آیت 2
 

قَدۡ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمۡ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ﴿۲﴾

۲۔ اللہ نے تمہارے لیے قسموں کے کھولنے کے واسطے (حکم) مقرر کیا ہے، اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔

تشریح کلمات

فَرَضَ:

( ف ر ض ) الفرض سخت چیز کے کاٹنے اور اس پر نشان ڈالنے کو کہتے ہیں۔ نصیبا مفروضا میں مقرر شدہ کے معنوں میں ہے۔ وقد فرضتم لھنّ فریضۃ میں بھی مقرر کرنے کے معنوں میں ہے۔ اس آیت میں بھی مقرر کے معنوں میں ہے۔

تَحِلَّۃَ:

( ح ل ل ) مصدر ہے حللّ کا۔ غیر قیاسی ہے۔ قیاسی مصدر التحلیل ہے۔

تفسیر آیات

۱۔ قَدۡ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمۡ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمۡ: اللہ نے تمہاری قسموں کے کھولنے کے لیے حکم مقرر کیا ہے جیسا کہ سورہ مائدہ آیت ۸۹ میں مذکور ہے۔ اس جملے سے دو باتوں کا اشارہ ملتا ہے۔ اول یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھا کر اس امر کو اپنے اوپر حرام کیا تھا۔

دوم یہ کہ قسم کھانے کی صورت میں قسم سے نکلنے کا راستہ بھی اللہ نے مقرر فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں روایت ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ کے کسی عمل پر برہم ہوئے اور قسم کھائی کہ اسے سو کوڑے ماریں گے۔ بعد میں وہ بے گناہ ثابت ہوئی تو پریشاں ہوئے۔ اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ سو تنکوں والا ایک جھاڑو اسے مارو کہ تمہاری قسم نہ ٹوٹے اور اسے تکلیف بھی نہ ہو۔ قرآن مجید میں اس بات کی طرف اشارہ ہے۔

وَ خُذۡ بِیَدِکَ ضِغۡثًا فَاضۡرِبۡ بِّہٖ وَ لَا تَحۡنَثۡ۔۔۔۔ (۳۸ ص: ۴۴)

اپنے ہاتھ میں ایک گچھا تھام لیں اور اسی سے ماریں اور قسم نہ توڑیں۔

یہاں قسم کھولنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا گیا؟ آراء و روایات مختلف ہیں۔

i۔ ایک رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھائی تھی- بحکم خدا کفارہ دے کر قسم کھول لی۔

ii۔ دوسری رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم پر بھی کفارہ نہیں ہے۔

iii۔ تیسری رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم نہیں کھائی تھی، وعدہ کیا تھا اور وعدے کا پورا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر واجب ہے۔

iv۔ چوتھی رائے یہ ہے کہ فَرَضَ سے مراد یہ ہے کہ قسم سے نکلنے کے لیے استثنا کا حکم دیا جائے۔ یعنی قسم کھانے کے بعد ان شاء اللّٰہ کہے تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔ یعنی اگر یہ کہے قسم بخدا یہ کام میں نہیں کروں گا اگر اللہ نے چاہا۔ یہ رائے تفسیر جوامع الجامع نے نقل کی ہے۔

یہاں اس بحث کا کوئی نتیجہ نہیں ہے کہ ایک مستحسن امر کو چھوڑنے پر قسم ہوتی ہے یا نہیں۔ چونکہ اول یہ عملِ رسولؐ ہے ثانیاً قرآن قسم کے کھولنے کا اشارہ فرما رہا ہے۔

۲۔ وَ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ: اللہ تمہارا مولا ہے۔ اللہ کا وضع کردہ حکم تم پر نافذ ہے لہٰذا اس قسم کے حالات میں اللہ نے جو قانون وضع فرمایا ہے وہی تم پر نافذ ہو گا۔


آیت 2