Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ ہَبۡ لِیۡ مُلۡکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ ﴿۳۵﴾

۳۵۔ کہا: میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو، یقینا تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔


فَسَخَّرۡنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖ رُخَآءً حَیۡثُ اَصَابَ ﴿ۙ۳۶﴾

۳۶۔ پھر ہم نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا، جدھر وہ جانا چاہتے ان کے حکم سے نرمی کے ساتھ اسی طرف چل پڑتی تھی۔

36۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے تسخیر ہوا کے بارے میں حاشیہ سورہ انبیاء آیت 81 میں گزر چکا ہے۔ البتہ یہاں اس ہوا کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ نرمی سے چلتی تھی۔ نرمی سے مراد یہ ہے کہ ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر اور ان کے اختیار میں ہوتی تھی، ورنہ اپنی جگہ ہوا تیز چلتی تھی۔ جیسا کہ سورہ انبیاء آیت 81 میں فرمایا کہ یہ ہوا عاصفہ (تیز رفتار) تھی۔


وَ الشَّیٰطِیۡنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍ ﴿ۙ۳۷﴾

۳۷۔ اور ہر قسم کے معمار اور غوطہ خور شیاطین کو بھی (مسخر کیا)۔


وَّ اٰخَرِیۡنَ مُقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ﴿۳۸﴾

۳۸۔ اور دوسروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

38۔ بعض شیاطین یعنی جنوں کو تعمیراتی امور اور غوطہ زنی پر مامور کیا گیا تھا اور بعض جنات جو فرمانبردار نہیں ہوئے تھے، پابند سلاسل کیے گئے تھے۔


ہٰذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِکۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ﴿۳۹﴾

۳۹۔ یہ ہماری عنایت ہے جس پر چاہو احسان کرو اور جس کو چاہو روک دو، اس کا کوئی حساب نہیں ہو گا۔

39۔ آیت سے یہ مفہوم ظاہر ہوتا ہے: شیاطین کو آپ کے لیے مسخر کر دیا گیا۔ یہ اللہ کی ایک عنایت ہے۔ اب آپ ان شیاطین میں سے جسے چھوڑنا چاہیں یا اپنے پاس روکے رکھنا چاہیں، آپ کو اختیار ہے۔ اس بارے میں آپ سے پوچھا نہیں جائے گا۔


وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَ حُسۡنَ مَاٰبٍ﴿٪۴۰﴾

۴۰۔ اور ان کے لیے ہمارے ہاں یقینا قرب اور نیک انجام ہے۔


وَ اذۡکُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَیُّوۡبَ ۘ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الشَّیۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّ عَذَابٍ ﴿ؕ۴۱﴾

۴۱۔ اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجیے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: شیطان نے مجھے تکلیف اور اذیت دی ہے۔

41۔ شیاطین کی طرف سے عذاب اور تکلیف یہ تھی کہ شیطان کی یہ کوشش تھی کہ حضرت ایوب علیہ السلام سات سالہ بیماری کے نتیجے میں اللہ سے بدظن ہو جائیں۔ شیطان طرح طرح کے وسوسے ذہن میں ڈالتا تھا۔ اللہ کا برگزیدہ بندہ ہونے کی وجہ سے انہیں معلوم ہوتا تھا کہ یہ وسوسہ شیطان کی طرف سے ہے۔


اُرۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ۚ ہٰذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ﴿۴۲﴾

۴۲۔ (ہم نے کہا ) اپنا پاؤں ماریں، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے۔

42۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش ختم ہوئی تو پاؤں زمین پر مارنے کا حکم ہوا۔ چنانچہ پاؤں زمین پر مارتے ہی چشمہ پھوٹا جس سے پانی پی کر اور نہا کر شفایابی ہوئی۔


وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنَّا وَ ذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ﴿۴۳﴾

۴۳۔ ہم نے انہیں اہل و عیال دیے اور ان کے ساتھ اتنے مزید دیے اپنی طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لیے نصیحت کے طور پر۔

43۔ جنہوں نے انہیں چھوڑ دیا تھا وہ سب پلٹ آئے اور مزید اولاد عنایت ہوئی۔


وَ خُذۡ بِیَدِکَ ضِغۡثًا فَاضۡرِبۡ بِّہٖ وَ لَا تَحۡنَثۡ ؕ اِنَّا وَجَدۡنٰہُ صَابِرًا ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ﴿۴۴﴾

۴۴۔ (ہم نے کہا) اپنے ہاتھ میں ایک گچھا تھام لیں اور اسی سے ماریں اور قسم نہ توڑیں، ہم نے انہیں صابر پایا، وہ بہترین بندے تھے، بے شک وہ (اپنے رب کی طرف) رجوع کرنے والے تھے۔

44۔ روایت کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام اپنی زوجہ کے کسی عمل پر برہم ہوئے اور قسم کھائی کہ اسے سو کوڑے ماریں گے۔ بعد میں جب وہ بے گناہ ثابت ہوئی تو پریشان ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ سو تنکوں والا ایک گچھا اسے مارو کہ تمہاری قسم بھی پوری ہو جائے اور اسے تکلیف بھی نہ ہو۔ یہ حکم حدود و تعزیرات کے لیے نظیر و نمونہ نہیں بنتا، بلکہ متعلقہ شخص کے بے گناہ ہونے کی صورت میں قانون کے ظاہری تحفظ کی صورت سے مختص ہے۔