Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ ہَدَی اللّٰہُ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَیۡہِ الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ﴿۳۶﴾

۳۶۔ اور بتحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو، پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض کے ساتھ ضلالت پیوست ہو گئی، لہٰذا تم لوگ زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا تھا۔


اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ﴿۳۷﴾

۳۷۔ اگر آپ کو ان کی ہدایت کی شدید خواہش ہو بھی تو اللہ انہیں ہدایت نہیں دیتا جنہیں وہ ضلالت میں ڈال چکا ہو اور نہ ہی کوئی ان کی مدد کرنے والا ہو گا ۔

37۔ اگرچہ رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شفقت ہے کہ آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لوگوں کی ہدایت کے متمنی ہوتے تھے، لیکن ہدایت و ضلالت کا ایک کلیہ ہے جس کے تحت جو ہدایت کی اہلیت رکھتا ہے وہ ہدایت پاتا ہے، جو اس کی اہلیت نہیں رکھتا اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جسے اللہ اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ ضلالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتا ہے۔


وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ لَا یَبۡعَثُ اللّٰہُ مَنۡ یَّمُوۡتُ ؕ بَلٰی وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾

۳۸۔ اور یہ لوگ اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں: جو مر جاتا ہے اسے اللہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا، کیوں نہیں (اٹھائے گا)؟ یہ ایک ایسا برحق وعدہ ہے جو اللہ کے ذمے ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

38۔ حیات بعد الموت، تخلیق، تکلیف اور آزمائش کا عقلی لازمہ ہے۔ اگر جرم و سزا کا کوئی دن نہ ہوتا تو مومن و کافر، ظالم اور مظلوم میں کوئی فرق نہ ہوتا۔ کیا جس نے انسانیت کے خون سے ہولی کھیلی ہو، اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے انسانیت کی خدمت کی ہے۔ اگر ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے تو یہ زندگی ایک عبث اور کھلونا ہونا لازم آتا ہے۔


لِیُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیۡ یَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰذِبِیۡنَ﴿۳۹﴾

۳۹۔ تاکہ اللہ ان کے لیے وہ بات واضح طور پر بیان کرے جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں اور کافر لوگ بھی جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔


اِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدۡنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ﴿٪۴۰﴾

۴۰۔ جب ہم کسی چیز کا ارادہ کر لیتے ہیں تو بے شک ہمیں اس سے یہی کہنا ہوتا ہے: ہو جا ! پس وہ ہو جاتی ہے ۔

40۔ اللہ تعالیٰ کے دو ارادے ہیں: ایک ارادہ تشریعی، یعنی وہ قانون اور شریعت سازی کے ذریعہ لوگوں سے چاہتا ہے کہ وہ اس قانون کی پابندی کریں۔ اللہ کے اس ارادے کی اطاعت بھی ہو سکتی ہے اور نافرمانی بھی۔ دوسرا ارادہ تکوینی۔ یہ عالم خلق و ایجاد سے مربوط ارادہ ہے۔ یہاں اللہ کا ارادہ فوراً نافذ العمل ہوتا ہے، بلکہ یہاں ارادہ اور ایجاد دو چیزیں نہیں ہیں، بلکہ اللہ کا ارادہ اور خلقت ایک ہیں۔ چنانچہ کن ایک تعبیر ہے، ورنہ ارادہ اور مراد میں کاف و نون کی بھی ضرورت نہیں ہے۔


وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا لَـنُبَوِّئَنَّہُمۡ فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً ؕ وَ لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾

۴۱۔ اور جنہوں نے ظلم کا نشانہ بننے کے بعد اللہ کے لیے ہجرت کی انہیں ہم دنیا ہی میں ضرور اچھا مقام دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔

41۔ فی سبیل اللہ ہجرت کے اچھے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ ایک طرف سے دنیا میں اچھا مقام ملتا ہے اور آخرت کا اجر تو قابل وصف و بیان نہیں ہے۔


الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ﴿۴۲﴾

۴۲۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔


وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾

۴۳۔ اور ہم نے آپ سے قبل صرف مردان (حق) رسول بنا کر بھیجے ہیں جن پر ہم وحی بھیجا کرتے ہیں، اگر تم لوگ نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔


بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ؕ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ﴿۴۴﴾

۴۴۔ (جنہیں) دلائل اور کتاب دے کر بھیجا تھا اور (اے رسول) آپ پر بھی ہم نے ذکر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کر بتا دیں جو ان کے لیے نازل کی گئی ہیں اور شاید وہ (ان میں) غور کریں۔

43۔44 اللہ تعالیٰ نے جب بھی اہل ارض کی طرف کسی رسول کو بھیجا ہے تو انہی آدمیوں کو وحی دے کر بھیجا ہے جن کے پاس اگر کوئی طاقت تھی تو وہ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ کی طاقت تھی۔ یعنی دلیل و منطق کی طاقت۔ ان کو مافوق البشر طاقت کی اجازت دے کر نہیں بھیجا کہ اس طاقت کے ذریعے وہ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ اگر اللہ کی سنت اس قسم کی طاقت استعمال کرنے کی ہوتی تو آج کے مشرک یہ کہ سکتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کر سکتے۔ اس بارے میں یہ حکم ہوا کہ گزشتہ انبیاء کے بارے میں اگر تم جاننا چاہتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔

اگرچہ فَسۡـَٔلُوۡۤا کاخطاب مشرکین سے ہے، لیکن تفسیری قاعدے کے تحت لفظ کا عموم دیکھا جاتا ہے اور حکم صرف شان نزول کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جاتا، اس طرح یہ آیت ہر نہ جاننے والے کے لیے، جاننے والوں سے سوال کرنے کے بارے میں ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اہل ذکر سے مراد اہل قرآن ہیں۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے: نَحْنُ اَھْلُ الذِّکْرِ وَ نَحْنُ الْمَسْؤلُونَ ۔(اصول الکافی 1:210) ہم اہل الذکر ہیں اور ہم سے سوال کیا جانا چاہیے۔ غیر امامیہ مصادر کے لیے ملاحظہ ہو احقاق الحق 3: 482۔


اَفَاَمِنَ الَّذِیۡنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّخۡسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

۴۵۔ جو بدترین مکاریاں کرتے ہیں کیا وہ اس بات سے بے خوف ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر ایسی جگہ سے عذاب آئے کہ جہاں سے انہیں خبر ہی نہ ہو؟