Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ ۚ فَاَلۡقَوۡا اِلَیۡہِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّکُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿ۚ۸۶﴾

۸۶۔ اور جنہوں نے شرک کیا ہے جب وہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے: اے ہمارے رب! یہ ہمارے وہی شریک ہیں جنہیں ہم تیرے بجائے پکارتے تھے تو وہ (شرکاء) اس بات کو مسترد کر دیں گے (اور کہیں گے) بے شک تم جھوٹے ہو۔


وَ اَلۡقَوۡا اِلَی اللّٰہِ یَوۡمَئِذِۣ السَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ﴿۸۷﴾

۸۷۔ اور اس دن وہ اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیں گے اور ان کی افترا پردازیاں ناپید ہو جائیں گی۔


اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ زِدۡنٰہُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یُفۡسِدُوۡنَ﴿۸۸﴾

۸۸۔ جنہوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو ) راہ خدا سے روکا ان کے لیے ہم عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے اس فساد کے عوض جو یہ پھیلاتے رہے۔

88۔ وہ کافر جو کفر اختیار کرنے کے ساتھ دوسروں کو راہ خدا سے روکتے بھی تھے، دوہرے جرم کے مرتکب ہیں۔ ایک کفر اور دوسرا دوسروں کو روکنا۔ اسی اعتبار سے ان کا عذاب بھی دو گنا ہو گا۔


وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ جِئۡنَا بِکَ شَہِیۡدًا عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ تِبۡیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ﴿٪۸۹﴾

۸۹۔ اور (انہیں اس دن سے آگاہ کیجیے) جس روز ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ خود انہیں میں سے اٹھائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لے آئیں گے اور ہم نے آپ پر یہ کتاب ہر چیز کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے والی اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت بنا کر نازل کی ہے۔

89۔ اللہ اپنی قدرت کاملہ کے باوجود اصول و ضوابط کے مطابق گواہ پیش فرماتا ہے۔ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ سے مراد ہر جماعت اور ہر صدی ہے۔ سورئہ بقرہ کی آیت 143 کے مطابق رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گواہوں پر گواہ ہیں۔ اس لیے ہم اس آیت سے بھی یہی سمجھیں گے کہ ہٰۤؤُلَآءِ کا اشارہ گواہوں کی طرف ہے۔ اس طرح آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ خود انہیں میں سے اٹھائیں گے اور آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان (گواہوں) پر گواہ بنا کر لے آئیں گے اور سورہ زمر کی آیت 69 سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے علاوہ بھی گواہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا کوئی عصر گواہ اور حجت سے خالی نہ ہو گا۔ اس شاہد میں دو باتوں کا ہونا ضروری ہے: ایک یہ کہ وہ خطا نہ کرتا ہو، ورنہ بقول رازی: ”اس کے لیے بھی گواہ کی ضرورت ہو گی اور اس کا سلسلہ کہیں بھی نہ رکے گا، لہٰذا ہر زمانے میں ایسے افراد موجود ہونے چاہئیں جن کی گفتار حجت ہو۔“ (تفسیر فخر الدین رازی 30: 98) فخر الدین رازی نے امت کو معصوم از خطا اور شاہد قرار دے کر اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ جواب اس لیے درست نہیں کہ اجماع امت اعمال امت پر ناظر کیسے ہو سکتا ہے۔اس صورت میں آیت کی ترکیب یہ بنتی ہے: و یوم نبعث فی کل امۃ اجماعھا ۔ اجماع قابل بعثت نہیں ہے، لہٰذا تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر امت میں ایسی ہستیاں موجود رہتی ہیں جو معصوم ہیں اور اعمال امت پر ناظر ہیں۔


اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ﴿۹۰﴾

۹۰۔ یقینا اللہ عدل اور احسان اور قرابتداروں کو (ان کا حق) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے شاید تم نصیحت قبول کرو۔

90۔ عدل کے بارے میں سورﮤ مائدہ آیت 8 میں تشریح ملاحظہ فرمائیں۔اس آیت میں جہاں عدل و انصاف کا حکم ہے وہاں احسان کا بھی حکم ہے۔ عدل یہ ہے کہ کسی نے آپ پر ظلم کیا ہے تو اس کا بدلہ لیں۔ احسان یہ ہے کہ معذرت کرنے کی صورت میں اس کو معاف کر دیں۔ عدل یہ ہے کہ مقروض سے قرض وصول کریں، جبکہ احسان یہ ہے کہ مقروض کے نادار ہونے کی صورت میں اسے معاف کر دیں۔ عدل سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے تو احسان سے حلاوت اور شیرینی پیدا ہوتی ہے۔ ظلم کے مارے لوگوں کو جہاں عدل کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں حالات و گردش ایام کے مارے لوگوں کو احسان کی ضرورت ہے۔


وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ اِذَا عٰہَدۡتُّمۡ وَ لَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡکِیۡدِہَا وَ قَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰہَ عَلَیۡکُمۡ کَفِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴿۹۱﴾

۹۱۔ اور جب تم عہد کرو تو اللہ سے عہد کو پورا کرو اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑو جب کہ تم اللہ کو اپنا ضامن بنا چکے ہو، جو کچھ تم کرتے ہو یقینا اللہ اسے جانتا ہے۔


وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ اَنۡ تَکُوۡنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرۡبٰی مِنۡ اُمَّۃٍ ؕ اِنَّمَا یَبۡلُوۡکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ مَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴿۹۲﴾

۹۲۔ اور تم اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے پوری طاقت سے سوت کاتنے کے بعد اسے تار تار کر ڈالا، تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ جائے، اس بات کے ذریعے اللہ یقینا تمہیں آزماتا ہے اور قیامت کے دن تمہیں وہ بات کھول کر ضرور بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے۔

92۔ کوئی قوم کسی دوسری قوم سے ایک معاہدہ کرتی ہے تو اس معاہدے کی پابندی کرنا ایک انسانی و اخلاقی فریضہ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں ہے، خواہ دوسرا فریق مسلم ہو یا غیر مسلم، ہدایت یافتہ ہو یا گمراہ۔ وفائے عہد چونکہ ایک انسانی مسئلہ ہے، لہذا فریق مخالف کو نہیں دیکھا جاتا کہ وہ کون ہے، بلکہ معاہدہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو اپنے حریف کو گمراہ خیال کر کے اس کے ساتھ عہد شکنی، کذب و افترا اور بہتان تراشی کرتے ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی فریق حق پر ہی ہو اور اس کا فریق مقابل باطل ہی ہو تو بھی عہد شکنی، مکر و فریب کرنا ایسا جرم ہے جس کے بارے میں بروز قیامت سوال ہو گا اور الہی امتحان میں ناکام ثابت ہو گا۔


وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ یُّضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴿۹۳﴾

۹۳۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔

93۔ اپنے مذہب کا پرچار کرنے والوں سے خطاب ہے کہ اگر دوسرے مذاہب کو طاقت کے ذریعے مٹا کر لوگوں کو ایک ہی مذہب پر لانا مقصود ہوتا تو یہ کام اللہ کے لیے نہایت آسان تھا۔ اس کے لیے اللہ کو ایسے نا جائز ہتھکنڈے استعمال کرنے والے نادانوں سے مدد لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے ایک ایسا غیر جبری نظام قائم فرمایا ہے کہ جس کے تحت کچھ لوگ اپنے اختیار سے ضلالت کی طرف جاتے ہیں تو اللہ طاقت کے ذریعے نہیں روکتا، انہیں جانے دیتا ہے۔ اسی مطلب کو اللہ یُّضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ ، جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے، کی تعبیر سے بیان فرماتا ہے۔ واضح رہے کہ نا جائز ذرائع سے حق کا پرچار کرنا خود اپنی جگہ حق کی پامالی ہے۔ جب عہد شکنی اور مکر و فریب، بہتان تراشی جیسی باطل اور غیر انسانی اقدار کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو حق کس قدر کا نام ہے جسے یہ نادان زندہ کرنا چاہتا ہے۔


وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعۡدَ ثُبُوۡتِہَا وَ تَذُوۡقُوا السُّوۡٓءَ بِمَا صَدَدۡتُّمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَ لَکُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ﴿۹۴﴾

۹۴۔ اور تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فساد کا ذریعہ نہ بناؤ کہ قدم جم جانے کے بعد اکھڑ جائیں اور راہ خدا سے روکنے کی پاداش میں تمہیں عذاب چکھنا پڑے اور (ایسا کیا تو) تمہارے لیے بڑا عذاب ہے۔

94۔ یعنی تمہاری بدعہدی دیکھ کر لوگ اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے جس کی ذمہ داری تم پر عائد ہو گی۔ چنانچہ بعض نو مسلم افراد نے کہا ہے:اللہ کا شکر ہے کہ میں مسلمانوں سے متعارف ہونے سے پہلے اسلام سے آشنا ہوا ہوں، ورنہ مسلمانوں کے کردار دیکھ کر اسلام سے متنفر ہو جاتا۔


وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴿۹۵﴾

۹۵۔ اور اللہ کے عہد کو تم قلیل معاوضے میں نہ بیچو، اگر تم جان لو تو تمہارے لیے صرف وہی بہتر ہے جو اللہ کے پاس ہے۔