Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ﴿۱۷۵﴾٪

۱۷۵۔ اور یقینا آپ کا رب ہی بڑا غالب آنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔


کَذَّبَ اَصۡحٰبُ لۡـَٔـیۡکَۃِ الۡمُرۡسَلِیۡنَ﴿۱۷۶﴾ۚۖ

۱۷۶۔ ایکہ والوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی۔

176۔ سورہ الحجر میں ایکہ کا ذکر آ چکا ہے۔ اس جگہ کا دوسرا نام مدین ہے۔ یہ حجاز اور فلسطین کے درمیان تھی۔ ایکہ گھنے درخت کو کہا جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مدین ایسے درختوں سے ڈھکا ہوا تھا۔


اِذۡ قَالَ لَہُمۡ شُعَیۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ﴿۱۷۷﴾ۚ

۱۷۷۔ جب شعیب نے ان سے کہا: کیا تم اپنا بچاؤ نہیں کرتے ؟


اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ﴿۱۷۸﴾ۙ

۱۷۸۔میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔


فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ﴿۱۷۹﴾ۚ

۱۷۹۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔


وَ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿۱۸۰﴾ؕ

۱۸۰۔ اور اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا،میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔


اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِیۡنَ﴿۱۸۱﴾ۚ

۱۸۱۔ تم پیمانہ پورا بھرو اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ ہونا۔


وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ﴿۱۸۲﴾ۚ

۱۸۲۔ اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔


وَ لَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ﴿۱۸۳﴾ۚ

۱۸۳۔اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔

183۔ مدین تجارتی قافلوں کی گزر گاہ پر آباد تھا۔ اس لیے ناپ تول میں خیانت نہ کرنے کے حکم کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

مدین، حجاز اور شام کے درمیان تجارت کی ایک اہم منڈی تھی۔ اس لیے یہاں سے تجارتی قافلوں کا گزر ہوتا تھا۔ حجاز والے شام سے آنے والی اشیاء اور شام والے حجاز سے آنے والی اشیاء خریدتے ہوں گے اور اس سلسلے میں جو خلاف ورزیاں سرزد ہوا کرتی تھیں، ان کے لیے حکم ہوا اول پیمانہ پورا بھرو، دوم سیدھی ترازو سے تولا کرو، سوم دھوکہ دہی سے باز آجاؤ کہ لوگوں کو مطلوبہ چیز کی جگہ ناقص چیز دے کر نقصان میں نہ ڈالو۔ ہو سکتا ہے کہ ایک پیمانے کے اعتبار سے پورا ہو اور وزن کے اعتبار سے بھی درست ہو لیکن مال ناقص ہو۔ اس کے لیے لَا تَبۡخَسُوا فرمایا۔ چہارم یہ کہ زمین میں فساد نہ پھیلایا کرو۔ تجارت میں اعتدال سے تجاوز کرنا دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا، فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ ہے۔ اس جگہ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اقتصادی انحرافات سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ صَدَقَ اللّٰہُ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ۔ آج کے استحصالیوں نے اقتصادی ذرائع سے زمین کو فساد سے پر کیا ہے۔


وَ اتَّقُوا الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الۡجِبِلَّۃَ الۡاَوَّلِیۡنَ﴿۱۸۴﴾ؕ

۱۸۴۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے