Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

قَالَ وَ مَنۡ یَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ﴿۵۶﴾

۵۶۔ ابراہیم بولے: اپنے رب کی رحمت سے تو صرف گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔

56۔ اس کے بعد عذاب الٰہی کی بھی خبر دے دو تاکہ لوگ خوف و امید کے درمیان رہیں، ورنہ اگر وہ یاس و نا امیدی میں رہیں تو گمراہ ہو جاتے ہیں نیز اگر یہودیوں کی طرح صرف امیدوں اور آرزوؤں میں رہیں تو بھی گمراہ ہو جاتے ہیں۔


قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴿۵۷﴾

۵۷۔ پھر فرمایا: اے فرستادگان ! تمہاری مہم کیا ہے؟


قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾

۵۸۔ کہنے لگے: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔


اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾

۵۹۔مگر آل لوط کہ ان سب کو ہم ضرور بچا لیں گے۔


اِلَّا امۡرَاَتَہٗ قَدَّرۡنَاۤ ۙ اِنَّہَا لَمِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ﴿٪۶۰﴾

۶۰۔ البتہ ان کی بیوی کے بارے میں ہم نے یہ طے کیا ہے کہ وہ ضرور پیچھے رہ جانے والوں میں ہو گی۔


فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوۡطِ ۣ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿ۙ۶۱﴾

۶۱۔ جب یہ فرستادگان آل لوط کے ہاں آئے ۔


قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ﴿۶۲﴾

۶۲۔ تو لوط نے کہا: تم تو ناآشنا لوگ ہو۔


قَالُوۡا بَلۡ جِئۡنٰکَ بِمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَمۡتَرُوۡنَ﴿۶۳﴾

۶۳۔ کہنے لگے: ہم آپ کے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے بارے میں لوگ شک کر رہے تھے۔


وَ اَتَیۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴿۶۴﴾

۶۴۔ اور ہم تو آپ کے پاس امر حق لے کر آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں۔


فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ﴿۶۵﴾

۶۵۔ لہٰذا آپ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے کسی حصے میں یہاں سے چلے جائیں اور آپ ان کے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے اور جدھر جانے کا حکم دیا گیا ہے ادھر چلے جائیں۔

65۔ حضرت لوط علیہ السلام کے اہل بیت، اللہ کے نزدیک اس قدر عزیز ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام کو ان کے پیچھے چلنے کا حکم ملتا ہے کہ ان کی محافظت یقینی ہو جائے۔ کیونکہ آنے والے واقعہ کا علم تو صرف حضرت لوط علیہ السلام کو ہے، دوسروں کو یا تو علم نہیں ہے، اگر ہو تو بھی ایک نبی کی طرح قطعی علم نہیں ہوتا۔ اس لیے ممکن ہے تساہل برتیں اور پیچھے رہ جائیں۔ مڑ کر نہ دیکھنے کا حکم ممکن ہے اس لیے ہو کہ نازل ہونے والا عذاب دیکھنے نہ پائیں، کیونکہ وہ عذاب اس قدر شدید تھا کہ اس کے دیکھنے کا بھی انسان متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔