Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

مُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ٭ۖ بِہٖ سٰمِرًا تَہۡجُرُوۡنَ﴿۶۷﴾

۶۷۔ تکبر کرتے ہوئے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے، بیہودہ گوئی کرتے تھے۔

67۔ مُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ٭ۖ بِہٖ میں بِہٖ کا مرجع النکوص ہے۔ بعض کے نزدیک قرآن ہے، یعنی قرآن سے سرکشی کرتے ہوئے۔ سٰمِرًا : رات کو خوش گپی کرنا۔


اَفَلَمۡ یَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ اَمۡ جَآءَہُمۡ مَّا لَمۡ یَاۡتِ اٰبَآءَہُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۫۶۸﴾

۶۸۔ کیا انہوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی بات آئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی؟


اَمۡ لَمۡ یَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَہُمۡ فَہُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿۫۶۹﴾

۶۹۔ یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا ہی نہیں جس کی وجہ سے وہ اس کے منکر ہو گئے ہیں؟


اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ بَلۡ جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ﴿۷۰﴾

۷۰۔ یا وہ یہ کہتے ہیں: وہ مجنون ہے؟ نہیں بلکہ وہ ان لوگوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ حق کو ناپسند کرتے ہیں۔


وَ لَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَہۡوَآءَہُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ بَلۡ اَتَیۡنٰہُمۡ بِذِکۡرِہِمۡ فَہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾

۷۱۔ اور اگر حق ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق چلتا تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب تباہ ہو جاتے، بلکہ ہم تو ان کے پاس خود ان کی اپنی نصیحت لائے ہیں اور وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں۔

71۔ لوگوں کی خواہشات ایک دوسرے کے ساتھ متصادم ہوتی ہیں اور تصادم کا نتیجہ فساد ہے، جبکہ حق سب کے لیے یکساں ہوتا ہے جس میں کوئی تصادم نہیں ہے۔ لہٰذا حق کبھی خواہشات کے تابع نہیں ہو سکتا۔ دوسرے لفظوں میں دین حق فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ حق اگر خواہشات کے تابع ہو جائے تو فطرت کو چھوڑنا پڑے گا اور فطرت کو چھوڑنے میں آسمانوں اور زمین کی تباہی ہے۔ درحقیقت یہ فرض محال ہے، چونکہ حق کے لیے ممکن ہی نہیں کہ لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرے۔ لوگوں کی خواہشات یہ ہیں کہ ایک رب کی جگہ کئی ارباب ہوں اور ایک معبود کی جگہ کئی معبود ہوں۔ حق امر واقع کو کہتے ہیں اور امر واقع میں رب اور معبود ایک ہے، کئی ہو نہیں سکتے۔ اگر بفرض محال ہو جائیں تو عالم تباہ ہو جائے: لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ۔(الانبیاء: 22)


اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ خَرۡجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیۡرٌ ٭ۖ وَّ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ﴿۷۲﴾

۷۲۔ یا (کیا) آپ ان سے کوئی خراج مانگتے ہیں؟ (ہرگز نہیں کیونکہ) آپ کے رب کا دیا ہوا سب سے بہتر ہے اور وہی بہترین رازق ہے۔

72۔ خراج اصل میں زمین کے لگان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت کی صداقت پر ایک دلیل ہے کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلمنہ صرف اس تبلیغ پر لوگوں سے کوئی خراج نہیں مانگتے بلکہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی ساری دولت اس راہ میں خرچ کر دی۔


وَ اِنَّکَ لَتَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ﴿۷۳﴾

۷۳۔ اور آپ تو انہیں یقینا صراط مستقیم کی دعوت دیتے ہیں۔


وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰکِبُوۡنَ﴿۷۴﴾

۷۴۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقینا وہ راستے سے منحرف ہو جاتے ہیں۔


وَ لَوۡ رَحِمۡنٰہُمۡ وَ کَشَفۡنَا مَا بِہِمۡ مِّنۡ ضُرٍّ لَّلَجُّوۡا فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ﴿۷۵﴾

۷۵۔ اور اگر ہم ان پر رحم کر دیں اور انہیں جو تکلیف لاحق ہے اسے دور کر بھی دیں پھر بھی یہ لوگ اپنی سرکشی میں برابر بہکتے جائیں گے۔


وَ لَقَدۡ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَکَانُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ مَا یَتَضَرَّعُوۡنَ﴿۷۶﴾

۷۶۔ اور بتحقیق ہم نے تو انہیں اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا تھا لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے رب سے نہ عاجزی کا اظہار کیا نہ زاری کی۔

76۔ اس عذاب سے مراد بعض روایات کے مطابق وہ شکست و خواری ہے جو جنگ بدر میں مشرکین کو پیش آئی۔ بعض دیگر روایات کے مطابق یہ عذاب وہ قحط سالی ہے جو رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بددعا سے مکہ والوں کو پیش آئی جس میں وہ جانوروں کی کھال اور مردار کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔