Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ﴿۶۵﴾

۶۵۔ پھر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس ظالموں کے لیے دردناک دن کے عذاب سے تباہی ہے۔

65۔اس اختلاف میں ایک گروہ نے ان پر ناروا الزام عائد کیا اور ایک گروہ نے ان کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔

ایک روایت میں رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو عیسیٰ علیہ السلام کا مثل قرار دیا کہ ایک گروہ ان کے بغض میں اور ایک گروہ ان کے بارے میں غلو کے باعث ہلاک ہو جائے گا۔ (مناقب حافظ ابن مردویہ)


ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ﴿۶۶﴾

۶۶۔ کیا یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر اچانک آ پڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟


اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾

۶۷۔ اس دن دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔

67۔ جو لوگ دنیا میں معصیت کار لوگوں کو اپنا دوست بناتے ہیں، کل قیامت کے دن یہ لوگ دشمن ہو جائیں گے۔ کل صرف وہ دوست کام آئیں گے جو متقی ہیں۔ لہٰذا سمجھداری کا تقاضا ہے کہ دنیا میں متقی لوگوں کی دوستی اختیار کی جائے۔


یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾

۶۸۔ (پرہیزگاروں سے کہا جائے گا) اے میرے بندو! آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی تم غمگین ہو گے۔


اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۶۹﴾

۶۹۔ (یہ وہی ہوں گے) جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور وہ مسلمان تھے۔


اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ﴿۷۰﴾

۷۰۔ (انہیں حکم ملے گا) تم اور تمہاری ازواج خوشی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔


یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَہَبٍ وَّ اَکۡوَابٍ ۚ وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚ۷۱﴾

۷۱۔ ان کے سامنے سونے کے تھال اور جام پھرائے جائیں گے اور اس میں ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی نفس خواہش کرے اور جس سے نگاہیں لذت حاصل کریں اور تم اس میں ہمیشہ رہوگے۔

71۔ جس طرح ایک جنین کے لیے عالم دنیا اور اس کی چیزیں قابل فہم نہیں ہیں اسی طرح دنیا والوں کے لیے عالم آخرت اور اس کی چیزیں قابل فہم نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ دنیا کی چیزوں کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ جنت میں باغات، نہریں، حوریں اور میوے ہوں گے۔ کیونکہ عالم دنیا کا انسان صرف انہی چیزوں کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے اللہ اپنی قدرت کو ہاتھ سے تعبیر کرتا ہے کیونکہ انسان کے لیے مانوس تعبیر یہی ہے۔ اس آیت میں جنت کی نعمتوں کی جامع تعریف موجود ہے۔

تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ : جس کی نفس خواہش کرے۔ جو بھی انسانی نفس کے دائرے میں آئے، وہ موجود ہو گا۔ خواہ اس کا تعلق لذتوں سے ہو یا آوازوں یا خوشبوؤں یا دیگر محسوسات سے ہو یا ان کی کیفیت سے ہو۔ اگر یہ خواہش ہو کہ جنت کی لذتوں میں تکرار نہ ہو، ہر مرتبہ نئی لذت ہو تو بھی میسر ہو گی۔

وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ : نگاہیں لذت حاصل کریں۔ اس میں بصری نعمتوں کا ذکر آیا۔ اس میں سرفہرست جمالیات ہیں۔ خوبصورت چہرے، حسین مناظر، زیب و زینت کی چیزیں۔ ان دو لفظوں میں قابل تصور تمام نعمتوں کی ایک جامع تعریف آ گئی، تاہم عالم جنت میں انسانی خواہشات اور جمالیات ہمارے لیے قابل فہم نہیں ہیں۔ اشتہا اور لذت کی تعبیر انسان کو کسی حد تک مطلب کے نزدیک کر دیتی ہے۔


وَ تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴿۷۲﴾

۷۲۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں وارث بنا دیا گیا ہے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔


لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ﴿۷۳﴾

۷۳۔ اس میں تمہارے لیے بہت سے میوے ہیں جنہیں تم کھاؤ گے۔


اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۴﴾

۷۴۔ جو لوگ مجرم ہیں یقینا وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔