Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

کَمۡ تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵﴾

۲۵۔ وہ لوگ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے،


وَّ زُرُوۡعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۲۶﴾

۲۶۔ اور کھیتیاں اور عمدہ محلات،


وَّ نَعۡمَۃٍ کَانُوۡا فِیۡہَا فٰکِہِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾

۲۷۔ اور نعمتیں جن میں وہ مزے لیتے تھے،


کَذٰلِکَ ۟ وَ اَوۡرَثۡنٰہَا قَوۡمًا اٰخَرِیۡنَ﴿۲۸﴾

۲۸۔ (یہ قصہ) اسی طرح واقع ہوا اور ہم نے دوسروں کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔

28۔ دوسروں کو وارث بنانا: اس سے آل فرعون کے بعد کے لوگ ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ یہ کہنا کہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، کیونکہ وہ واپس مصر گئے اور آل فرعون کے وارث بنے، درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ بنی اسرائیل کی واپسی کے شواہد نہیں ملتے۔


فَمَا بَکَتۡ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَا کَانُوۡا مُنۡظَرِیۡنَ﴿٪۲۹﴾

۲۹۔ پھر نہ آسمان و زمین نے ان پر گریہ کیا اور نہ ہی وہ مہلت ملنے والوں میں سے تھے۔

29۔ فرعون اور آل فرعون جب اقتدار پر تھے تو سب ان کے قصیدہ خواں تھے اور جب وہ غرق ہو گئے تو نہ چشم فلک نے گریہ کیا، نہ روئے زمین پر کسی نے آنسو بہایا، بلکہ بہت سے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت یحیٰی اور حضرت امام حسین علیہما السلام کی شہادت پر آسمان نے چالیس دن تک گریہ کیا۔ (مجمع البیان)

تفسیر در المنثور میں آیا ہے کہ جب حضرت یحیٰی علیہ السلام شہید ہوئے تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون کے قطرے گرے اور جب (حضرت) حسین بن علی (علیہما السلام) شہید ہوئے تو آسمان سرخ ہو گیا۔


وَ لَقَدۡ نَجَّیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ۙ۳۰﴾

۳۰۔ اور بتحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے نجات دی،


مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ﴿۳۱﴾

۳۱۔ (یعنی) فرعون سے، جو حد سے تجاوز کرنے والوں میں بہت اونچا چلا گیا تھا۔


وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾

۳۲۔ اور بتحقیق ہم نے انہیں (بنی اسرائیل کو) اپنے علم کی بنیاد پر اہل عالم پر فوقیت بخشی۔

32۔ سب سے زیادہ انبیاء بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔ عَلٰی عِلۡمٍ ، اپنے اس علم کی بنا پر بنی اسرائیل کو دوسری قوموں پر فضیلت دی۔ چونکہ اس وقت زمین پر بسنے والی قوموں میں سب سے زیادہ اس بار امانت کو اٹھانے کے لیے مناسب قوم یہی تھی۔


وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ﴿۳۳﴾

۳۳۔ اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح امتحان تھا۔

33۔ کسی فرد یا قوم کو نعمتیں دے کر آزمایا جاتا ہے، کسی سے نعمتیں چھین کر۔ بنی اسرائیل کو دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ معجزات دکھا کر آزمایا گیا۔ ان کے لیے دریا شق ہو گیا۔ من و سلوی دیے گئے۔ پہاڑ سے چشمے نکالے گئے۔ فرعون کے ظلم سے نجات دلائی۔ لیکن اس قوم نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی۔


اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

۳۴۔ یہ لوگ ضرور کہیں گے: