Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی﴿۵۵﴾

۵۵۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔


وَ لَقَدۡ اَرَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا کُلَّہَا فَکَذَّبَ وَ اَبٰی﴿۵۶﴾

۵۶۔ اور بتحقیق ہم نے فرعون کو ساری نشانیاں دکھا دیں سو اس نے پھر بھی تکذیب کی اور انکار کیا۔


قَالَ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا بِسِحۡرِکَ یٰمُوۡسٰی﴿۵۷﴾

۵۷۔ فرعون نے کہا: اے موسیٰ! کیا تم اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری سرزمین سے نکالنے ہمارے پاس آئے ہو؟

57۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت سے فرعون کی سلطنت کو خطرہ اس لیے لاحق ہو گیا تھا کہ فرعون اپنے آپ کو سورج دیوتا کا مظہر اور نمائندہ سمجھتا تھا جسے اس کے زعم میں حکومت کرنے کا حق حاصل تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ اعلان فرمایا: میں اللہ کا نمائندہ ہوں تو فرعون کی حکومت غیر قانونی ہو جاتی تھی۔ اس لیے اس نے کہا: یہ اپنے جادو سے ہمیں اپنے ملک سے نکالنا چاہتا ہے۔ جبکہ جادو سے کوئی کسی ملک کو فتح نہیں کر سکتا۔


فَلَنَاۡتِیَنَّکَ بِسِحۡرٍ مِّثۡلِہٖ فَاجۡعَلۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکَ مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُہٗ نَحۡنُ وَ لَاۤ اَنۡتَ مَکَانًا سُوًی﴿۵۸﴾

۵۸۔ پس ہم بھی تمہارے مقابلے میں ایسا ہی جادو پیش کریں گے، لہٰذا ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت جس کی نہ ہم خلاف ورزی کریں اور نہ تم، صاف میدان مقرر کر لو۔


قَالَ مَوۡعِدُکُمۡ یَوۡمُ الزِّیۡنَۃِ وَ اَنۡ یُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًی﴿۵۹﴾

۵۹۔ موسیٰ نے کہا: تمہارے ساتھ جشن کے دن وعدہ ہے اور یہ کہ دن چڑھے لوگ جمع کیے جائیں۔

59۔ یَوۡمُ الزِّیۡنَۃِ : وقت اور دن کی پیشکش حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ہو رہی ہے۔ قومی تہوار کا دن جس میں پوری قوم اپنی زیب و زینت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور جشن کے دن کا وقت بھی تعین کر دیا کہ ضُحًی کا ہو، یعنی جب دن چڑھ جائے۔


فَتَوَلّٰی فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ کَیۡدَہٗ ثُمَّ اَتٰی﴿۶۰﴾

۶۰۔ پس فرعون نے پلٹ کر اپنی ساری مکاریوں کو یکجا کیا پھر (مقابلے میں) آ گیا۔

60۔ پورے ملک سے جادوگروں کو میلے کے دن جمع کیا اور عوام کو بھی جمع کیا تاکہ جادوگروں کے عظیم کرتب سے عصائے موسیٰ علیہ السلام کا رعب ختم ہو جائے۔


قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰی وَیۡلَکُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسۡحِتَکُمۡ بِعَذَابٍ ۚ وَ قَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰی﴿۶۱﴾

۶۱۔ موسیٰ نے ان سے کہا: تم پر تباہی ہو!تم اللہ پر جھوٹ بہتان نہ باندھو وگرنہ اللہ تمہیں ایک عذاب سے نابود کرے گا اور جس نے بھی بہتان باندھا وہ نامراد رہا۔

61۔ جب وہ پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتر آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو نصیحت کی کہ اللہ پر بہتان مت باندھو، اللہ کے معجزے کو جادو مت کہو، اللہ کی دعوت کی غلط تشریح نہ کرو اور یہ کہ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو کائنات کا مدبر نہ مانو۔ اس افتراء اور بہتان کا نتیجہ تمہاری ہلاکت ہو گا اور تمہاری ساری امیدیں خاک میں مل جائیں گی۔


فَتَنَازَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ وَ اَسَرُّوا النَّجۡوٰی ﴿۶۲﴾

۶۲۔ پھر انہوں نے اپنے معاملے میں آپس میں اختلاف کیا اور (باہمی) مشورے کو خفیہ رکھا ۔


قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیۡدٰنِ اَنۡ یُّخۡرِجٰکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ بِسِحۡرِہِمَا وَ یَذۡہَبَا بِطَرِیۡقَتِکُمُ الۡمُثۡلٰی﴿۶۳﴾

۶۳۔ وہ کہنے لگے: یہ دونوں تو بس جادوگر ہیں، دونوں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری اس سر زمین سے نکال باہر کریں اور دونوں تمہارے اس مثالی مذہب کا خاتمہ کر دیں۔

62۔63 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مواعظ کے یا ان کے للکارنے کے نتیجے میں فرعونیوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا کہ موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کیا جائے یا نہیں۔ ان لوگوں نے آپس کے مشورے کو چھپا کر ایسے نعرے بنا لیے جن سے وہ لوگوں کے جذبات ابھارنا چاہتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام حکومت و اقتدار پر قابض ہونا، تمہیں اس ملک سے بے دخل کرنا اور تمہارے مثالی طور و طریقے کا خاتمہ چاہتے ہیں، لہذا تم اپنی تدبیر کو مزید مستحکم کرو،کیونکہ آج فیصلہ کن دن ہے۔


فَاَجۡمِعُوۡا کَیۡدَکُمۡ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا ۚ وَ قَدۡ اَفۡلَحَ الۡیَوۡمَ مَنِ اسۡتَعۡلٰی﴿۶۴﴾

۶۴۔ لہٰذا اپنی ساری تدبیریں یکجا کرو پھر قطار باندھ کر میدان میں آؤ اور آج جو جیت جائے گا وہی فلاح پائے گا۔

64۔ سیاق کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مقابلے کے موضوع پر اختلاف تھا اور مقابلے کے لیے ساحروں ہی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ لہذا امکان یہی ہے کہ ساحروں میں یا ساحروں اور درباریوں میں اختلاف تھا۔

وَ قَدۡ اَفۡلَحَ الۡیَوۡمَ مَنِ اسۡتَعۡلٰی : فرعون اس مقابلے کو فیصلہ کن قرار دے رہا ہے کہ جو آج جیت جائے گا، کامیابی اسی کا مقدر ہے۔