبیاء نے مادی اقدار اور انسانی اقدار کی جنگ لڑی ہے۔ قریش کے رئیس از روئے طنز کہتے تھے: کیا اللہ نے اپنے فضل و کرم کے لیے ہم میں سے صہیب، بلال اور خباب جیسوں کا انتخاب کیا ہے جن کے جسم سے بدبو آتی ہے؟ ہم اسلام قبول کر بھی لیں تو کیا ہمیں ان کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا؟جواب میں فرمایا:یہی اصل آزمائش ہے۔ ان اقدار کے امتحان میں آج بھی بہت سے لوگ ناکام نظر آتے ہیں۔


وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لِّیَقُوۡلُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ﴿۵۳﴾

۵۳۔ اور اس طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے (یوں) آزمائش میں ڈالا کہ وہ یہ کہدیں کہ کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے فضل و کرم کیا ہے؟ (کہدیجئے) کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو بہتر نہیں جانتا؟


وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۵۴﴾

۵۴۔اور جب آپ کے پاس ہماری آیات پر ایمان لانے والے لوگ آجائیں تو ان سے کہیے: سلام علیکم تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ تم میں سے جو نادانی سے کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

54۔ زمانہ جاہلیت میں جن افراد کے ساتھ بیٹھنے کو عار سمجھا جاتا تھا انہی افراد کے بارے میں رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ حکم ملتا ہے کہ یہ لوگ جب آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آئیں تو ان کو سلام علیکم کہیں اور عہد جاہلیت میں اگر ان سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے تو اللہ معاف فرما دے گا۔


وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لِتَسۡتَبِیۡنَ سَبِیۡلُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ﴿٪۵۵﴾

۵۵۔ اور اسی طرح آیات کو ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ نمایاں ہو جائے۔


قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَہۡوَآءَکُمۡ ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ﴿۵۶﴾

۵۶۔کہدیجئے: اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو ان کی بندگی سے مجھے منع کیا گیا ہے، کہدیجئے: میں تمہاری خواہشات کی اتباع نہیں کروں گا اور اگر ایسا کروں تو میں گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت یافتہ افراد میں شامل نہیں رہوں گا۔