Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾

۵۵۔ پس جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا پھر ان سب کو غرق کر دیا۔


فَجَعَلۡنٰہُمۡ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلۡاٰخِرِیۡنَ﴿٪۵۶﴾

۵۶۔ پھر ہم نے انہیں قصہ پارینہ اور بعد (میں آنے) والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا،


وَ لَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ﴿۵۷﴾

۵۷۔ اور جب ابن مریم کی مثال دی گئی تو آپ کی قوم نے اس پر شور مچایا۔


وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ﴿۵۸﴾

۵۸۔ اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ (عیسیٰ)؟ انہوں نے عیسیٰ کی مثال صرف برائے بحث بیان کی ہے بلکہ یہ لوگ تو جھگڑالو ہیں۔


اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾

۵۹۔ وہ تو بس ہمارے بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے انہیں بنی اسرائیل کے لیے نمونہ ( قدرت) بنا دیا۔

57 تا59۔ ان آیات کے شان نزول میں روایت ہے کہ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک بار مسجد میں اہل مکہ کو بتوں کی پرستش کے بارے میں سورۃ الانبیاء کی یہ آیت سنائی: اِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ اَنۡتُمۡ لَہَا وٰرِدُوۡنَ ۔ تم اور اللہ کے علاوہ وہ معبود جن کی تم پرستش کرتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں اور تم اس میں داخل ہو گے۔ اس پر عبد اللہ ابن الزبعری نامی شخص نے کہا : مسیحی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اس کی پرستش کرتے ہیں تو کیا برا ہے کہ ہم بھی عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوں؟ اس پر مجمع سے قہقہہ بلند ہوا۔ آنے والی آیات میں سلسلہ کلام جاری ہے۔ پھر اس اعتراض کا جواب بھی آئے گا۔

59۔ بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنا دیا۔ یعنی قدرت الٰہی کا نمونہ بنا دیا۔ وہ مردوں کو زندہ کرتے، مادر زاد اندھوں کو بینائی دیتے۔ وہ مٹی کا پرندہ بناتے اس میں روح پھونکتے، وہ پرندہ زندہ ہو جاتا۔


وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ﴿۶۰﴾

۶۰۔اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تمہاری جگہ فرشتوں کو جانشین بنا دیتے ۔

60۔ اس آیت کی ایک تفسیر وہی ہے، جس کے تحت متن کا ترجمہ ہے۔ بنا بر این مِنۡکُمۡ میں مِن بدل کے لیے ہے، یعنی تمہاری جگہ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتہ صفت لوگ پیدا کرتے جو ایک دوسرے کے جانشین ہوتے۔ وہ ظاہر میں بشر، لیکن وہ پاکیزگی میں، باطن میں فرشتوں کی طرح ہوتے۔ سیاق آیت کے مطابق پہلی تفسیر درست ہے۔ کیونکہ وَ لَوۡ نَشَآءُ اگر ہم چاہتے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے نہیں چاہا زمین پر تمہاری جگہ فرشتے ہوں۔ دوسری تفسیر میں یہ بات درست نہیں بیٹھتی، اگر ہم چاہتے تو زمین میں فرشتہ صفت بشر پیدا کرتے، لیکن ہم نے نہیں چاہا اور ایسا انسان پیدا نہیں کیا۔


وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ﴿۶۱﴾

۶۱۔ اور وہ (عیسیٰ) یقینا قیامت کی علامت ہے پس تم ان میں ہرگز شک نہ کرو اور میری اتباع کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

61۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی سچائی کی ایک دلیل ہیں۔ جو ذات عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر با پ کے پیدا کر سکتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے مردوں کو زندہ کر سکتی ہے، وہ ذات قیامت کے دن سب کو زندہ کر سکتی ہے۔


وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ﴿۶۲﴾

۶۲۔ اور شیطان کہیں تمہارا راستہ نہ روکے وہ یقینا تمہارا کھلا دشمن ہے۔


وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ﴿۶۳﴾

۶۳۔ اور عیسیٰ جب واضح دلائل لے کر آئے تو بولے: میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور جن بعض باتوں میں تم اختلاف رکھتے ہو انہیں تمہارے لیے بیان کرنے آیا ہوں، پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔


اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ﴿۶۴﴾

۶۴۔ یقینا اللہ ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

64۔ یہاں سے کفار مکہ کے اعتراض کا جواب شروع ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کا بیٹا ہوں، تم میری عبادت کرو۔ عیسیٰ کی دعوت کا محور تو توحید اور یکتا پرستی تھا۔