Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ بِالۡبُشۡرٰی قَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِیۡذٍ﴿۶۹﴾

۶۹۔اور جب ہمارے فرشتے بشارت لے کر ابراہیم کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: سلام، ابراہیم نے (جواباً) کہا: سلام، ابھی دیر نہ گزری تھی کہ ابراہیم ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

69۔ یہ فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بشارت دینے اور قوم لوط کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے آئے تھے۔ فرشتے بشری شکل میں آئے اور انہوں نے سلام کیا۔ سلام صرف زمینی ادیان کی نہیں بلکہ آسمانی مخلوقات اور اہل بہشت کی بھی ثقافت ہے۔

بھنے ہوئے بچھڑے سے مہمانوں کی تواضع کی۔ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ ان کی سطح زندگی کا بھی کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔


فَلَمَّا رَاٰۤ اَیۡدِیَہُمۡ لَا تَصِلُ اِلَیۡہِ نَـکِرَہُمۡ وَ اَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۰﴾

۷۰۔ جب ابراہیم نے دیکھا ان کے ہاتھ اس (کھانے ) تک نہیں پہنچتے تو انہیں اجنبی خیال کیا اور ان سے خوف محسوس کیا، فرشتوں نے کہا: خوف نہ کیجیے ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

70۔جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بادی النظر میں یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں دشمنی کے ارادے سے تو نہیں آئے۔


وَ امۡرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتۡ فَبَشَّرۡنٰہَا بِاِسۡحٰقَ ۙ وَ مِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ یَعۡقُوۡبَ﴿۷۱﴾

۷۱۔ اور ابراہیم کی زوجہ کھڑی تھیں پس وہ ہنس پڑیں تو ہم نے انہیں اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بشارت دی۔


قَالَتۡ یٰوَیۡلَتٰۤیءَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوۡزٌ وَّ ہٰذَا بَعۡلِیۡ شَیۡخًا ؕ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عَجِیۡبٌ﴿۷۲﴾

۷۲۔ وہ بولی: ہائے میری شامت! کیا میرے ہاں بچہ ہو گا جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہیں؟ یقینا یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔


قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِیۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ رَحۡمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمۡ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ ؕ اِنَّہٗ حَمِیۡدٌ مَّجِیۡدٌ﴿۷۳﴾

۷۳۔ انہوں نے کہا:کیا تم اللہ کے فیصلے پر تعجب کرتی ہو؟ تم اہل بیت پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہیں، یقینا اللہ قابل ستائش، بڑی شان والا ہے۔

71 تا 73 مجمع البیان کا موقف یہ ہے کہ ضحک حیض کے معنوں میں ہے۔ جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور مہمانوں میں گفتگو ہو رہی تھی، اس وقت حضرت سارہ کھڑی گفتگو سن رہی تھیں۔ اس وقت حضرت سارہ کو عالم پیری میں ماہواری آنا شروع ہو گئی اور فرشتوں نے حضرت سارہ کو خوشخبری سنائی کہ آپ کے ہاں بیٹا ہونے والا ہے اور ساتھ ہی پوتے کی خوشخبری بھی دی۔ اس پر حضرت سارہ کو حیرت ہوئی اور اظہار تعجب کیا، کیونکہ بنابر روایت بائیبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 100 سال اور حضرت سارہ کی عمر 90 برس تھی۔ فرشتوں نے سارہ کے تعجب و حیرانگی کے جواب میں کہا: اللہ کے فیصلے پر تعجب کرتی ہو جبکہ اس گھرانے پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوتی رہی ہیں۔ حضرت سارہ ان پاک خواتین میں سے ایک ہیں جو فرشتوں سے ہمکلام ہوئی ہیں۔ فرشتوں نے یہ بشارت حضرت سارہ کو اس لیے دی ہو گی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے جلیل القدر فرزند موجود تھے۔


فَلَمَّا ذَہَبَ عَنۡ اِبۡرٰہِیۡمَ الرَّوۡعُ وَ جَآءَتۡہُ الۡبُشۡرٰی یُجَادِلُنَا فِیۡ قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۴﴾

۷۴۔پھر جب ابراہیم کے دل سے خوف نکل گیا اور انہیں خوشخبری بھی مل گئی تو وہ قوم لوط کے بارے میں ہم سے بحث کرنے لگے۔


اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَحَلِیۡمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیۡبٌ﴿۷۵﴾

۷۵۔ بے شک ابراہیم بردبار، نرم دل، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

74۔75 قوم لوط سے عذاب ٹالنے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اصرار و تکرار ایک طرف تو ان کی اللہ کے ساتھ گہری محبت و ناز کو ظاہر کرتا ہے، دوسری طرف ان کی نرم دلی اور حلم و بردباری کی عظمت کا غماز ہے۔


یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ۚ اِنَّہٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّکَ ۚ وَ اِنَّہُمۡ اٰتِیۡہِمۡ عَذَابٌ غَیۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴿۷۶﴾

۷۶۔ (فرشتوں نے ان سے کہا) اے ابراہیم! اس بات کو چھوڑ دیں، بیشک آپ کے رب کا فیصلہ آ چکا ہے اور ان پر ایک ایسا عذاب آنے والا ہے جسے ٹالا نہیں جا سکتا۔


وَ لَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوۡطًا سِیۡٓءَ بِہِمۡ وَ ضَاقَ بِہِمۡ ذَرۡعًا وَّ قَالَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَصِیۡبٌ﴿۷۷﴾

۷۷۔ اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس آئے تو لوط ان سے رنجیدہ ہوئے اور ان کے باعث دل تنگ ہوئے اور کہنے لگے: یہ بڑا سنگین دن ہے۔


وَ جَآءَہٗ قَوۡمُہٗ یُہۡرَعُوۡنَ اِلَیۡہِ ؕ وَ مِنۡ قَبۡلُ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ ہٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیۡ ہُنَّ اَطۡہَرُ لَکُمۡ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ لَا تُخۡزُوۡنِ فِیۡ ضَیۡفِیۡ ؕ اَلَـیۡسَ مِنۡکُمۡ رَجُلٌ رَّشِیۡدٌ﴿۷۸﴾

۷۸۔ اور لوط کی قوم بے تحاشا دوڑتی ہوئی ان کی طرف آئی اور یہ لوگ پہلے سے بدکاری کا ارتکاب کرتے تھے، لوط نے کہا: اے میری قوم!یہ میری بیٹیاں تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں پس تم اللہ کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے سامنے مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی ہوشمند آدمی نہیں ہے؟

78۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بدکار قوم نے جب ان خوش شکل لڑکوں کو دیکھا تو حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ شاید فرشتے خوش شکل لڑکوں کی صورت میں اسی لیے آئے ہوں کہ ان کی بدکاری ثابت ہو جائے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا: جنسی خواہشات کو پورا کرنا ہے تو اس کے لیے شائستہ اور فطری راستہ اختیار کرو اور میری بیٹیاں تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ پاکیزگی یعنی نکاح۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کافروں کے ساتھ نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟ جواب دیا گیا ہے: ممکن ہے شریعت حضرت لوط علیہ السلام میں کافر سے نکاح جائز ہو نیز ممکن ہے ”میری بیٹیاں“ سے مراد قوم کی بیٹیاں ہوں۔

اس واقعے سے مہمان کی عزت اور اس کے وقار کے تحفظ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس کے لیے حضرت لوط علیہ السلام ہر قربانی دینے کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں۔