Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ مَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی ﴿ۙ۷۵﴾

۷۵۔ اور جو مومن بن کر اس کے پاس حاضر ہو گا جب کہ وہ نیک اعمال بھی بجا لا چکا ہو تو ایسے لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔


جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَکّٰی﴿٪۷۶﴾

۷۶۔دائمی باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی پاکیزہ رہنے والے کی جزا ہے۔

73 تا 76۔ ایمان و یقین کی منزل پر فائز ہونے کے بعد جن الٰہی قدروں کا ان ساحروں نے اعلان کیا ہے وہ نہایت قابل توجہ ہیں:

1۔ ایمان کے دائرے میں داخل ہونے کے بعد کفر کی حالت کے گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ 2۔ فرعون نے ان ساحروں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے مجبور کیا تھا، ممکن ہے یہ جبر اس وقت عمل میں آیا ہو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا موعظہ سننے کے بعد فرعونیوں میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ 3۔ یقین کی منزل پر فائز ہونے پر ان کے لیے واضح ہو گیا کہ فرعون کے مقابلے میں جو اللہ کے پاس ہے وہ ابدی اور دائمی ہے۔ 4۔ جو مجرم بن کر اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچے گا اسے زندگی کی لذت ملے گی، نہ موت کی راحت۔ 5۔ ایمان کے ساتھ عمل صالح ہو تو نجات ہے۔ 6۔ جنت عدن کی زندگی دائمی اور ابدی ہے۔


وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی﴿۷۷﴾

۷۷۔ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت چل پڑیں پھر ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بنا دیں، آپ کو (فرعون کی طرف سے) نہ پکڑے جانے کا خطرہ ہو گا اور نہ ہی (غرق کا) خوف ۔

77۔ سمندر میں خشک راستہ بنا لینے میں ان لوگوں کا جواب موجود ہے جو اس معجزے کی توجیہ ہمارے محسوس اور مانوس علل و اسباب کی روشنی میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہوا کے طوفان یا مد و جزر سے راستہ بن گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہوا سے یا مد و جزر سے راستہ بننے کی صورت میں نہ راستہ خشک ہوتا ہے، نہ ہی پانی دونوں طرف بڑے ٹیلوں کی طرح ہوتا ہے اور نہ ہی عصا مارنے سے راستہ بننے کا کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔


فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُوۡدِہٖ فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ الۡیَمِّ مَا غَشِیَہُمۡ ﴿ؕ۷۸﴾

۷۸۔ پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور پھر سمندر ان پر ایسا چھایا کہ جس طرح چھا جانا چاہیے تھا۔

78۔ جس دریا کو بنی اسرائیل نے فلسطین جانے کے لیے عبور کیا اور فرعون جس میں غرق ہوا وہ دریائے نیل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دریائے نیل جہاں سے اسرائیلیوں نے سفر شروع کیا، وہاں سے مغرب کی طرف واقع تھا، جبکہ بنی اسرائیل مشرق میں فلسطین کی طرف سفر کر رہے تھے، بلکہ اس دریا سے مراد بحر احمر ہی ہو سکتا ہے جسے عبور کر کے وہ صحرائے سینا پہنچ گئے۔


وَ اَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَہٗ وَ مَا ہَدٰی﴿۷۹﴾

۷۹۔ اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کر دیا اور ہدایت کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔


یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ قَدۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ عَدُوِّکُمۡ وَ وٰعَدۡنٰکُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنَ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی﴿۸۰﴾

۸۰۔ اے بنی اسرائیل! تمہارے دشمن سے یقینا ہم نے تمہیں نجات دی اور تمہیں طور کی دائیں جانب وعدہ دیا اور ہم نے تم پر من و سلویٰ نازل کیا۔


کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ لَا تَطۡغَوۡا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبِیۡ ۚ وَ مَنۡ یَّحۡلِلۡ عَلَیۡہِ غَضَبِیۡ فَقَدۡ ہَوٰی﴿۸۱﴾

۸۱۔ جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اس میں سرکشی نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا بتحقیق وہ ہلاک ہو گیا۔

81۔ ہَوٰی : اوپر سے نیچے گرنا۔ خواہشات کو بھی ہَوٰی کہتے ہیں، چونکہ یہ بھی انسان کو اپنی منزلت سے گرا دیتی ہیں۔ رزق حلال ہی طیب و پاکیزہ ہے، اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ حکم ہے۔ وَ لَا تَطۡغَوۡا فِیۡہِ : البتہ حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں یہ غضب الٰہی کا باعث بن جاتا ہے۔ حد سے تجاوز کے ضمن میں ان نعمتوں کو گناہ کے ارتکاب کا ذریعہ بنانا ہے اور کم سے کم تجاوز پرخوری اور اسراف ہے اور کم سے کم غضب الٰہی پرخور کی صحت پر پڑنے والے اثرات ہو سکتے ہیں۔


Deprecated: str_ireplace(): Passing null to parameter #3 ($subject) of type array|string is deprecated in /home/balaghroot/public_html/inc-search-results.php on line 151


وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی﴿۸۲﴾

۸۲۔ البتہ جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل انجام دے پھر راہ راست پر چلے تو میں اسے خوب بخشنے والا ہوں۔

82۔ مغفرت کے لیے چار مراحل طے کرنا پڑتے ہیں: اول گناہوں سے توبہ، دوم اللہ اور آخرت کے ثواب پر ایمان لانا، سوم عمل صالح بجا لانا اور چہارم راہ راست پر قائم رہنا۔ توبہ کے بعد ضروری ہے کہ پھر انحراف کا شکار نہ ہو۔


وَ مَاۤ اَعۡجَلَکَ عَنۡ قَوۡمِکَ یٰمُوۡسٰی﴿۸۳﴾

۸۳۔ اور (فرمایا) اے موسیٰ! آپ نے اپنی قوم سے پہلے (آنے میں)جلدی کیوں کی؟


قَالَ ہُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤی اَثَرِیۡ وَ عَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی﴿۸۴﴾

۸۴۔ موسیٰ نے عرض کیا: وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں اور میرے رب ! میں نے تیری طرف (آنے میں) جلدی اس لیے کی کہ تو خوش ہو جائے ۔

83۔ 84 جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم سے ستر (70) سرداروں کو منتخب کر کے کوہ طور پر حاضر ہونے کا حکم ملا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام دوسرے نقبائے قوم سے پہلے کوہ طور پر پہنچ گئے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا: یہ عجلت تیری رضا جوئی کے لیے تھی۔ تجھ سے مناجات کی حلاوت، تجھ سے راز و نیاز کے کیف و سرور اور تیری قربت کی چاشنی نے مجھے عجلت پر مجبور کر دیا۔