Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ زُخۡرُفًا ؕ وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ﴿٪۳۵﴾

۳۵۔ (چاندی) اور سونے سے بنا دیتے اور یہ سب دنیاوی متاع حیات ہے اور آخرت آپ کے رب کے ہاں اہل تقویٰ کے لیے ہے۔


وَ مَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ﴿۳۶﴾

۳۶۔ اور جو بھی رحمن کے ذکر سے پہلوتہی کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تو وہی اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔

36۔ ایک گناہ دوسرے گناہ اور ایک جرم دوسرے جرم کے ارتکاب کے لیے زینہ بنتا ہے۔ ایک بار کسی جرم کے مرتکب ہونے سے شیطان کے دام میں آسانی سے پھنس جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے شیطان کے دام میں چھوڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہاتھ اٹھا لے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دے۔ اس صورت میں اسے راہ حق دکھانے والا کوئی نہ ہو گا۔ پوری طرح شیطان کے دام میں پھنس جائے گا۔

نُقَیِّضۡ کی نسبت اللہ کی طرف اس طرح ہے کہ اللہ نے اسے اس کے جرم کی پاداش میں اپنے حال پر چھوڑ دیا تو وہ شیطان کے زیر تسلط چلا گیا۔


وَ اِنَّہُمۡ لَیَصُدُّوۡنَہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ﴿۳۷﴾

۳۷۔ اور وہ (شیاطین) انہیں راہ (حق) سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں۔

37۔ اس طرح وہ ضلالت مرکبہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ضلالت کی اتھاہ گہرائی میں یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہی راہ راست پر ہیں۔ اس ضلالت مرکبہ کی وجہ سے وہ حق کی جستجو کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔


حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ﴿۳۸﴾

۳۸۔ جب یہ شخص ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا: اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیان دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، تو بہت برا ساتھی ہے۔

38۔ اللہ کی بارگاہ میں پہنچنے پر پتہ چلے گا کہ وہ کس دام میں مبتلا رہا ہے۔

بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ میں دو مشرقوں سے مراد مشرق و مغرب ہے۔ جیسے والد اور والدہ کے لیے والدین کہتے ہیں۔


وَ لَنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡیَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ﴿۳۹﴾

۳۹۔ اور جب تم ظلم کر چکے تو آج (ندامت) تمہیں فائدہ نہیں دے گی، عذاب میں یقینا تم سب شریک ہو۔


اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ اَوۡ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ﴿۴۰﴾

۴۰۔ کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا اندھے کو یا اسے جو واضح گمراہی میں ہے راستہ دکھا سکتے ہیں؟


فَاِمَّا نَذۡہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنۡہُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾

۴۱۔ پس اگر ہم آپ کو اٹھا بھی لیں تو یقینا ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔

41۔ مکہ کے کفار اس تحریک کو الٰہی نہیں بلکہ صرف رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات سے مربوط سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ شخص اگر ختم ہو جائے تو تحریک بھی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ کفار کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرمایا :ہمیں ان کافروں کو سزا دینا ہے، خواہ ہم آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس دنیا سے اٹھائیں یا آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کا انجام دکھا دیں۔


اَوۡ نُرِیَنَّکَ الَّذِیۡ وَعَدۡنٰہُمۡ فَاِنَّا عَلَیۡہِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ﴿۴۲﴾

۴۲۔ یا (آپ کی زندگی میں) آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، یقینا ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں


فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ﴿۴۳﴾

۴۳۔ پس آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس سے تمسک کریں، آپ یقینا سیدھے راستے پر ہیں۔

43۔ ان تمام شدائد کا حل اس میں ہے کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحی کے ذریعے ملنے والی تعلیمات کے ساتھ متمسک رہیں۔ وحی آپ کے لیے نہایت مضبوط پشتیبان ہے۔ دوسری طاقت یہ ہے کہ آپ صراط مستقیم پر ہیں، جو حق ہے۔ حق کو ثبات ہے اور باطل نے مٹ جانا ہے۔


وَ اِنَّہٗ لَذِکۡرٌ لَّکَ وَ لِقَوۡمِکَ ۚ وَ سَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ﴿۴۴﴾

۴۴۔ اور یہ (قرآن) آپ کے اور آپ کی قوم کے لیے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سب سے سوال کیا جائے گا۔

44۔ یہ قرآن آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قوم کے لیے ذکر ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے: یہ قرآن آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قوم کے لیے ذکر خدا کا ذریعہ ہے۔ دوسری تفسیر میں ذکر سے مراد شرف لیا ہے۔ یعنی یہ قرآن آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قوم کے لیے ایک شرف ہے