Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالُوۡا مَنۡ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَاۤ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ﴿۵۹﴾

۵۹۔ وہ کہنے لگے: جس نے ہمارے معبودوں کا یہ حال کیا ہے یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔


قَالُوۡا سَمِعۡنَا فَتًی یَّذۡکُرُہُمۡ یُقَالُ لَہٗۤ اِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۰﴾

۶۰۔ کچھ نے کہا: ہم نے ایک جوان کو ان بتوں کا (برے الفاظ میں) ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جسے ابراہیم کہتے ہیں۔

60۔ فَتًی ، عمر کے لحاظ سے جواں سال کو کہتے ہیں اور جو نعمت و مرادنگی میں اونچا مقام رکھتا ہو اسے بھی فتیٰ کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام دونوں لحاظ سے فتیٰ تھے۔ جواں سال اور جواں ہمت تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بت شکن عظیم فرزند علی مرتضیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا: لَا فَتیٰ اِلَّا عَلِیْ ۔ (الکافی 8: 110) فتوّت و مردانگی صرف انہیں میں منحصر ہے۔


قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِہٖ عَلٰۤی اَعۡیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَشۡہَدُوۡنَ﴿۶۱﴾

۶۱۔ کہنے لگے: اسے سب کے سامنے پیش کرو تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں۔

61۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہی تھا کہ سب لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ چھڑ جائے تاکہ ان بتوں کی بے بسی سب کے سامنے عیاں ہو جائے۔


قَالُوۡۤا ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَا یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۲﴾

۶۲۔ کہا :اے ابراہیم! کیا ہمارے معبودوں کا یہ حال تم نے کیا ہے ؟


قَالَ بَلۡ فَعَلَہٗ ٭ۖ کَبِیۡرُہُمۡ ہٰذَا فَسۡـَٔلُوۡہُمۡ اِنۡ کَانُوۡا یَنۡطِقُوۡنَ﴿۶۳﴾

۶۳۔ ابراہیم نے کہا: بلکہ ان کے اس بڑے (بت )نے ایسا کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں۔

63۔ ان بتوں کی بے بسی کو ظاہر کرنے اور بت پرستی کو باطل ثابت کرنے کے لیے دلیل کے طور پر ایک مفروضہ سامنے رکھا کہ ان چھوٹے بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جھوٹ نہیں بول رہے تھے بلکہ ایک مفروضہ قائم کر رہے ہیں کہ تمہارے معبود سے اگر کوئی کام بن سکتا ہے تو دوسرے بتوں کو اسی نے توڑا ہے۔ خود ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں۔ بت پرستوں کو علم تھا کہ نہ یہ بول سکتے ہیں، نہ توڑ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نکلا کہ یہ بے بس معبود نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں نہ کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔


فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّکُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿ۙ۶۴﴾

۶۴۔ (یہ سن کر) وہ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور کہنے لگے : حقیقتاً تم خود ہی ظالم ہو۔


ثُمَّ نُکِسُوۡا عَلٰی رُءُوۡسِہِمۡ ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا ہٰۤؤُلَآءِ یَنۡطِقُوۡنَ﴿۶۵﴾

۶۵۔ پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے اور (ابراہیم سے کہا) : تم جانتے ہو یہ نہیں بولتے ۔

65۔ ضمیر کی اس آواز کے برعکس ان لوگوں نے الٹا سوچنا شروع کیا اور ابراہیم علیہ السلام کو ملزم قرار دیتے ہوئے کہنے لگے: ابراہیم تجھے خود علم ہے یہ نہیں بول سکتے، لہذا تم نے ہی توڑا ہے۔


قَالَ اَفَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا یَضُرُّکُمۡ ﴿ؕ۶۶﴾

۶۶۔ ابراہیم نے کہا: تو پھر تم اللہ کو چھوڑ کر انہیں کیوں پوجتے ہو جو تمہیں نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان؟

66۔ اگر یہ بول بھی نہیں سکتے اور دیگر بتوں کے ریزہ ریزہ کرنے والے کا بھی نہیں بتا سکتے تو تم ایسی بے بس چیز کی پوجا کیوں کرتے ہو۔


اُفٍّ لَّکُمۡ وَ لِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴿۶۷﴾

۶۷۔ تف ہو تم پر اور ان (معبودوں) پر جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟


قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ وَ انۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ﴿۶۸﴾

۶۸۔ وہ کہنے لگے: اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی نصرت کرو۔