Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ یَّفۡرُطَ عَلَیۡنَاۤ اَوۡ اَنۡ یَّطۡغٰی ﴿۴۵﴾

۴۵۔ دونوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا مزید سرکش ہو جائے گا۔

45۔ اِنَّنَا نَخَافُ : یہاں ذات و جان کا خوف نہیں ہے، بلکہ یہاں خوف دعوت کی کامیابی اور پیشرفت کے بارے میں ہے کہ کہیں دعوت کی راہ میں فرعون کی سرکشی اور زیادتی حائل نہ ہو جائے۔


قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیۡ مَعَکُمَاۤ اَسۡمَعُ وَ اَرٰی ﴿۴۶﴾

۴۶۔ فرمایا: آپ دونوں خوف نہ کریں میں آپ دونوں کے ساتھ ہوں اور (دونوں کی بات) سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔


فَاۡتِیٰہُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّکَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ وَ لَا تُعَذِّبۡہُمۡ ؕ قَدۡ جِئۡنٰکَ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی﴿۴۷﴾

۴۷۔ دونوں اس کے پاس جائیں اور کہیں: ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں پس بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان پر سختیاں نہ کر، بلاشبہ ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر تیرے پاس آئے ہیں اور سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔

47۔ رَسُوۡلَا رَبِّکَ : اس میں صراحت موجود ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام شریک رسالت تھے۔

فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ : فرعون بنی اسرائیل سے بیگار لیتا تھا اور مصری معاشرے میں بنی اسرائیل نسلی تعصب کا شکار رہتے تھے۔ اس لیے بنی اسرائیل کو اس ذلت آمیز زندگی سے نکالنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذمہ دار ی بن گئی تھی۔ لوگوں کو اس دنیا میں عزت کی زندگی دینا انبیاء کی ذمہ داری ہے۔


اِنَّا قَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡنَاۤ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰی مَنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی﴿۴۸﴾

۴۸۔ ہماری طرف یقینا وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس شخص کے لیے معین ہے جو تکذیب کرے اور منہ موڑے۔


قَالَ فَمَنۡ رَّبُّکُمَا یٰمُوۡسٰی﴿۴۹﴾

۴۹۔ فرعون نے کہا: اے موسیٰ! تم دونوں کا رب کون ہے؟

49۔ فرعون کو مصر میں سورج دیوتا کا مظہر سمجھا جاتا تھا اور جس طرح سورج ان کا سب سے بڑا معبود تھا خود فرعون بھی معبود کا درجہ رکھتا تھا کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق فرعون کی پرستش عین سورج کی پرستش سمجھی جاتی تھی۔

فرعون کا سوال: تم دونوں کا رب کون ہے؟ بتاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون میں بنیادی اختلاف رب پر ہے۔


قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی﴿۵۰﴾

۵۰۔ موسیٰ نے کہا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت بخشی پھر ہدایت دی ۔

50۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا کی اور تخلیق کے بعد اسے اپنے حال پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کے زندہ رہنے کے طور طریقوں کی ہدایت (تکوینی) اور جن باتوں پر ان موجودات کی بقا و ارتقا موقوف ہے، ان کی سوجھ بھی ان میں ودیعت فرمائی۔ جو سوجھ بوجھ خلقت کے ہمراہ ودیعت ہوئی ہے، وہ تکوینی اور فطری ہے اور جو خلقت کی تکمیل کے بعد ہدایت ملے گی وہ تشریعی ہے۔ اس آیت کے اطلاق میں دونوں ہدایتیں شامل ہیں۔


قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی﴿۵۱﴾

۵۱۔ فرعون بولا:پھر گزشتہ نسلوں کا کیا بنا ؟


قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَا یَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾

۵۲۔ موسیٰ نے کہا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔

51۔ 52 فرعون نے کہا: اگر رب کی یہی تعریف ہے جو تم بیان کر رہے ہو تو ہمارے آبا و اجداد کے بارے میں کیا کہتے ہو، کیا وہ سب گمراہ تھے؟ ان کے پاس کوئی عقل و فہم نہیں تھی کہ انہوں نے نسلاً بعد نسلٍ رب کے بارے میں وہی تصور اختیار کیے رکھا جو آج ہم رکھتے ہیں۔ اگر وہ گمراہ تھے تو تم بتا سکتے ہو کہ وہ کس حال میں ہیں؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ان کے اعمال کا پورا حساب میرے پروردگار کے ہاں محفوظ ہے۔ جہاں بھول چوک کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔


الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ سَلَکَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰی﴿۵۳﴾

۵۳۔ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے اور آسمانوں سے پانی برسایا پھر اس سے ہم نے مختلف نباتات کے جوڑے اگائے۔


کُلُوۡا وَ ارۡعَوۡا اَنۡعَامَکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّہٰی﴿٪۵۴﴾

۵۴۔ تم بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ، صاحبان علم کے لیے اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔