Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ ائۡذَنۡ لِّیۡ وَ لَا تَفۡتِنِّیۡ ؕ اَلَا فِی الۡفِتۡنَۃِ سَقَطُوۡا ؕ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ﴿۴۹﴾

۴۹۔ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے: مجھے اجازت دیجئے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے، دیکھو یہ فتنے میں پڑ چکے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو یقینا گھیر رکھا ہے۔

49۔ کچھ منافقین نے یہ عذر تراش لیا کہ اس جنگ میں شرکت کریں تو ممکن ہے مال غنیمت کا لالچ انہیں گمراہ کر دے یا ممکن ہے کہ وہ خوش شکلی میں مشہور رومی عورتوں پر فریفتہ ہو جائیں۔ جواب میں فرمایا: اس قسم کے فتنے میں تو تم مبتلا ہو چکے ہو۔ یہی عذر تراشی سب سے بڑا فتنہ ہے۔


اِنۡ تُصِبۡکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡکَ مُصِیۡبَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ یَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ فَرِحُوۡنَ﴿۵۰﴾

۵۰۔ اگر آپ کا بھلا ہوتا ہے تو انہیں دکھ ہوتا ہے اور اگر آپ پر کوئی مصیبت آئے تو کہتے ہیں: ہم نے پہلے ہی سے اپنا معاملہ درست کر رکھا ہے اور خوشیاں مناتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں۔

52۔یہ کائنات کے بارے میں دو مختلف تصورات و نظریات کا موازنہ ہے۔ایک کے مطابق ہر صورت میں کامیابی اور دوسرے مؤقف کے مطابق ہر صورت میں ناکامی ہے۔ مومن مجاہد کو فتح ملتی ہے تو بھی کامیابی اور اگر شہادت نصیب ہوتی ہے تو رضائے رب کا حصول اس سے بھی بڑی کامیابی ہے، جبکہ کافر کو اگر فتح ملتی ہے تو چند دنوں کے لیے وہ زندہ رہے گا اور آخرت میں ان کے لیے عذاب الیم ہے نیز اگر قتل ہو جائے تو بھی عذاب الیم ہے۔


قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰىنَا ۚ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴿۵۱﴾

۵۱۔کہدیجئے: اللہ نے جو ہمارے لیے مقدر فرمایا ہے اس کے سوا ہمیں کوئی حادثہ ہرگز پیش نہیں آتا وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنین کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کریں۔

5۔51 ان دو آیتوں میں فتح و شکست اور دکھ سکھ کی حالت میں مومن اور منافق کے نقطۂ نظر اور عملی کیفیت کا موازنہ ہوا ہے۔ وہ یوں کہ منافق کی نگاہ محسوسات تک محدود ہوتی ہے۔ وہ مسلمانوں کے دکھ، شکست و ناکامی پر خوش ہوتا ہے۔خود ان کے ان حالات سے دو چار نہ ہونے کو وہ اپنی حسن تدبیر اور احتیاطی پیش بندی کا نتیجہ قرار دیتا ہے جبکہ مومن کی نگاہ اپنے مولا و سرپرست پر ہوتی ہے۔ وہ وقتی فتح و شکست اور وقتی دکھ سکھ پر بھروسہ نہیں رکھتا بلکہ وہ ان تمام محسوسات سے بالاتر ہو کر اللہ کی حکمت و سرپرستی پر یقین رکھتا ہے۔یوں وہ ہر حال میں راضی بہ رضائے الٰہی رہتا ہے اور ہر حالت کو اپنے لیے عطیہ الٰہی سمجھتا ہے۔


قُلۡ ہَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَی الۡحُسۡنَیَیۡنِ ؕ وَ نَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمۡ اَنۡ یُّصِیۡبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِہٖۤ اَوۡ بِاَیۡدِیۡنَا ۫ۖ فَتَرَبَّصُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ﴿۵۲﴾

۵۲۔ کہدیجئے: کیا تم ہمارے بارے میں دو بھلائیوں (فتح یا شہادت) میں سے ایک ہی کے منتظر ہو اور ہم تمہارے بارے میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ خود اپنے پاس سے تمہیں عذاب دے یا ہمارے ہاتھوں عذاب دلوائے، پس اب تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔


قُلۡ اَنۡفِقُوۡا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا لَّنۡ یُّتَقَبَّلَ مِنۡکُمۡ ؕ اِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ﴿۵۳﴾

۵۳۔ کہدیجئے:تم اپنا مال بخوشی خرچ کرو یا بادل نخواستہ، تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ تم فاسق قوم ہو۔

53۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اپنی جگہ نیک عمل ہے۔ لیکن عمل کا نیک ہونا کافی نہیں ہے بلکہ عمل کرنے والے کا نیک ہونا بھی ضروری ہے۔ مثلاً اگر کوئی فرزند باپ کو باپ نہیں مانتا تو باپ ایسے بیٹے کی کسی نیکی کو قبول نہیں کرے گا۔


وَ مَا مَنَعَہُمۡ اَنۡ تُقۡبَلَ مِنۡہُمۡ نَفَقٰتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ بِرَسُوۡلِہٖ وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَ ہُمۡ کُسَالٰی وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا وَ ہُمۡ کٰرِہُوۡنَ﴿۵۴﴾

۵۴۔ اور ان کے خرچ کیے ہوئے مال کی قبولیت کی راہ میں بس یہی رکاوٹ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور نماز کے لیے آتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ اور راہ خدا میں تو بادل نخواستہ ہی خرچ کرتے ہیں۔


فَلَا تُعۡجِبۡکَ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ﴿۵۵﴾

۵۵۔ لہٰذا ان کے اموال اور اولاد کہیں آپ کو فریفتہ نہ کر دیں، اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے انہیں دنیاوی زندگی میں بھی عذاب دے اور کفر کی حالت میں ہی ان کی جان کنی ہو۔

55۔ لِیُعَذِّبَہُمۡ : اللہ غیر مومن کو مال و اولاد کے ذریعے دنیا ہی میں عذاب دیتا ہے۔ کیا مال مایۂ خوشحالی ہے یا اضطراب و بدحالی ہے؟ اس آیت میں فرمایا: غیر مومن کے لیے دولت ایک عذاب ہے اور ہدایت کے لیے رکاوٹ ہے۔ وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ مال ہی کی وجہ سے وہ کفر کی حالت میں مریں گے۔


وَ یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ اِنَّہُمۡ لَمِنۡکُمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لٰکِنَّہُمۡ قَوۡمٌ یَّفۡرَقُوۡنَ﴿۵۶﴾

۵۶۔ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تمہاری جماعت میں شامل ہیں حالانکہ وہ تمہاری جماعت میں شامل نہیں ہیں دراصل وہ بزدل لوگ ہیں۔


لَوۡ یَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً اَوۡ مَغٰرٰتٍ اَوۡ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوۡا اِلَیۡہِ وَ ہُمۡ یَجۡمَحُوۡنَ﴿۵۷﴾

۵۷۔ اگر انہیں کوئی پناہ گاہ یا غار یا سر چھپانے کی جگہ میسر آجائے تو وہ اس کی طرف لپکتے ہوئے جائیں گے۔


وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّلۡمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡہَا رَضُوۡا وَ اِنۡ لَّمۡ یُعۡطَوۡا مِنۡہَاۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡخَطُوۡنَ﴿۵۸﴾

۵۸۔ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صدقات(کی تقسیم)میں آپ کو طعنہ دیتے ہیں پھر اگر اس میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اس میں سے کچھ نہ دیا جائے تو بگڑ جاتے ہیں۔

58۔ ابو سعید خدری راوی ہیں کہ تقسیم زکوٰۃ و غنیمت کے بارے میں ایک بار ذوالخویصرہ تمیمی نے آکر کہا: یا رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انصاف سے کام لیں۔ حضور صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پر! میں انصاف نہ کروں تو کون انصاف کرے گا؟ جس پر حضرت عمر نے کہا:یا رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اس کی گردن مار دوں؟ فرمایا:اسے رہنے دو۔ اس کے اور بھی ساتھی ہیں۔ تم ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ یہ لوگ دین سے ایسے خارج ہو جائیں گے جیسے تیر کمان سے۔ ان کی نشانی وہ سیاہ آدمی ہے جس کی چھاتی عورتوں کی چھاتی کی طرح ہو گی یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح۔ لوگوں میں تفرقہ کے وقت یہ لوگ نمودار ہوں گے۔ ابو سعید کہتے ہیں: گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ فرمان سنا تھا اور اس کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ علی علیہ السلام نے جب (نہروان میں) ان کو قتل کیا تو میں ان کے ہمراہ تھا۔ پس اس شخص کو سامنے لایا گیا جس کے اوصاف رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بیان کیے تھے۔ (صحیح البخاری کتاب المناقب)