آیات 1 - 5
 

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

سورۃ المطففین

ابن عباس کی روایت کے مطابق جو نسائی اور ابن ماجہ نے ذکر کی ہے، یہ سورہ مدنی ہے۔لیکن ابتدائی آیات مدنی ہو سکتی ہیں۔ اس پر خود آیت کے سیاق میں دلیل موجود ہے اور اس سورہ کے باقی مضامین مکی زندگی سے مربوط ہیں۔

چنانچہ ابو الجارود نے حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے:

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچے تو دیکھا لوگ ناپ تول میں بہت زیادہ کمی بیشی کرتے ہیں۔ آیت کے نازل ہونے کے بعد ناپ تول کی حالت بہتر ہو گئی۔ (البرھان ۵: ۲۰۴)

ان آیات میں انسان کی معاشرتی زندگی میں پیش آنے والی ناانصافیوں اور حق تلفیوں کے ذکر کے ساتھ عدل و انصاف کی ضرورت کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان آیات سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ اسلام صرف عبادت کا مذہب نہیں بلکہ عدل وانصاف پر مبنی ایک جامع نظام حیات پیش کرتا ہے۔

روئے زمین پر انسان کی معیشت اور دیگر امور زندگی کا بیشتر حصہ تجارت کے ساتھ مربوط ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے متعدد مقامات پر ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت ممانعت کی ہے۔ ملاحظہ ہو آیات سورہ انعام آیت ۱۵۲، سورہ بنی اسرائیل آیت۳۵، سورہ رحمن آیت ۸۔ ۹

حدیث نبوی ہے:

الرِّزْقُ عَشَرَۃُ اَجْزَائٍ تِسْعَۃُ اَجْزَائٍ فِی التِّجَارَۃِ وَ وَاحِدَۃٌ فِی غَیْرِھا۔ (الکافی۵: ۳۱۸)

رزق کے دس اجزاء ہیں۔ ان میں سے نو اجزا تجارت میں ہیں باقی ایک جز دیگر چیزوں میں ہے۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾

۱۔ ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔

الَّذِیۡنَ اِذَا اکۡتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسۡتَوۡفُوۡنَ ۫﴿ۖ۲﴾

۲۔ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا تولتے ہیں،

وَ اِذَا کَالُوۡہُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمۡ یُخۡسِرُوۡنَ ﴿ؕ۳﴾

۳۔ اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم کر دیتے ہیں۔

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ ۙ﴿۴﴾

۴۔ کیا یہ لوگ نہیں سوچتے کہ وہ اٹھائے جائیں گے،

لِیَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ۙ﴿۵﴾

۵۔ ایک بڑے دن کے لیے؟

تشریح کلمات

طفیف:

( ط ف ف ) کے معنی حقیر اور تھوڑی سی چیز کے ہیں۔ اسی سے ناقابل اعتنا چیز کو طفافہ کہا جاتا ہے۔

اکۡتَالُوۡا:

( ک ی ل ) الکیل کے معنی غلّہ ناپنے کے ہیں۔ کِلْتُ میں نے غلہ ناپ کر دیا۔ اکتلت علیہ کے معنی ہیں میں نے اس سے ناپ کر لیا۔

وَیۡلٌ:

( و ی ل ) کے لغوی معنی حسرت و رسوائی کے ہیں۔ کہا جاتا ہے ویل جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازے کا نام ہے۔ چنانچہ قرآن کریم یہ لفظ ان لوگوں کے بارے میں اکثر استعمال فرماتا ہے جو جہنمی ہیں۔ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ مَّشۡہَدِ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ۔ (۱۹ مریم: ۳۷) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:

وَ لَمْ یَجْعَلِ الْوَیْلَ لِاَحَدٍ حَتَّی یُسَمِّیَہُ کَافِراً۔۔۔۔ (الکافی ۲:۱ ۳)

ویل کسی کے لیے قرار نہیں دیا گیا جب تک اسے کافر نہ کہا ہو (پھر مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی)۔

تفسیر آیات

۱۔ وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ: ان لوگوں کے لیے وَیۡلٌ ہے جو دوسروں سے لینا ہو تو پورا لیتے ہیں اور دوسروں کو دینا ہو تو کم کر کے دیتے۔

اس میں مقدار یا صفات میں کمی کرنا، سب شامل ہیں۔ چنانچہ دوسروں سے لینا ہو تو عمدہ لیتے ہیں اور دوسروں کو دنیا ہو تو گھٹیا مال دیتے ہیں یا دوسروں سے لینا ہو تو خالص لیتے ہیں اور دوسروں کو دینا ہو ملاوٹ کا مال دیتے ہیں۔ ہمارے زمانے کے محاورے کے مطابق، دوسروں سے لینا ہو تو نمبر ایک لیتے ہیں اور دوسروں کو دینا ہو تو نمبر دو دیتے ہیں۔

۲۔ اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ: کیا یہ لوگ عقیدہ اور ایمان نہیں رکھتے کہ انہیں کل قیامت کے دن حساب دینے کے لیے اٹھایا جائے گا؟ یہ سوالیہ بتاتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سوال ان لوگوں سے ہے جو روز حساب پر ایمان لاتے ہیں۔ ان سے سوال ہے ایسا لگتا ہے تو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتے۔


آیات 1 - 5