Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ﴿٪۴۵﴾

۴۵۔ اور جو پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے بھیجے ہیں ان سے پوچھ لیجیے: کیا ہم نے خدائے رحمن کے علاوہ معبود بنائے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے؟

45۔ سابقہ انبیاء سے پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان انبیاء نے جو تعلیمات چھوڑی ہیں، ان میں تلاش کرو۔ روایات اہل بیت علیہم السلام میں آیا ہے کہ شب معراج رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے تمام انبیاء جمع کیے گئے، پھر ان سے سوال کرنے کا حکم ہوا۔ (الاحتجاج)


وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَقَالَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿۴۶﴾

۴۶۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا، پس موسیٰ نے کہا: میں رب العالمین کا رسول ہوں۔


فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنۡہَا یَضۡحَکُوۡنَ﴿۴۷﴾

۴۷۔ پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وہ ان نشانیوں پر ہنسنے لگے۔


وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ﴿۴۸﴾

۴۸۔ اور جو نشانی ہم انہیں دکھاتے تھے وہ پہلی سے بڑی ہوتی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا کہ شاید وہ باز آ جائیں۔

47۔48 ان نشانیوں سے مراد ہے: جادوگروں کا مقابلہ، شدید قحط، طوفان کے ذریعے بستیوں اور کھیتوں کی تباہی، ٹڈی دل کا تباہ کن حملہ، جوؤں اور سسریوں کا بے تحاشا پھیلنا، ملک کے گوشہ و کنار میں مینڈکوں کا سیلاب، نہروں، چشموں اور کنوؤں کے پانی کا خون میں تبدیل ہو جانا۔ ہر بار فرعون یہ وعدہ کرتا کہ اگر یہ بلا آپ علیہ السلام کی دعا سے ٹل جائے تو ہم ایمان لائیں گے۔ لیکن بلا ٹلنے پر وہ عہد شکنی کرتا تھا۔


وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ اِنَّنَا لَمُہۡتَدُوۡنَ﴿۴۹﴾

۴۹۔اور(عذاب دیکھ کر)کہنے لگے:اے جادوگر! تیرے رب نے تیرے نزدیک تجھ سے جو عہد کر رکھا ہے اس کے مطابق ہمارے لیے دعا کر، ہم یقینا ہدایت یافتہ ہو جائیں گے۔


فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِذَا ہُمۡ یَنۡکُثُوۡنَ﴿۵۰﴾

۵۰۔ پھر جب ہم نے عذاب کو ان سے دور کر دیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے۔


وَ نَادٰی فِرۡعَوۡنُ فِیۡ قَوۡمِہٖ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾

۵۱۔اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا: اے میری قوم! کیا مصر کی سلطنت میرے لیے نہیں ہے، اور یہ نہریں جو میرے (محلات کے) نیچے بہ رہی ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟


اَمۡ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ ہُوَ مَہِیۡنٌ ۬ۙ وَّ لَا یَکَادُ یُبِیۡنُ﴿۵۲﴾

۵۲۔ کیا میں اس شخص سے بہتر نہیں ہوں جو بے توقیر ہے اور صاف بات بھی نہیں کر سکتا؟

52۔ اس کے پاس نہ دولت ہے، نہ حشمت، نہ عزت و جلالت۔ وہ اپنا مدعا بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا۔ یہ لکنت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بچپن سے تھی۔ فرعون کو یہ معلوم نہیں ہوا ہو گا کہ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں وہ لکنت نہیں ہے۔ بار نبوت اٹھاتے وقت جناب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اللہ آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھول دے: وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ۔ (طہ : 27)


فَلَوۡ لَاۤ اُلۡقِیَ عَلَیۡہِ اَسۡوِرَۃٌ مِّنۡ ذَہَبٍ اَوۡ جَآءَ مَعَہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ مُقۡتَرِنِیۡنَ﴿۵۳﴾

۵۳۔ تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں اتارے گئے یا فرشتے اس کے ساتھ یکے بعد دیگرے کیوں نہیں آئے؟

53۔ کہتے ہیں قدیم زمانے میں وزیروں اور شاہی نمائندوں کو دربار کی طرف سے خلعت کے طور پر سونے کا کنگن دیا جاتا تھا اور سپاہیوں کا ایک دستہ بھی اس کے ہمراہ ہو لیتا تھا۔ فرعون ”مکہ“ والوں کے اعتراض کی مانند یہی بات کر رہا ہے کہ یہ رسول، اللہ کا کیسا نمائندہ ہے جس کے ہاتھ میں خشک لاٹھی ہے اور بدن پر کھردرا کپڑا ہے۔


فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَہٗ فَاَطَاعُوۡہُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ﴿۵۴﴾

۵۴۔ چونکہ اس نے اپنی قوم کو بے وقعت کر دیا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، وہ یقینا فاسق لوگ تھے۔

54۔ فرعون نے اپنی قوم کو بے وقعت کر دیا۔ جابر لوگ ہمیشہ اپنی رعیت سے ان کی انسانی قدریں چھین کر انہیں بے وقعت کر دیتے ہیں۔ جب قوم کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی تو پھر یہ قوم جابر طاقتوں کی غلام بن جاتی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں اسی نکتہ کو بیان فرمایا: فرعون نے اپنی قوم کو جب بے حیثیت کر دیا تو قوم نے فرعون کی اطاعت کی۔ اسی نکتے کی طرف حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید کی اطاعت کرنے والوں کے لیے اشارہ فرمایا: ان لم یکن لکم دین۔۔۔ فکونوا احراراً فی دنیاکم ۔ (بحار الانوار 45: 50) اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے، تو تم اپنی دنیا میں تو آزاد رہو۔ (بے وقعت نہ بنو)