Warning: Undefined array key "optsrchtp" in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 4

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 288

Warning: Undefined variable $crisql in /home/balaghroot/public_html/inc-search-build-sql.php on line 309

نتیجہ

Warning: Undefined variable $msg in /home/balaghroot/public_html/quransearch.php on line 32

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اسۡمَعُوۡا ؕ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا ٭ وَ اُشۡرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡعِجۡلَ بِکُفۡرِہِمۡ ؕ قُلۡ بِئۡسَمَا یَاۡمُرُکُمۡ بِہٖۤ اِیۡمَانُکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ﴿۹۳﴾

۹۳۔ اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور کوہ طور کو تمہارے اوپر اٹھایا تھا (اور حکم دیا تھا) جو چیز (توریتـ) ہم نے تمہیں دی ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو، انہوں نے کہا: ہم نے سن تو لیا مگر مانا نہیں اور ان کے کفر کے باعث ان کے دلوں میں گوسالہ رچ بس گیا، کہدیجئے: اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم سے بہت برے تقاضے کرتا ہے۔

93۔ ان کے کفر کی وجہ سے گوسالہ پرستی ان کے دلوں میں رچ بس گئی، یعنی ایک نافرمانی، دوسری نافرمانی اور ایک جرم، دوسرے جرم کو جنم دیتا ہے۔


قُلۡ اِنۡ کَانَتۡ لَکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۹۴﴾

۹۴۔ کہدیجئے: اگر اللہ کے نزدیک دار آخرت دوسروں کی بجائے خالصتاً تمہارے ہی لیے ہے اور تم ( اس بات میں ) سچے بھی ہو تو ذرا موت کی تمنا کرو۔

94۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ اخروی زندگی صرف انہی کے لیے مخصوص ہے، جبکہ دوسرے لوگ اس سے محروم ہوں گے اور اگر کسی یہودی کو عذاب ہو گا بھی تو صرف چند دنوں کے لیے۔ مثلاً جتنے دن گوسالہ پرستی میں گزرے ہیں، اتنے ہی عذاب کے دن ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس عقیدے کے مطابق الزامی تنبیہ فرمائی کہ اگر آخرت کی زندگی اور آسودگی صرف تمہارے لیے ہی چشم براہ ہے تو اس کے حصول کی کوشش ایک طبعی اور فطری امر ہے۔ بنابرایں اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ذرا موت کی تمنا کر کے تو دکھاؤ۔

اس آیت سے اللہ کے مخلص بندوں کا معیار واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ کے مخلص بندے موت کے مشتاق اور بارگاہ پروردگار میں جانے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔ اللہ کے حقیقی ولی حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے: وَاللّٰہِ لاَبْنُ اَبِی طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْیِ اُمِّہِ ۔ یعنی، قسم بخدا ! ماں کے سینے سے بچے کے انس سے زیادہ ابوطالب کا بیٹا موت سے مانوس ہے۔ (نہج البلاغہ ص 62 خ 5 خلقہ و عملہ)

دوسری جگہ فرمایا: فَوَ اللّٰہِ مَا اُبَالِیْ دَخَلْتُ اِلَی الْمَوْتِ اَوْ خَرَجَ الْمَوْتُ اِلَیَّ ۔ قسم بخدا! مجھے پرواہ نہیں کہ موت مجھ پر آ گرتی ہے یا میں موت پر جا گرتا ہوں۔ (نہج البلاغہ: خ 55)


وَ لَنۡ یَّتَمَنَّوۡہُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ﴿۹۵﴾

۹۵۔ اور وہ موت کے متمنی ہرگز نہ ہوں گے، ان گناہوں کی وجہ سے جو وہ اپنے ہاتھوں کر چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔


وَ لَتَجِدَنَّہُمۡ اَحۡرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ۚۛ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚۛ یَوَدُّ اَحَدُہُمۡ لَوۡ یُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَۃٍ ۚ وَ مَا ہُوَ بِمُزَحۡزِحِہٖ مِنَ الۡعَذَابِ اَنۡ یُّعَمَّرَ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ﴿٪۹۶﴾

۹۶۔ (اے رسول!) اور آپ ان لوگوں کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پائیں گے، حتیٰ کہ مشرکین سے بھی زیادہ، ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش اسے ہزار سال عمر ملے، حالانکہ اگر اسے یہ عمر مل بھی جائے تو یہ بات اس کے عذاب کو ہٹا نہیں سکتی اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔


قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۹۷﴾

۹۷۔ آپ کہدیجئے: جو کوئی جبرائیل کا دشمن ہے (وہ یہ جان لے کہ) اس نے (تو) اس قرآن کو باذن خدا آپ کے قلب پر نازل کیا جو اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو پہلے سے موجود ہے اور یہ (قرآن) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔

97۔ جِبۡرِیۡلَ غیر عربی لفظ ہے جو بنابر قولے جبر اور ایل سے مرکب ہے یعنی قوت خدا۔

قلب مراد صنوبری شکل کا لحمیاتی عضو نہیں ہے، بلکہ اس کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود مختلف جہتوں کے لیے جس چیز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اسے قلب کہتے ہیں اور یہ عقل و شعور کا بھی مرکز و محور ہے۔ قلب رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر وحی نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ رسولِ کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علم حضوری کے طور پر اپنے وجود سے وحی کا ادراک کرتے تھے، نہ کہ محسوسات کی طرح صرف حواس سے یا معقولات کی طرح صرف عقل سے، بلکہ ان سے واضح تر، جیسے خود اپنے وجود کا ادراک۔ کیونکہ اگر سمعی و بصری ذرائع سے وحی کا ادراک ہوتا تو یہ وسائل جن کے پاس بھی ہوتے وہ باآسانی وحی کا ادراک کر لیتے۔


مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ جِبۡرِیۡلَ وَ مِیۡکٰىلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ﴿۹۸﴾

۹۸۔ جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں، رسولوں اور (خاص کر) جبرائیل و میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ(ایسے) کافروں کا دشمن ہے۔


وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ﴿۹۹﴾

۹۹۔ اور ہم نے آپ پر واضح نشانیاں نازل کی ہیں،اور ان کا انکار صرف بدکردار لوگ ہی کر سکتے ہیں۔


اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوۡا عَہۡدًا نَّبَذَہٗ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ﴿۱۰۰﴾

۱۰۰۔ کیا ( ایسا نہیں ہے کہ) ان لوگوں نے جب بھی کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے اٹھا پھینکا، بلکہ ان میں سے اکثر تو ایمان ہی نہیں رکھتے۔


وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۱۰۱﴾۫

۱۰۱۔اور جب اللہ کی جانب سے ان کے پاس ایک ایسا رسول آیا جو ان کے ہاں موجود (کتاب)کی تصدیق کرتا ہے تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا گویا کہ اسے جانتے ہی نہیں۔

101۔ یہود و نصاریٰ کو بحیثیت قوم کتاب دی گئی، ورنہ نزول قرآن کے معاصر یہود و نصاریٰ کے پاس توریت و انجیل کا کامل نسخہ موجود نہیں تھا، تاہم اصل توریت و انجیل کا ایک حصہ تحریف شدہ توریت و انجیل میں جا بجا پایا جاتا ہے۔


وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ٭ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَ مَارُوۡتَ ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِہٖ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ وَ لَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ؕ وَ لَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۱۰۲﴾

۱۰۲۔اور سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین جو کچھ پڑھا کرتے تھے یہ (یہودی) اس کی پیروی کرنے لگ گئے حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین کفر کیا کرتے تھے جو لوگوں کو سحر کی تعلیم دیا کرتے تھے اور وہ اس (علم) کی بھی پیروی کرنے لگے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کیا گیا تھا، حالانکہ یہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک اسے خبردار نہ کر لیں کہ (دیکھو) ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں، کہیں تم کفر اختیار نہ کر لینا، مگر لوگ ان دونوں سے وہ (سحر) سیکھ لیتے تھے جس سے وہ مرد اور اس کی زوجہ کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ اذن خدا کے بغیر وہ اس کے ذریعے کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتے تھے اور یہ لوگ اس چیز کو سیکھتے تھے جو ان کے لیے ضرر رساں ہو اور فائدہ مند نہ ہو اور بتحقیق انہیں علم ہے کہ جس نے یہ سودا کیا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور کاش وہ جان لیتے کہ انہوں نے اپنے نفسوں کا بہت برا سودا کیا ہے۔

102۔ سُلَیۡمٰنَ عبرانی لفظ ہے۔ سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے چار فرزندوں میں سے ایک ہیں جو غالباً 990 ق م مبعوث برسالت ہوئے۔

بابل قدیم مملکت عراق کا دار الحکومت تھا۔ یہاں کلدانی قوم آباد تھی۔ خیال ہے کہ ان کی سلطنت 3000 ق م میں موجود تھی۔ بابل جہاں تہذیب و تمدن کا مرکز تھا وہاں جادو کا مرکز بھی تھا۔ دنیا میں خرافات کی ابتداء یہیں سے ہوئی۔ احادیث کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں جادو کا عمل عام ہونے لگا تو آپ علیہ السلام نے ان تمام اوراق و اسناد کو ضبط کر لیا جن پر جادو تحریر تھا۔ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد کچھ افراد ان تحریروں کو منظر عام پر لے آئے۔ اس طرح یہودی، وحی الٰہی کی اتباع کی بجائے سفلی علوم کے شیدائی بن گئے، یہودیوں کے ایک فرقے نے یہ نظریہ قائم کیا کہ سلیمان علیہ السلام پیغمبر نہیں تھے بلکہ انہوں نے جادو کے ذریعے جن و انس کو مسخر کر لیا تھا۔ اس زعم باطل کے جواب میں فرمایا: وَ مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ

ہاروت اور ماروت دو فرشتوں کے غیر عربی نام ہیں جنہیں ابطال سحر کے لیے انسانی صورت میں بابل بھیجا گیا تھا تاکہ لوگوں میں جادو اور معجزے کا فرق واضح کرنے کے لیے جادو کے مخفی اسباب کو برملا کریں۔ یہودیوں نے یہاں بھی سوء استفادہ کیا اور ان اسباب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔