Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

فَاَلۡقٰی مُوۡسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ ﴿ۚۖ۴۵﴾

۴۵۔ پھر موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو اس نے دفعتاً ان کے سارے خود ساختہ دھندے کو نگل لیا۔

45۔ اَللَّقْف تیزی سے نگل لینا۔ یَأْفِکُ اَلْاُفْک حقیقت کو خیال میں بدل دینا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جادو کسی حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔

جادوگروں کی توقع کے خلاف، اس جادو کو جس پر پوری مملکت کی مہارت صرف ہوئی اور پوری شہنشاہی طاقت لگائی گئی،یکدم ایک عصا نے ہڑپ کر لیا۔


فَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾

۴۶۔ اس پر تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے۔


قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۴۷﴾

۴۷۔ کہنے لگے: ہم عالمین کے رب پر ایمان لے آئے،


رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ﴿۴۸﴾

۴۸۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

48۔ حالانکہ وہ فرعون سے انعام و اکرام کی توقع لے کر آئے تھے۔ حق کے مشاہدے نے ان کے وجود میں انقلاب پیدا کیا، جب کہ جادوگر ان کے ہاں معاشرے کے اہم افراد تھے۔ یعنی عبادت گاہوں کے کاہنوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جادوگروں کے ایمان سے یہ بات غلط ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔


قَالَ اٰمَنۡتُمۡ لَہٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ۚ اِنَّہٗ لَکَبِیۡرُکُمُ الَّذِیۡ عَلَّمَکُمُ السِّحۡرَ ۚ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۬ؕ لَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾

۴۹۔ فرعون نے کہا: میری اجازت سے پہلے تم موسیٰ کو مان گئے؟ یقینا یہ (موسیٰ) تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے ابھی تمہیں (تمہارا انجام) معلوم ہو جائے گا، میں تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں مخالف سمتوں سے ضرور کٹوا دوں گا اور تم سب کو ضرور سولی پر لٹکا دوں گا۔

49۔ جب عبادت گاہوں کے کاہنوں کی طرف سے ایمان کا اعلان ہوا تو فرعون کی شہنشاہیت کی قانونی حیثیت مشکوک ہو گئی، کیونکہ وہ اپنے آپ کو سورج دیوتا کا شرعی اور قانونی نمائندہ تصور کرتا تھا، اس لیے اس کا بوکھلا جانا قدرتی امر تھا۔

میری اجازت سے پہلے ایمان کیوں لائے۔ موسیٰ تمہارا بڑا جادوگر ہے، جس نے تمہیں جادو سکھایا۔ یہ دونوں باتیں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں، ورنہ کسے نہیں معلوم کہ یہ جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد نہیں تھے۔ ان کا تعلق موسیٰ علیہ السلام سے نہیں خود فرعون سے تھا۔ نہ وہ ایمان کی اجازت دینے والے تھے، نہ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں میں کوئی سابقہ ربط رہا تھا۔


قَالُوۡا لَا ضَیۡرَ ۫ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿ۚ۵۰﴾

۵۰ ۔وہ بولے کوئی حرج نہیں ہم اپنے رب کے حضور لوٹ جائیں گے،

50۔ یعنی کوئی پرواہ نہیں، خواہ ہاتھ پاؤں کٹ جائیں یا سولی چڑھ جائیں یا شہید ہو جائیں، ہم تو اپنے رب کے پاس لوٹ کر جائیں گے۔ رب کے پاس جانے میں کیا پرواہ ہے؟ بلکہ یہ عاشقان حقیقت کے لیے باعث خوشی ہے۔


اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنۡ کُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۵۱﴾

۵۱۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے ہیں۔

اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ : اول مومنین ہونے کی وجہ سے ایثار و ایمان کی مثال قائم ہو جاتی ہے۔ جس کو آنے والی نسلیں مشعل راہ بناتی ہیں۔


وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡۤ اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ﴿۵۲﴾

۵۲۔ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو لے کر رات کو نکل پڑیں یقینا آپ کا تعاقب کیا جائے گا۔

52۔ اس واقعہ کے بعد سے لے کر بنی اسرائیل کے خروج تک کے عرصہ کا یہاں ذکر نہیں ہے۔ اس کا ذکر سورہ اعراف میں آگیا ہے۔


فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِی الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِیۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾

۵۳۔(ادھر) فرعون نے شہروں میں ہرکارے بھیج دیے،


اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡ ذِمَۃٌ قَلِیۡلُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾

۵۴۔ (ان کے ساتھ یہ کہلا بھیجا) کہ بے شک یہ لوگ چھوٹی سی جماعت ہیں۔

54۔ یعنی بنی اسرائیل کی پوری قوم فرعون کے لشکر کے مقابلے میں چھوٹی جماعت تھی۔ اس سے یہ روایت قرین واقع معلوم نہیں ہوتی جس میں کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے زائد تھی۔