Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

تِلۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہَاۤ اِلَیۡکَ ۚ مَا کُنۡتَ تَعۡلَمُہَاۤ اَنۡتَ وَ لَا قَوۡمُکَ مِنۡ قَبۡلِ ہٰذَا ؕۛ فَاصۡبِرۡ ؕۛ اِنَّ الۡعَاقِبَۃَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۴۹﴾

۴۹۔ یہ ہیں غیب کی کچھ خبریں جو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں، اس سے پہلے نہ آپ ان باتوں کو جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم پس صبر کریں انجام یقینا پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔


وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ﴿۵۰﴾

۵۰۔ اور عاد کی طرف ان کی برادری کے فرد ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، (دوسرے معبودوں کو) تم نے صرف افترا کیا ہے۔


یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴿۵۱﴾

۵۱۔ اے میری قوم! میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اس ذات پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟

51۔ یعنی جب میں ہر قسم کے مفاد سے بالاترہو کر اس دعوت کے سلسلے میں مشقتیں اٹھا رہا ہوں اور تمہارے دین کی مخالفت کر کے سب کو اپنا دشمن بنا چکا ہوں تو تمہیں سوچنا چاہیے کہ اگر حق و حقیقت جیسی اطمینان بخش طاقت میری پشت پر نہ ہوتی تو ان سب مصائب و مشکلات سے بے پرواہ ہو کر اس گرداب میں کیوں کود پڑتا۔


وَ یٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا وَّ یَزِدۡکُمۡ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمۡ وَ لَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِیۡنَ﴿۵۲﴾

۵۲۔ اور اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کے حضور توبہ کرو وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا اور مجرم بن کر منہ نہ پھیرو۔

52۔ اس مضمون کی ایک آیت رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف نازل ہوئی تھی جو سورہ کی ابتدا میں گزر گئی۔ اس کے علاوہ دیگر متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی زندگی کی سعادت و شقاوت میں دینی قدروں کو دخل حاصل ہے۔


قَالُوۡا یٰہُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَّ مَا نَحۡنُ بِتَارِکِیۡۤ اٰلِہَتِنَا عَنۡ قَوۡلِکَ وَ مَا نَحۡنُ لَکَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۵۳﴾

۵۳۔ کہنے لگے: اے ہود! تم ہمارے سامنے کوئی شہادت نہیں لائے اور ہم تمہاری بات پر اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی ہم تجھ پر ایمان لا سکتے ہیں۔

53۔ قوم ہود علیہ السلام کا مؤقف یہ تھا کہ اگر آپ علیہ السلام اللہ کے نمائندہ ہیں تو اس پر کوئی دلیل پیش کریں اور جو دلیل وہ پیش کرتے اسے مسترد کرتے تھے۔ بالکل مشرکین مکہ کی طرح جو حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے معجزات مانگتے تھے اور جو معجزہ پیش کیا جاتا اسے مسترد کرتے تھے۔


اِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعۡتَرٰىکَ بَعۡضُ اٰلِہَتِنَا بِسُوۡٓءٍ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اُشۡہِدُ اللّٰہَ وَ اشۡہَدُوۡۤا اَنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾

۵۴۔ کیونکہ ہم تو یہ کہتے ہیں: تجھے ہمارے معبودوں میں سے کسی نے آسیب پہنچایا ہے، ہود نے کہا: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ (اللہ کے سوا) جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔


مِنۡ دُوۡنِہٖ فَکِیۡدُوۡنِیۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ﴿۵۵﴾

۵۵۔اس اللہ کے سوا تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو پھر مجھے مہلت نہ دو۔

54۔ 55 حضرت ہود علیہ السلام نے کمال استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا : میں اللہ اور تم سب کو گواہ بنا کر تمہارے معبودوں سے اعلان بیزاری کرتا ہوں اور تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کر سکتے ہو کرو۔ اگر تمہارے معبود مجھے آسیب پہنچا سکتے ہیں تو میرے خلاف تمہاری مدد بھی کر سکتے ہیں، ایک بار میرے خلاف ان معبودوں سے مدد لے کر دکھاؤ۔ حضرت ہود علیہ السلام اپنے اس چیلنج پر اس قدر اپنے رب پر اعتماد کا اظہار فرما رہے ہیں کہ کافروں سے فرماتے ہیں کہ جیسے اللہ تمہیں مہلت دیتا ہے، مجھے مہلت بھی نہ دو اور اپنی سازش پر فوری عمل کرو۔


اِنِّیۡ تَوَکَّلۡتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ ؕ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ﴿۵۶﴾

۵۶۔ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے، کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی پیشانی اللہ کی گرفت میں نہ ہو، بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔

56۔ حضرت ہود علیہ السلام نے دشمن کو اس کی ناتوانی کا احساس دلایا، اس کے بعد اپنی طاقت کا بھی احساس دلا رہے ہیں کہ میں نے اس رب پر بھروسہ کیا ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر جاندار کی جان ہے، وہی طاقت کا سرچشمہ ہے اور وہی عدل و انصاف کا مالک بھی ہے۔ وہ حق کا ساتھ دیتا ہے اور باطل کو نابود کرتا ہے۔


فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖۤ اِلَیۡکُمۡ ؕ وَ یَسۡتَخۡلِفُ رَبِّیۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۚ وَ لَا تَضُرُّوۡنَہٗ شَیۡئًا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ﴿۵۷﴾

۵۷۔ پھر اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں نے تو وہ پیغام تمہیں پہنچا دیا ہے جس کے ساتھ میں تمہاری طرف بھیجا گیا تھا اور میرا رب تمہاری جگہ اور لوگوں کو لائے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے، بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔

57۔ حجت پوری ہونے کے بعد حق سے منہ پھیرنے کی صورت میں جو کچھ امتوں کے ساتھ ہوا ہے، اسی انجام کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تمہیں صفحۂ ہستی سے مٹا کر تمہاری جگہ دوسری قوموں کو آباد کرے گا۔


وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا ہُوۡدًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا ۚ وَ نَجَّیۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ﴿۵۸﴾

۵۸۔ پھر جب ہمارا فیصلہ آیا تو ہود اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ہم نے اپنی رحمت سے انہیں بچا لیا اور ہم نے انہیں سنگین عذاب سے نجات دی۔