Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِنَّ لَکُمۡ فِی الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَۃً ؕ نُسۡقِیۡکُمۡ مِّمَّا فِیۡ بُطُوۡنِہٖ مِنۡۢ بَیۡنِ فَرۡثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ﴿۶۶﴾

۶۶۔ اور تمہارے لیے مویشیوں میں یقینا ایک سبق ہے، ان کے شکم میں موجود گوبر اور خون کے درمیان سے ہم تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔

66۔ جانور کی اوجھڑی کے اندر جو کچھ ہوتا ہے اسے فرث کہتے ہیں۔ آج کے ماہرین کے مطابق بھی دودھ کی یہی ترکیب ہے۔ دودھ نہ صاف شدہ خون ہے نہ ہضم شدہ غذا، بلکہ فرث سے بالا تر اور خون سے نیچے کی ایک چیز ہے۔


وَ مِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَ الۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡہُ سَکَرًا وَّ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ﴿۶۷﴾

۶۷۔ اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم نشے کی چیزیں بناتے ہو اور پاک رزق بھی بنا لیتے ہو، عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس میں ایک نشانی ہے۔

67۔ یہاں مسکر کا ذکر رزق حسن کے مقابلے میں آنے کی وجہ سے اس کا ناپاک ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔


وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾

۶۸۔ اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کی کہ پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو عمارتیں بناتے ہیں ان میں گھر (چھتے) بنائے۔

68۔ 69 i۔ مکھیوں کا گھر (چھتا) معماری کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے، کیونکہ مسدس شکل میں کوئی کونہ بیکار نہیں جاتا ii۔ پھولوں کی جڑوں میں موجود شکر کا خاص مادہ چوستی ہیں۔ تعجب یہ ہے کہ اس سے پھلوں پر بہت ہی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں iii۔ غذا کی تلاش میں نکلنے والی مکھی کو غذا کا ذخیرہ کہیں نظر آئے تو چھتے میں واپس آتی ہے اور ایک خاص قسم کے رقص کے ذریعہ دائرہ بناتی ہے اور اس دائرے کو مخصوص زاویے سے کاٹتی ہے جس سے دوسری مکھیوں کو پتہ چلتا ہے کہ غذا کس سمت میں اور کتنے فاصلہ پر ہے۔iv۔ انسانی آنکھ میں دو عدسے ہوتے ہیں، جبکہ شہد کی مکھی کی ہر آنکھ میں چھ ہزار عدسے ہوتے ہیں، جن کی مدد سے وہ باریک سے باریک جراثیم اور گرد و غبار کو دیکھ سکتی ہے۔ یہ ہیں وہ راہیں جو اللہ نے ان کے لیے تسخیر کی ہیں۔ v۔ اگر کوئی مکھی گندگی پر بیٹھ چکی ہو تو دربان اسے چھتے کے باہر روک دیتا ہے اور ملکہ اس کو قتل کر دیتی ہے۔ قدرت نے ان مکھیوں کو مختلف مواد کا تجزیہ کرنے کی ایسی صلاحیت دے رکھی ہے کہ انسان بڑی بڑی لیبارٹریوں میں ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ۔


ثُمَّ کُلِیۡ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ؕ یَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِہَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہٗ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ﴿۶۹﴾

۶۹۔ پھر ہر (قسم کے) پھل (کا رس) چوس لے اور اپنے رب کی طرف سے تسخیر کردہ راہوں پر چلتی جائے، ان مکھیوں کے شکم سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں ایک نشانی ہے۔


وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۟ۙ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ﴿٪۷۰﴾

۷۰۔ اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے اور تم میں سے کوئی نکمی ترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے، اللہ یقینا بڑا جاننے والا، قدرت والا ہے۔

70۔ انسان کی بے بسی اس بات کی علامت ہے کہ کسی طاقت کے ہاتھ میں اس کی باگ ڈور ہے۔ چنانچہ وہی انسان کو خلق فرماتا ہے، وہی مارتا ہے اور وہ انسان جو علم کی وجہ سے دوسروں پر برتری رکھتا ہے، اس پر پیرانہ سالی کا ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ جسمانی اور دماغی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ شخص جسے اپنے علم و ہنر پر ناز تھا، آج بڑھاپے کی وجہ سے اسے اپنی ناک کی چھینک کا بھی علم نہیں ہوتا کہ اسے صاف کرے۔ حقیقی علم و قدرت کا مالک اللہ ہے۔ دوسروں میں جو جزئی علم و قدرت ہوتی ہے وہ اللہ کی عطا کردہ اور عارضی ہے۔


وَ اللّٰہُ فَضَّلَ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ فِی الرِّزۡقِ ۚ فَمَا الَّذِیۡنَ فُضِّلُوۡا بِرَآدِّیۡ رِزۡقِہِمۡ عَلٰی مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَہُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ ؕ اَفَبِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ﴿۷۱﴾

۷۱۔ اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے، پھر جنہیں فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو دینے والے نہیں ہیں کہ دونوں اس رزق میں برابر ہو جائیں، کیا (پھر بھی) یہ لوگ اللہ کی نعمت سے انکار کرتے ہیں؟

71۔ تم آقا اور غلام کے درمیان لحاظ مراتب کے پابند ہو۔ تم اپنے غلاموں اور نوکروں کو اتنا مال و اختیار نہیں دیتے ہو کہ وہ تمہارے برابر ہو جائیں۔ پس یہ بات جو تم خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے ہو اللہ کے لیے کیسے پسند کرتے ہو۔


وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَ حَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿ۙ۷۲﴾

۷۲۔ اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں اور اس نے تمہاری ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کیے اور تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں تو کیا۔یہ لوگ باطل پر ایمان لائیں گے اور اللہ کی نعمت کا انکار کریں گے؟

72۔اللہ تمہیں ازواج اور اولاد جیسی نعمتیں عطا فرماتا ہے اور پاکیزہ ارزاق کی فراوانی کرتا ہے اور تم ایسی چیزوں پر ایمان رکھتے ہو جو باطل ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایسے لوگوں سے اولاد مانگتے ہو، حاجات کی برآوری چاہتے ہو جو بے بنیاد اور بے حقیقت اوہام کے سوا کچھ نہیں ہیں اور جس کے ہاتھ میں یہ سب کچھ ہے اس کے دروازے پر دستک نہیں دیتے۔


وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَہُمۡ رِزۡقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ شَیۡئًا وَّ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿ۚ۷۳﴾

۷۳۔ اور اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ ایسوں کی پوجا کرتے ہیں جنہیں نہ آسمانوں سے کوئی رزق دینے کا اختیار ہے اور نہ زمین سے اور نہ ہی وہ اس کام کو انجام دے سکتے ہیں۔

73۔ یہ لوگ حقیقی رازق کو چھوڑ کر ایسے بے شعور بتوں کی پرستش کرتے ہیں جن میں سرے سے رزق دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ دنیا کے بادشاہوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جنہیں وسیلہ بنایا جاتا ہے ان میں شعور ہوتا ہے۔ اگر دنیا کے بادشاہوں تک رسائی کے لیے پتھر کے بت دروازوں پر نصب کیے جائیں تو یہ ایک مضحکہ ہو گا۔


فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴿۷۴﴾

۷۴۔ پس اللہ کے لیے مثالیں نہ دیا کرو، (ان چیزوں کو) یقینا اللہ بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔


ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡکًا لَّا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ مَنۡ رَّزَقۡنٰہُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنۡفِقُ مِنۡہُ سِرًّا وَّ جَہۡرًا ؕ ہَلۡ یَسۡتَوٗنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۷۵﴾

۷۵۔ اللہ ایک غلام کی مثال بیان فرماتا ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کسی چیز پر قادر نہیں اور دوسرا (وہ شخص) جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دے رکھا ہے پس وہ اس رزق میں سے پوشیدہ و علانیہ طور پر خرچ کرتا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ثنائے کامل اللہ کے لیے ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

74۔75 یعنی اللہ کے لیے اپنے محسوسات کی روشنی میں مثالیں نہ دیا کرو اور یہ مت کہو کہ اللہ کی بیٹیاں اور بیٹے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں رسائی حاصل کرنے کے لیے بتوں کا وسیلہ اختیار کرنا پڑتا ہے، تم صفات خدا کو نہیں جانتے ہو۔ اس باب میں صحیح مثال یہ ہے کہ مملوک اور مالک برابر نہیں ہوتے، مملوک بے بس ہوتا ہے اور مالک صاحب اختیار ہوتا ہے۔ جب ایک مجازی مالک اور مملوک برابر نہیں ہو سکتے تو حقیقی مالک اور مملوک کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟